دہلی میں ہار جانے والی مودی کی BJP لاہور آگئی؟

BJB Indian party arrives in Lahore Wagah border
شیئر کریں:

کیا انتہاپسندی کا بیانیہ اس وقت واہگہ بارڈر کے آر پار سڑکوں پہ دندنا رہا ہے؟

یہ سوال پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستانی سماج میں بھی تیزی سے بڑھتی انتہاپسندی اور شدت پسندی کے رجحان نے جنم دیا ہے.

جس کو تقویت ایک روز قبل ایک حکومتی رکن قومی اسمبلی کی طرف سے ایوان میں پیش اور منظور کروائی گئی.

ایک قرارداد سے ملی یہ اس قدر خطرناک move تھی کہ اس عمل کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر اندر وفاقی وزراء کے مابین “مائنڈ سیٹ” اور بیانیے کی جنگ چھڑ گئی .

ایک طرف برسراقتدار “پاکستانی BJP” کے اہم تنظیمی عہدے دار سڑکوں بازاروں میں کالعدم TTP کی شدت پسند سوچ کی بنیاد والے بیانیے کا پرچار کرتے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف وفاقی وزیر پوری قوم کے نمائندہ منتخب ایوان میں اسی سوچ کو کھلے عام بڑھاوا دیتے نظر آتے ہیں .

لاہور کی سڑکوں پر ، برسراقتدار جماعت “تحریک انصاف” کے پرچم میں سجا کر بکھیری جانے والی فکری آلودگی کی صورت میں کیا.

“مطالعہ پاکستان” کے اثرات سامنے آرہے ہیں ، صورتحال نے یہ سنگین سوال اٹھا دیا ہے جو اہل فکر و دانش اور سوسائٹی کے سنجیدہ حلقوں کےلئے یقینا” باعث تشویش ہے

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ھوا بلکہ یہ بار بار ھوا ھے نصاب میں بھی یہی پڑھایا گیا ھے سڑکوں پر لگے بینروں میں بھی دیکھا ھے اور سیاسی اور مذھبی رھنماوں کی تقریروں میں بھی سنتے آئے ہیں.

یہ جو کچھ پاکستان تحریک انصاف ، لاہور کے جنرل سیکریٹری میاں محمد اکرم عثمان نے لاہور کی سڑکوں پر کر دکھایا ھے یہ ایک مکمل بیانیہ ہے جس کی باقاعدہ کئی دھائیوں سے ترویج کی گئی ہے.

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ھے کہ تعصب بھرے پوسٹر میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر بھی لگائی گئی ھے جن کی سوچ اور ویژن قطعی مختلف تھا.

میاں محمد اکرم عثمان اور ان جیسے مطالعہ پاکستان سے متاثرہ افراد کو فکری تربیت کی ضرورت ھے مگر.

ان کی فکری تربیت اب کیسے کی جاسکتی ہے کہ یہ تو جس اسکول سے پڑھ کے نکلے ہیں وہ تو خود قیام پاکستان سے قبل سے ہی لوگوں کی فکری تربیت میں سرگرم ھے اور فکر ھے بنیاد پرستی ، تنگ نظری اور شدت پسندی !

مطلب یہ جماعت اسلامی کے ماحول میں پرورش پا کے جوان ہوئے ہیں ، ان کے والد میاں محمد عثمان لاہور کے علاقے اچھرہ سے جماعت اسلامی کے منتخب ایم این اے رہے ہیں ، لہٰذا اب ان کی فکری تربیت کون کرسکتا ہے.

مزید پڑھیں:نئی دہلی اسمبلی انتخابات میں مودی پالیسیوں کے خلاف آج ووٹنگ

یہ فکر اور یہی نظریاتی پس منظر رکھنے والے متعدد افراد اس وقت نہ صرف برسراقتدار پی ٹی آئی کی صفوں بلکہ اہم تنظیمی و حکومتی عہدوں پر موجود ہیں ، اور اپنے “نظریاتی جہاد” کے تحت اس پارٹی کو پاکستان کی “بی جے پی” بنانے پر مامور دکھائی دیتے ہیں.

کوئی “آدھے پاکستان” یعنی ملک  کے سب سے بڑے صوبے میں اطلاعات و ثقافت کی وزارت پر براجمان ہے تو کوئی مرکزی کابینہ میں ہوتے ہوئے اپنا اساسی فکری ایجنڈا رائج کرنے کے لئے کوشاں ہے.

اگرچہ ماضی میں ان کے اساسی “تربیتی کیمب” نے اسی BJP کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی کی اسی لاھور میں آمد پر شہر کی تاریخ کا بدترین احتجاج کیا تھا مگر آج یہ عناصر PTI میں شامل ہوکر اسے عصر حاضر کی “پاکستانی بی جے پی” بنانے میں لگے ہیں.

مزید پڑھیں:کامریڈ انیس ہاشمی جنگ آزادی کا گمنام ہیرو

اور لگے بھی کیوں نہ ہوں کہ جس پارٹی میں انہیں” گھسایا” گیا ہے اس کے “سرپرستوں” اور گزشتہ عام انتخابات سے قبل اس پارٹی کو دوسری سیاسی جماعتوں سے بندے توڑ توڑ کے بھرنے والوں کا تو اپنا survival اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ ممکن ہے.

اور انہی کی مبینہ ایماء پر تو واجپائی کی آمد پر لاہور میں وہ بدترین ہنگامہ اور احتجاج برپا کیا گیا تھا.

اس لئے کہ اس وقت انڈیا کی دائیں بازو کی اس سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بطور وزیراعظم ھندوستان ایک لبرل initiative کے ساتھ کھلے اور روشن خیال بھارتی ذہن کی علامت بن کے آیا تھا

مزید پڑھیں:کل کی اداکارہ اور آج کی کامیاب کاروباری شخصیت ثمن عابد

ان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ھندو صرف ھندوستان میں نہیں رہتے بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے بے شمار ممالک میں آباد ہیں.

آپ بھارت دشمنی یا مودی اور چند انتہاپسند ہندووں کی وجہ سے تمام ہندووں کو گالی نہیں نکال سکتے یا ھندو دھرم پر انگلی نہ اٹھائیں.

یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ جیسے آپ اپنے مذہب سے پیار کرتے ہیں اسی طرح ہر کوئی اپنے مذہب کے بارے میں حساس ہو سکتا ہے.

یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ لاکھوں  ہندو پاکستان میں آباد ہیں جو کہیں سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ اس دہرتی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور جب اس طرح کا گند وہ پڑھتے اور دیکھتے ہیں تو ان کے جذبات کو کس قدر ٹھیس پہنچتا ہے.

تحریر : علیم عُثمان


شیئر کریں: