خیبر پختونخواہ میں پولیو کے مزید کیس سامنے آگئے

شیئر کریں:

خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ خوف کی علامت بنتا جارہا ہے۔
صوبہ بلوچستان اور پختونخواہ میں پولیو سے متاثرہ بچوں کے مزید 5 کیس سامنے آچکے ہیں۔

5 میں سے 4 بچوں کا تعلق لکی مروت اور ایک کا بلوچستان کے علاقے پشین سے ہے۔

پولیو کنٹرول پروگرام کے مطابق روان سال پختونکواہ میں پولیو کیسسز کی تعداد 10 ہو کی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دس میں سے 9 کیسسز صرف لکی مروت سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے بے شمار مہم چلائی گئی اور رواں ماہ کی 17 تاریخ سے پھر مہم شروع کی جارہی ہے۔

اس کے باوجود پولیو وائرس ختم ہونے کے بجائے پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے۔ پولیو وائرس پر عدم کنٹرول کا معاملہ گزشتہ دنوں سینیٹ میں بھی اٹھایا گیا۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے پولیو پر سابق فوکل پرسن بابر بن عطا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پولیو کا ٹائپ ٹو وائرس ملک میں واپس لائے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا تھا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا سے پولیو ختم کرنے کے دعوے کیے تھے لیکن اس کے برعکس آئے روز نئے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

ملک میں پولیو کے کیسز پر سخت تشویش ظہار کرتے ہوئے سینیٹر سسی پلیجو نے کہا تھا پاکستان میں پولیو کیسز میں آے روز اضافہ والدین میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔


شیئر کریں: