اسمارٹ فون نہ دیں “نوکیا” دے دیں

شیئر کریں:

تحریر امبرین زمان خان

میں جیسا کہ بہت سے اپنے آرٹیکل میں بتا چکی ہوں کہ میرا تعلق دیہات سے ہے۔
میں جس گاوں سے تعلق رکھتی ہوں اگر وہاں کی ان خواتین کی بات کی جائے جن کو احساس پروگرام کی طرف سے پیسے ملیں گے یا اج وزیراعظم نے اسمارٹ فون دینے کا اعلان کیا تو پیسوں سے تو خوش ہوں گی لیکن ان خواتین کو اسمارٹ فون کیوں دینا۔
وہاں ان سب خواتین کے پاس اگر فون ہے تو “نوکیا” یا اس جیسا موبائل۔
جس کے استعمال کا طریقہ ان کے بچوں نے سیکھایا ہے کہ سرخ بٹن جو دائیں طرف ہے دبائیں گے تو فون بند ہو جائے گا اور اگر بیل بجے تو سبز رنگ کا بٹن جو بائیں طرف ہے اس کو دبائیں گے تو آواز آئے گی۔
اگر غلطی سے کوئی اور بٹن دب جائے اور فون کی بیل بند ہو جائے تو لازمی ہے فون کسی پڑھے لکھے شخص کے پاس لے کر جائیں تو پتہ چلے کہ فون میں سے صرف روشنی کیوں آتی ہے بیل کیوں نہیں بجتی۔
اب حکومت کا کہنا ان دیہاتی خواتین کو اسمارٹ فون ٹیکنالوجی سیکھنے کے لئے دیں گے، تو براہ کرم یہ بھی لازمی کریں کہ ہر ماہ جب خواتین احساس پروگرام کے ذریعے ملنے والے پیسے لینے جائیں تو وہاں ٹیچرز بٹھائے جائیں جو ان کو فون استعمال کرنے کا طریقہ بتائیں۔
پھر ہر ماہ ان سے ٹیسٹ بھی لیں ورنہ سرکار یہ ذہن میں رکھیں یہ خواتین فون بیچ کر گھریلو ضروریات پوری کرلیں گی۔
کیوں کہ نہ ان کو نہ اسمارٹ فون کا استعمال آتا ہے اور نہ سکھا سکیں گی اپنے بچوں کو۔
ہاں ان خواتین کو گائے ،بھینس دینے کا طریقہ ٹھیک ہے یہ کام وہ کر لیں گی۔
اس کے علاوہ انہیں کھاد سستی دیں جو فصلیں بوئیں انہیں کچھ مہنگا خرید لیں۔
جس طرح وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کراچی کے لئے کہ ایک ایک کروڑ کے سو پروجیکٹ بنانے کا
تو اس طرح گاوں میں ایک ایک لاکھ والے چھوٹے چھوٹے بزنس کروائیں اور ان پر نگرانی
بھی کریں تاکہ ترقی بھی ہو اور کرپشن بھی نہ ہو۔
اس طرح آج پھر وزیراعظم عمران خان نے بار بار کہا کہ ہمارا مقصد اب صرف غریب کو اوپر اٹھانا ہے۔
وزیراعظم کو کہنا چاہئے کہ ہمارا مقصد ہے غریب ترقی کرے۔
اوپر اٹھانا ایسا لگتا کہ بس غربت سے مار دینا اور وہ اوپر اٹھ جائے۔


شیئر کریں: