مولانا فضل الرحمان نے متحدہ حزب اختلاف سے علحیدگی کا فیصلہ کرلیا

Maulana-Fazlur-Rehman-
شیئر کریں:

تجزیہ: عامر حسینی

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے متحدہ حزب اختلاف سے الگ ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے-
نیا سیاسی اتحاد تشکیل دینے کے لیے کوششیں کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے-

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماؤں اور مرکزی مجلس شوری کے اہم اراکین سے پردے کے پیچھے ہوئی بات چیت سے خبر والے ویب سائٹ کو پتا چلا ہے کہ جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت کو متحدہ اپوزیشن سے الگ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے-

اس حوالے سے انہوں نے جے یو آئی ایف کی مرکزی اور صوبائی مجالس شوری کو اعتماد میں لے لیا ہے اور مرکزی شوری نے متحدہ حزب اختلاف سے علیحدگی کی حتمی منظوری بھی دے دی ہے-

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت نے یہ فیصلہ مسلم لیگ نواز اور
پاکستان پیپلزپارٹی سمیت متحدہ اپوزیشن کی اہم جماعتوں کی جانب سے مفاہمتی سیاست کرنے اور حال ہی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بلوں کے حق میں ووٹ دینے کے بعد کیا ہے-

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ متحدہ حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں اس وقت مفاہمت کی
جس پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس سے عوام کے اندر زبردست غصّہ اور بے چینی پائی جاتی ہے-

جمیعیت علمائے اسلام کے ایک سینئر رہنما نے خبروالے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا:

“موجودہ حکومت نے جس طرح سے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اس کے خلاف احتجاجی
سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے مفاہمتی راستا عوام میں غیر مقبول ہونے کا راستا ہے-
جے یو آئی ایف عوام کی آرزؤں اور خواہشات کے برخلاف راستا اختیار نہیں کرے گی-”

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ملک میں نیا سیاسی جماعتوں کا اتحاد تشکیل دینا چاہتے ہیں جن میں ممکنہ طور پر مذہبی سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی پاکستان، تحریک اللہ اکبر(جماعت دعوہ)، جے یو پی انس نورانی، پی ٹی ایم ابتدائی طور پر شامل ہوسکتی ہیں-

محمود خان اچکزئی کی پارٹی بھی اس نئے اتحاد کا حصّہ بن سکتی ہے جبکہ حاصل بزنجو کی پارٹی بھی اس کا حصّہ بن سکتی ہے-


شیئر کریں: