عرب ممالک میں القاعدہ کا لیڈر قاسم الریمی مارا گیا

القاعدہ کا لیڈر قاسم الریمی
شیئر کریں:

عرب ممالک میں القاعدہ کا نیٹ ورک بنانے والا قاسم الریمی یمن میں مارا گیا۔

قاسم امریکی فورسز کی بڑی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قاسم الریمی کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

قاسم الریمی پر بڑی تعداد میں امریکیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ قاسم نے ہی عرب ممالک میں القاعدہ کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیئے:انتہاپسندی الزام، 12 سعودی کیڈٹس کو امریکا سے بے دخل کا فیصلہ

قاسم الریمی کی ہلاکت گزشتہ ماہ اس وقت ہوئی تھی جب امریکا کے ڈرون طیاروں نے
یمن کے مشرقی علاقے میں القاعدہ کی پناہ گاہ کو نشانہ بنایا۔

اس حملے میں کئی لوگ مارے گئے تھے ان ہی میں ایک قاسم الریمی بھی تھا۔

مزید پڑھیئے:طالبان حملے تیز، امریکیوں سمیت درجنوں افغان فوجی ہلاک

تصدیق کے بعد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ کے ذریعے امریکی قوم کو
مبارک باد دی کہ ان کا ایک اور دشمن مارا گیا ہے۔

گزشتہ سال 6 دسمبر کو امریکی بیس پر امریکا میں فائرنگ واقعہ کی ذمہ داری بھی اسی نے
قبول کرتے ہوئے سعودی عرب کے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

فائرنگ واقعہ کے بعد امریکا نے سعودی عرب کے 21 فوجیوں کو انتہاپسندی، غیر اخلاقی
حرکتوں اور جہادی نظریات کی بنیاد پر بے دخل کر دیا تھا۔

یاد رہے امریکا میں سعودی عرب کے 850 فوجی زیر تربیت ہیں، نیول بیس پر سعودی فوجیوںکی فائرنگ کے بعد تمام افراد کی اسکریننگ بھی کئی اور زیادہ تر کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

امریکا نے القاعدہ کے رہنما کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔


شیئر کریں: