شطرنج کا کھیل ختم : اینٹ سے اینٹ بجانے کا فیصلہ

شیئر کریں:

رپورٹ : علیم عُثمان

معلوم ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے “جلاوطن” شریف خاندان کے ساتھ “معاملہ” کرنے
کی غرض سے در پردہ جاری مذاکرات کا باب بند کرنے اور پاکستان مسلم لیگ (ن)
کی قیادت تبدیل کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں “نُون لیگ”
اور “قاف لیگ” کا ادغام کروایا جائے گا اور اس کے بعد ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن
جماعت مسلم لیگ کو “شریف فیملی” کے “قبضے” سے واگزار کروایا جائے گا ،

مزید پڑھیئے:“نُون لیگ” بچاؤ مشن ،چوہدری نثار کو بالآخر بُلا ہی لیا

اسی طرح اگلے مرحلے میں دوسری بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کو بھی زرداری
خاندان کے قبضے سے “آزاد” کروایا جائے گا اور اس مقصد کے لئے شریف فیملی اور
زرداری فیملی کو سنگین مقدمات میں اس قدر پھنسا دیا جائے گا کہ دونوں خاندان
عملا” اپنی اپنی جماعت کی قیادت چھوڑ دینے پر مجبور ہو جائیں گے.

مزید پڑھیئے:نمبر تبدیل ، کھینچا تانی بڑھ گئی ، لندن اجلاس مؤخر

اس کے ساتھ ہی مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے اپنی اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالنے
کے امکانات ختم کرنے کےلئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے .
اس طرح مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے اندر سے ہی ایک نئی مسلم لیگ اور ایک
نئی پیپلزپارٹی بنائی جائے گی.
ذرائع کے مطابق لندن میں مقیم شریف برادران کے خلاف نئے نیب ریفرنس دائر کئے جانے
کا امکان ہے.
دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل
احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کو “نوُن لیگ” کی متبادل قیادت کے طور پر سامنے لایا
جائے گا جو  آرمی ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی کے “ایپی سوڈ” کے وقت سے
پارٹی کی اعلیٰ قیادت بارے شدید تحفظات رکھے ہوئے ہیں .

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتوں نے “نوُن لیگ” کی اس داخلی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
مذکورہ رہنماؤں کو بطور متبادل قیادت ابھارنے کا فیصلہ کیا ھے کیونکہ ان رہنماؤں کو متذکرہ
قانون سازی “ایپی سوڈ” میں” نُون لیگ” کی اعلیٰ قیادت کے “یُوٹرن” سے دلبر داشتہ پارٹی
کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے،
تاہم اس سے پہلے “چوہدری برادران” کی مسلم لیگ (ق) کو واپس مسلم لیگ (نواز) میں
ضم کروایا جائے گا تا کہ شریف فیملی سے مسلم لیگ کا “قبضہ” ختم کروا کے اسے ایک
نئی قیادت فراھم کی جا سکے .
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقوں نے یہ فیصلہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی آئے روز
کی “بلیک میلنگ” سے تنگ آ کر اور مستقبل میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی
صورت میں “نون” اور پیپلز پارٹی کی متوقع نئی قیادت کا ٹنٹا نمٹانے کی غرض سے کیا ہے
البتہ اس منصوبے پر عمل کا آغاز مسلم لیگ (ن) سے کیا جائے گا جس سے نمٹنا اسٹیبلشمنٹ
کا پہلا ہدف بتایا جاتا ہے .
اسٹیبلشمنٹ کے اس “یُوٹرن” کی بنیاد ملک کی اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی کے اس سپیشل سیل
کی ایک خصوصی رپورٹ بتائی جاتی ہے ، جو سمندر پار سیاسی روابط اور سرگرمیوں پر نظر
رکھتا ہے . ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (نواز) کے ساتھ مقتدر قوتوں کی “ڈیل” طے پا
رہی تھی اور ایک اہم حاضر سروس شخصیت کے شہباز شریف کے ساتھ براہ راست مذاکرات
کے بعد معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے ،
جس نے پچھلے دنوں اس وقت لندن جاکر نوازشریف اور شہبازشریف سے ملاقات کی تھی
جب یہاں پارلیمنٹ میں آرمی چیف جنرل باجوہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کی غرض سے
درکار قانون سازی کے لئے تمام اہم سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی درپردہ کوششیں
جاری تھیں .
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے ان مذاکرات میں یقین دلایا کہ ملکی معیشت کو تھوڑے ہی
عرصے میں پٹڑی پر ڈال دیا جائے گا اور ملک میں معاشی استحکام لے آیا جائے گا ، اس مقصد
کے تحت نہ صرف آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام smoothly جاری رکھتے ہوئے واجب الادا
قرضے اتار دیئے جائیں گے بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے مزید قرضے حاصل کرلئے جائیں
گے جن کی شرائط بھی سخت نہیں ہوں گی

اہم شخصیت نے وطن واپس آکر شریف برادران کے ساتھ “معاملہ” ہوجانے کی “اوکے” رپورٹ مقتدر
حلقوں کو پیش کردی کہ اسی دوران حساس ادارے کے “اسپیشل سیل فار اوورسیز” کی ایک اہم
خفیہ رپورٹ موصول ہوئی جس نے مقتدر حلقوں کو یہ اھم فیصلہ لینے پر مجبور کردیا.
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نوازشریف فیملی نے اسی دوران اپنے بین الاقوامی
سفارتی روابط اور اثر و رسُوخ استعمال میں لاتے ہوئے امریکی اسٹیبلشمنٹ ، بالخصُوص
“ڈیپ سٹیٹ” (یعنی پینٹاگون اور سی آئی اے میں بیٹھے درپردہ پالیسی سازوں) کے ساتھ اہم
مذاکرات کئے ہیں جن میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کہا گیا آپ 2 شرائط مان لیں
تو آپ کو دوبارہ اقتدار میں لایا جاسکتا ھے : 1 پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور 2 “سی پیک” کو
رول بیک کرنے کی کمٹمنٹ کی جائے” اعلیٰ ترین حساس ایجنسی کے مذکورہ اسپیشل سیل کی
رپورٹ کے مطابق نواز شریف فیملی کی طرف سے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایسی کمٹمنٹ
کرلی گئی ہے.
جس کے نتیجے میں خطے میں بھارتی بالا دستی عمل میں آجائے گی اور یوں” شریف خاندان”
بالآخر ملکی سلامتی کےلئے خطرے کا باعث بن سکتا ھے ، اس ضمن میں سابق وزیراعظم کے
بڑے صاحبزادے حسین نواز کی پچھلے دنوں کی سرگرمیاں قابل ذکر بتائی جاتی ہیں جن میں
وہ لندن میں متعین غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ رابطوں میں مصروف رہے ہیں .


شیئر کریں: