“قیدی کو واپس لانے” کا ڈرامہ اور مریم نواز کی خفیہ سرگرمیاں

شیئر کریں:

رپورٹ : علیم عُثمان

ٹھیک ایک ہفتہ قبل ، گزشتہ بدھ کو جب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کا صدر دروازہ مسلم لیگ (نون) کے مرکزی رہنما ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی رہائی کے لئے کھولا جارہا تھا ،

“نوُن لیگ” ہی کے ایک دوسرے مرکزی رہنما ، قومی اسمبلی میں قائمقام قائد حزب اختلاف خواجہ آصف اسلام آباد سے ہنگامی طور پر لندن کے لئے اڑان بھر رہے تھے ،

جنہوں نے ذرائع کے مطابق لندن میں مقیم پارٹی کی اعلیٰ قیادت شریف سے جا کر شکوہ کیا “آپ نے تو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا کردار میں ادا کروں گا اور پاکستان میں آپ لوگوں کی غیر موجودگی میں عملاً پارٹی کی قیادت کروں گا لیکن اب میری جگہ شاہد خاقان کو میدان میں اتارا جارہا ہے

” تاہم ذرائع کے مطابق خواجہ آصف شریف برادران ، بالخصُوص پارٹی صدر شہبازشریف کے سامنے رونا دھونا کر کے”خالی ہاتھ” وطن واپس آگئے ہیں

کیونکہ شہباز شریف خود سخت مایوسی  کا شکار اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں جو اپنی بوڑھی والدہ کی بھرپور”سفارش” کے باوجود اپنے ھم خیال چوہدری نثار علی خاں کی پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کروانے تک میں کامیاب نہیں ہوپائے .

“نوُن لیگ” کی اعلیٰ قیادت یعنی پارٹی قائد نوازشریف نے اپنی صاحبزادی ، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے نامزد کردہ “مجوزہ” اپوزیشن لیڈر ، پارٹی کے سینیٹر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو جیل سے باہر آتے ہی بھرپور انداز میں “ری لانچ” کردیا ہے

جنہوں نے رہا ہونے کے فوری بعد یہاں جاتی عمرہ جا کر مریم نواز سے ملاقات کی اور پھر پورا ہفتہ مختلف ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر مسلسل نمودار ہو کر شہبازشریف گروپ کو ٹی وی سے بھی “آؤٹ” کردیا ہے.

اسی اثناء میں ایسی خبریں بھی چلنا شروع ہوگئی ہیں کہ شہباز شریف کی کم از کم 3 ماہ تک پاکستان واپسی کا کوئی امکان نہیں .

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لندن میں مقیم “جلاوطن” قائد ، سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان میں اپنے ہم خیال گروپ کے ذریعے اپنی پارٹی کو ایک بار پھر عملا” ٹیک اوور کرلیا ہے اور مخالف” مائنڈ سیٹ” کے حامل “شہبازشریف گروپ ” کو پارٹی کی عملی قیادت کے منظر نامے سے” آؤٹ “کر کے رکھ دیا ہے .

ادھر وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے” نوازشریف کو واپس لانے کی کوششوں” کا ڈرامہ رچاتے ہوئے در حقیقت لندن میں قیام پذیر” شریف برادران” کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے .

حکومت کی طرف سے جہاں ایک طرف وزارت داخلہ کی بجائے وزارت خارجہ سے برطانوی حکومت کو ایک چٹھی لکھوا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے یہ سوانگ رچایا جارہا ہے کہ عمران خان کی سویلین حکومت نوازشریف کو واپس پاکستان لانے کی سنجیدہ کوشش کررہی ہے

وہاں دوسری طرف ڈائریکٹر جنرل FIA واجد ضیاء کی قیادت میں ایف آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم لندن بھجوائی گئی ہے جو نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے ثبوت و شواہد برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو فراہم کرے گی.

سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا پاکستان سے باہر رہنا ہی عمران خان کی حکومت سمیت مقتدر قوتوں کو suit کرتا ہے اور “قیدی کو وطن واپس لانے کی کوششوں” کا ناٹک محض ایک trap ہے البتہ واجد ضیاء کی زیر قیادت ایف آئی اے ٹیم کا “لندن مشن” شریف فیملی کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے اسے دباؤ میں لانے کی ایک نئی سنجیدہ کوشش ہے .

سابق وزیراعظم کی  اور پارٹی قیادت کے حوالے سے پارٹی صدر شہبازشریف کی واحد حریف مریم نواز کے گروپ نے پاکستان میں عملاً پارٹی کی کمان سنبھال لی ہے ،

خود مریم نواز گزشتہ کچھ عرصے سے بھرپور طور پر متحرک ہوچکی ہیں جن کی درپردہ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آچکی ہے . مریم نواز پنجاب سمیت ملکی سیاسی منظر نامے میں کسی ممکنہ تبدیلی سے متعلق سیاسی جوڑ توڑ کے لئے پوری طرح سرگرم اور پی ٹی آئی کی
حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف بتائی جاتی ہیں  . ذرائع کے مطابق مریم نواز نے حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں موجود حکمران جماعت پی ٹی آئی کے پریشر گروپ کے اراکین سے خفیہ ملاقات کی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے مریم نواز کی یہ ملاقات جاتی عمرہ کی بجائے کسی خفیہ مقام پر ہوئی ہے  . .

یوں اقتدار و اختیار کے ان مراکز کے لئے مریم نواز کا پاکستان میں رہنا زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے جن کی ترجمانی وفاقی وزیر شیخ رشید نے ان الفاظ میں کی تھی “مریم کی خاموشی خطرناک ہے” مریم نواز اپنی اس “خاموش سیاست” ہی سے مقتدر حلقوں کو اس بات پر مجبور کرے گی کہ اسے بھی ملک سے باہر بھجوا دیا جائے .

” نوُن لیگ” کے صدر شہبازشریف نے مقتدرہ قوتوں کے ساتھ مبینہ “ڈیل” کے تحت جن شرائط پر بڑے بھائی اور پارٹی قائد نواز شریف کو پاکستان سے باہر چلے جانے اور پھر جنرل باجوہ کی توسیع کے لئے درکار قانون سازی کی غیر مشروط حمائت پر آمادہ کیا تھا

ان میں سے آخری شرط پوری کروانے کے حوالے سے وہ اب تک “ڈلیور” نہیں کر پائے اور یوں اپنے اور اپنے بیٹے حمزہ شہباز سمیت اپنے ھم خیال گروپ کے لئے ملکی سیاست میں روشن امکانات پیدا کرنے کی بابت شہبازشریف کی ساری بھاگ دوڑ ایک جواء ثابت ہوئی ہے .

شہباز شریف نے مقتدر حلقوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ “این آر او” کے تحت نوازشریف کو یقین دلایا تھا کہ جنوری تک مریم نواز بھی والد کے پاس لندن میں ہوں گی ،

یہی وہ آخری اور اکلوتی شرط تھی جس کے بدلے میں پارٹی قائد نواز شریف نے بھی اپنے بیانیہ کی قربانی کا جواء کھیلتے ہوئے آرمی چیف کو مزید 3 سال تک عہدہ پر رکھنے سے متعلق ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کا “مشکل” فیصلہ کیا تھا ،

یہاں تک کہ پارٹی کے چند مرکزی رہنماؤں کو لندن طلب کر کے ان سے ایک ماہ پیشگی اس بارے لب کشائی نہ کرنے کا قرآن پر خفیہ حلف لیا تھا .


شیئر کریں: