اب صرف مصنوعی خوراک ملے گی

شیئر کریں:

غریب ترین ملکوں سے لے کر امیر ترین تک کوکھانے کی فکر کھائے جا رہی ہے ۔

اب سائنسدانوں نے فصلوں اور گوشت کی قلت کا انوکھا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔

سبزی،،گوشت آئس کریم، بسکٹ اور چٹنیوں تک میں بیکٹیریا سے تیار کی جانے والی مصنوعی خوراک شامل کرکے مسئلہ حل کر لیا جائے گا ۔

خوارک کے بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اسے مصنوعی گوشت یا مچھلی کی نشونما کے ایک مرحلے کے دوران بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لیے مویشیوں کی خوراک کے طور پر بھی سویا کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
پروٹین کی شکل میں موجود یہ خوراک مٹی میں موجود بیکٹیریا سے بنائی جاتی ہے۔

یہ بیکٹیریا، ہائیڈروجن گیس پر پلتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی شمسی توانائی یا پون توانائی سے حاصل کی جائے تو اس خوراک کو تقریباً بغیر کسی زہریلی گیس کے اخراج کے تیار کیا جا سکتا ہے۔

سولین کہلانے والے پروٹین کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں ہوگا تاکہ اسے آسانی سے دوسری خوراک کے ساتھ ملایا جا سکے۔

نیا بھر کی ضرورت پورا کرنے کے لیے اس کی مطلوبہ مقدار پیدا کرنے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔
اس منصوبے پر کام کرنے والی فن لینڈ کی اس کمپنی کے سربراہ پاسی وینیکا
کا کہنا ہے کہ خوراک کی اس ٹیکنالوجی کا آئیڈیا 1960 کی دہائی میں اس وقت سامنے آیا تھا جب خلائی صنعت فروغ پا رہی تھی۔انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ منصوبے کے مطابق پہلی فیکٹری
2025 میں قائم ہو جائے گی۔


شیئر کریں: