“میرا جسم میری مرضی” حمل گرانے میں اچانک اضافہ

شیئر کریں:

تحریر حافظ صدیق جان

عورت مارچ کے نام پر خواتین کا ایک طبقہ خاص ایجنڈے پر چل رہا ہے۔
یہ سرکش عورتیں مادر پدر آزاری کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار ہیں۔
عورت مارچ کوئی نئی بات نہیں گزشتہ سال مارچ میں لگنے والوں نعروں کی آج بھی گونج سنائی دے رہی ہے۔
“میرا جسم میری مرضی”
“کھانا میں گرم کردوں گی بستر خود گرم کرو”

“عورت بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں “

لو بیٹھ گئی ٹھیک سے وغیرہ وغیرہ ۔۔

اس سال عورت مارچ شروع ہونے سے پہلے گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔

ٹاک شوز میں بیٹھ کر ماروی سرمد جسی لبرل عورتیں سرعام میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا رہی ہیں۔

خلیل الرحمن قمر کے پیغام میرا جسم میری مرضی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کی مرضی چلانا چاہتی ہیں؟ اور معاشرے کی بچیوں کو کیا سیکھا رہی ہیں؟
کیا ہمارے معاشرے میں عورت کو کوئی آزادی نہیں؟
کیا ان کو حقوق نہیں ملتے؟
میرا خیال ہے ہمارے معاشرے میں عورت کو مرد سے زیادہ عزت دی جاتی ہے اور اسی عزت کو ناجائز استعمال کرتے ہوئے وہ سٹرکوں پر نکل کر عزت گنوا رہی ہے۔
چلیں اگر آپ برطانیہ یا یورپ کی عورت کی مثال بننا چاہتی ہیں تو وہی بات کر لیتے ہیں۔
کیا آپ چاہتی ہیں کہ برطانیہ کی طرح پاکستان میں بھی 16 سال سے کم بچیاں حاملہ ہوں اور 1 فیصد بچیاں اپنا حمل گرایں؟

مزید پڑھیں: حمل گرانے کے واقعات میں اچانک اضافہ

کیا آپ چاہتی ہیں کہ ملک کی 23 فیصد خواتین ناجائز بچوں کو گرائیں؟ کیا آپ چاہتی ہیں 18 سال عمر والی آدھی سے زائد خواتین حمل گرائیں؟
اگر ان سب سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو آپ ذہنی پستی کا شکار ہیں اور اگر آپ ان سب سے انکاری ہیں اور پھر بھی عورت مارچ کی حامی ہیں تو آپ سے بڑا دوغلہ کوئی نہیں ۔
میرا خیال ہے کہ عورت مارچ جان بوجھ کر ملک کے معاشرتی نظام کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین سرکش ہیں۔ یہ بیرونی ایجنڈے پر چلتے ہوئے معاشرے کو تباہ کر رہی ہیں۔
اگر خواتین کی عزت دیکھنا ہو تو پاکستان معاشرے میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے جہاں بہن کے تحفظ کے لیے بھائی، بیوی کو پیار کے لیے شوہر اور ماں کو عزت دینے کے لیے ایک بیٹا موجود ہوتا ہے۔
کوئی بھی مشکل کام ہو مرد ہمیشہ خواتین کا سہارا بنتے ہیں۔
جو کہتا ہے ہمارے معاشرے میں خواتین کو آگے آنے نہیں دیا جارہا وہ شاید فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو اور ارفہ کریم سیمت ہزاروں ایسی خواتین کو بھول گئے ہیں جو پاکستان کی پہچان ہیں۔
میں نہیں سمجھتا ماروی سرمد یا دیگر سٹرکوں پر نکلنے والی دوٹکے کی خواتین محترمہ فاطمہ جناح یا بے نظیر بھٹو سے بڑھ کر عورتیں کے لیے مشعل راہ ہوسکتی ہیں۔
آخر میں معاشرے کی تمام عورتوں کو مشورہ دوں گا کہ اپنی نوجوان نسل کو ان سرکش عورتوں سے بچائیں۔
اگر مرد کو گالی ہی دینی ہے تو سٹرکوں پر نکلنے کی بجائے اپنے گھروں میں موجود باپ، بھائی اور خاوند کو گالی دیں۔


شیئر کریں: