زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے والا قرضہ گلے پڑگیا‬

شیئر کریں:

‎‫حکومت کی طرف سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے غیر ملکیوں سے لیا گیا مہنگا ترین قرض 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ‬

‎‫مقامی ضروریات کے لیے ڈالروں میں قرض پر عالمی مارکیٹ کے مقابلے تین سے چار گنا زیادہ سود ادا کیا جا رہا ہے۔‬

مزید پڑھیئے:قرضہ میں زیادہ اور زرمبادلہ میں کم اضافہ

‫اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے دوران اب تک ٹی بلز اور انوسٹمنٹ بانڈز کی فروخت کے ذریعے غیر ملکیوں سے مجموعی طور پر 3 ارب 4 کروڑ 55 لاکھ ڈالر قرض لے چکی ہے۔‬

‎‫زیادہ قرض تین سے بارہ ماہ کی مدت کے لیے لیا گیا اور ان پر منافع کی اوسط شرح 13 فیصد سے زیادہ ہی بنتی ہے۔‬

مزید پڑھیئے:زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 66 کروڑ ڈالر کا اضافہ

‎‫اقتصادی ماہرین کے مطابق غیر ملکیوں کی طرف سے پاکستانی بانڈز کی خریداری شرح سود خطے میں سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے،، ان کو عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ منافع مل رہا ہے۔‬

‎‫پاکستانی حکام ان ڈالرز کو زرمبادلہ کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی شامل کر کے زرمبادلہ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافے کا کریڈت لے رہے ہیں۔‬

‎‫اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ ہاٹ منی ہے کسی بھی وقت اکانومی سے نکل سکتی ہے۔

‎‫ماہر اقتصادیات ٹی بلز کی فروخت کے ذریعے قلیل مدتی غیر ملکی قرض لینے کی پالیسی کو ملک کے خطرناک قرار دے چکے ہیں۔‬

‎‫ان کے مطابق پاکستان کے معاملے میں اس قسم کے قرض کا فائدہ بہت کم لیکن امکانی خطرات بہت زیادہ ہیں۔


شیئر کریں: