عراق میں امریکی اڈے پر پھر میزائل حملہ

شیئر کریں:

عراق میں جنرل قسم سلیمانی کی شہادت کے بعد سے امریکی فوج کے اڈوں پر حملوں کا سلسلہ جنوری سے جاری ہے۔
اس مرتبہ صلاح الدین صوبہ میں فوجی اڈے پر میزائل داغا گیا ہے۔
میزائل حملے کے فوری بعد امریکا کے جنگی طیاروں نے فوجی اڈے پر پروازیں بھی کیں۔
پچھلے ہفتہ بغداد اور موصل میں بھی امریکی اڈوں پر میزائل داغے گئے تھے۔
ان حملوں میں کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیاہے۔
اس کے ساتھ ہی کسی گروپ نے حملے کی زمہ داری بھی قبول نہیں کی۔
جنرل قاسم کی شہادت پر ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں امریکی اڈے پر بارہ میزائل داغے تھے۔
فضا میں ہی میزائل ناکارہ بنانے والا دنیا کا مہنگا ترین سسٹم ایران کا حملہ ناکام نہیں بنا پایا۔
امریکا نے حملے میں کسی جانی و مالی نقصان کی تردید کی لیکن پھر کچھ وقت کے بعد 17 پھر 34 اور پھر 100 سے زائد فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی۔
کئی فوجیوں کا ان بھی جرمنی میں علاج جاری ہے۔
آپ کو یاد ہو گا رواں سال کے اوائل میں 3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں ڈرون حملے سے انتہائی اہم حدف کو نشانہ بنایا تھا۔
اس حملے میں ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس شہید ہوئے تھے۔
ان کے ساتھ 6 اور ساتھی بھی مارے گئے تھے۔
جنرل قاسم سلیمانی دنیا بھر کے انتہائی زیرک اور بہادر جنرل تصور کیے جاتے تھے۔
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ی کے بعد ان کا دوسرا نمبر تھا۔
جنرل سلیمانی نے عراق، شام اور یمن کی جنگی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
کہتے ہیں داعش کو شکست دینے اور بشار الاسد کو ہاری ہوئی جنگ جتوانے میں ان کی حکمت کا کلیدی کردار رہا ہے۔
جنرل سلیمانی کے کارناموں کے دوست تو کیا دشمن بھی معترف رہے ہیں۔
عراق کی پارلیمنٹ نے امریکی حملے کو ملکی خود مختاری پر حملہ قرار دیا تھا۔
عراق کی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلا کے ایک قرار داد کے ذریعے اتفاق رائے سے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنی فورسز کا انخلا کرے۔


شیئر کریں: