پاکستان میں جان لیوا کورونا کا وجود نہیں –

پاکستان میں جان لیوا کورونا
شیئر کریں:

سینٹ میں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں ابھی تک کورونا وائرس کے کسی
کیس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اگر کورونا وائرس آگیا تو اس سے نمٹنے کے لئے ایک اعلی سطح کی ٹاسک فورس تشکیل دےدیگئی ہے۔

مزید پڑھیئے:پمز اسپتال میں مزید چھ کرونا وائرس کے مشتبہ مریض پہنچ گئے

ائیر پورٹس پر سنٹرز میں خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ قائد ایوان شبلی فراز نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پروازیں بحال کردی گئی ہیں۔

تمام ایئرپورٹ پر قائم ہیلتھ ڈیسک مسافروں کی اسکریںننگ کر رہے ہیں ۔تمام اسپتالوں میں
ہیلتھ یونٹ اور آئسولیشن روم بنائے گئے ہیں۔

این آئی ایچ نے کورونا کی ڈائیگناسٹک ٹیسٹنگ شروع کردی ہے۔

مزید پڑھیئے:پاکستان نے کورونا وائرس تشخیص کی صلاحیت حاصل کرلی

چین میں 31 ہزار افراد کرونا وائرس کی تشخیص اور 6 سو سے زائد اموات ہوئیں۔

مشاہداللہ خان ،جاوید عباسی ،عثمان کاکڑ اور دیگر اراکین نے وائرس پر چین کے ساتھ اظہار
یکجہتی کیا اور امید ہے جلد اد بیماری سے نمٹا جاۓ گا۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے بتایا کہ گڈ گورننس کی وجہ سے پی آئی اے کے مالی خسارےاور اخراجات میں کمی اور آمدن میں اضافہ ہوا۔

ایس ای سی پی نے پی آئی اے کو دیوالیہ ہونے والے اداروں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

غیر آڈٹ اعدادوشمار کے مطابق پی آئی اے کو 2019 میں 11ارب کا خسارہ ہوا۔سینیٹ میں
فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی توثیق بل 2020 وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے
پیش کیاچئیرمین نے یہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

سینیٹ اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


شیئر کریں: