نیا عراقی وزیر اعظم کون ہوگا؟

شیئر کریں:

 

کہیں امریکا دوبارہ عراق میں داعش کو کھڑا تو نہیں کر دے گاَ؟

 

رپورٹ عامر حسینی

عراق کے صدر بہرام صالح نے عراقی پارلیمانی پارٹیوں کو ہفتہ تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس دوران پارلیمنٹ کے سامنے متفقہ وزیراعظم کا نام پیش نہ کرسکے تو وہ خود پارلیمنٹ کو نیا نام پیش کردیں گے۔
عراقی صدر کے اس اعلان کے بعد بغداد میں عراقی پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے درمیان صلاح مشورے تیز ہوگئے ہیں۔
کئی ایک نام متوقع عراقی وزیراعظم کے طور پر لیے جارہے ہیں لیکن ابھی یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
عراقی رپورٹر عالیجاہ منگیر نے وٹس ایپ کال پر گفتگو کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اس وقت بغداد میں سنٹر،رائٹ، لیفٹ سب ہی سیاسی جماعتیں باہم مشورے کررہی ہیں لیکن نئے وزیراعظم کا انتخاب مقتدا الصدر، سید عمار عبدالحکیم ، ھادی الامیری اور دیگر کی مشاورت سے ہوگا۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2019/10/08/8873/عراق میں مظاہرے اور پاکستانی دیوالیہ

انہوں نے دعوی کیا کہ نور المالکی ابھی تک اس سے باہر ہیں اور یہ بھی طے نہیں ہے کہ آیا وہ وزیراعظم ہونے کے لیے بے تاب علاوی کی حمایت کریں گے بھی کہ نہیں؟
کیا ان کو اپنے 25 ممبران پارلیمنٹ کا ووٹ دلوائیں گے کہ نہیں؟
اس وقت عراقی پارلیمنٹ میں 54 نشستیں السائرون الائنس کے پاس ہیں جس کے اصل کھلاڑی مقتدا الصدر ہیں۔
دوسرے نمبر فتح الائنس ہے جس کے صدر ہادی الامیری ہیں اور اس ک پاس 48 نشستیں ہیں اور تیسرا بڑا اتحاد ائتلاف النصر/وکڑی الائنس ہے جس کے پاس 24 نشستیں ہیں اور اس کے سربراہ حیدر العبادی ہیں۔
اس کے بعد ائتلاف دولۃ القانون یعنی دولت قانون الائنس ہے جس کے سربراہ سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی ہیں۔
ان کے پاس 25 نشستیں ہیں۔
کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس بھی 25 نشستیں ہیں۔
الوطنیہ کے پاس 23 نشستیں جس کے سربراہ ایاد علاوی ہیں۔
عمار عبدالحکیم کی پارٹی تیار الوطنی کے پاس 19 نشستیں ہیں۔
پٹریاٹک یونین آف کردستان پارٹی کے پاس 18 نشستیں ہیں اور ائتلاف متحدون للاصلاح کے پاس 16 نشستیں ہیں۔
مقتدا الصدر کے السائرون اتحاد کے کردار کو نئے وزیراعظم کے انتخاب میں فیصلہ کن بتایا جارہا ہے۔
ایک طرف تو سید عمار عبدالحکیم کا وطنی الائنس جس کے پاس 19 نشستیں مقتدا کے ساتھ جڑا نظر آرہا ہے۔
فتح الائنس کے ہادی الامیری بھی مقتدا کے ساتھ ہیں جن کے 48 ووٹ ہیں۔
329 ایوان میں مقتدا الصدر کے پاس کھیلنے کو پہلے ہی 111 کے قریب ووٹ ہیں۔
ایاد علاوی 24 نشستوں کے ساتھ اگر لابی کر بھی پائے تو زیادہ سے زیادہ وہ نوری المالکی کی پارٹی سے کر پائیں گے جس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ پھر السائرون، فتح، الوطنی ان کے ساتھ نہیں چلیں گے۔

حیدر العبادی کا وکٹری الائنس کس کے ساتھ ہوگا؟

 

کہا جارہا ہے وہ بھی اس مرتبہ صدر کی بات ماننے کو تیار نظر آتا ہے اگر آنے والی کابینہ میں اس کو ٹھیک شئیر ملے۔
السائرون الائنس کی جانب سے اب تک دو نام وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ایک عراق کے سابق جج عبدالحیم العقیلی اور دوسرا نام عراق کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ مصطفی الخزیمی کا ہے۔
عراقی میڈیا میں ایاد علاوی بھی اپنے آپ کو مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

اس وقت عراق کی سیاسی فضا جس میں عراق میں عوامی مظاہرے منظم کرنے والوں کی رائے بھی شامل ہے ایک ایسا وزیراعظم چاہتی ہے جو آئیندہ انتخابات تک اپنی غیرجانبداری قائم رکھے اور سیاسی وابستگی سے اوپر اٹھ سکے۔
اقربا پروری سے دور رہے السائرون کے نائب صدر حمدون نے تازہ پریس کانفرنس میں یہی باتیں دہرائی ہیں۔
عراقی سیاسی و دفاعی امور کے ماہر صحافی و تجزیہ کار عالیجاہ منگیر کا کہنا ہے ‘ نیا عراقی وزیراعظم وہ ہوگا جو تین ماہ میں تمام غیر مللکی افواج کا عراق سے انخلاء یقینی بنائے گا۔
تاہم عراقی فوجیوں کا تربیتی پروگرام جو امریکا اور ناٹو چلارہے ہیں اس پر بعد کے مرحلے پر نظر ثانی کرے گا۔

منگیر کہتے ہیں کہ عراق میں سب بڑے سیاسی کھلاڑیوں، فوجی و سویلین ایڈمنسٹریشن کے کرداروں کو بخوبی علم ہے کہ امریکا و یورپ سے تعلقات کتنے اہم ہیں اور ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ امن بنائے رکھنا کتنا ضروری ہے۔
اس لیے ان کے خیال میں نیا وزیراعظم نہ تو امریکا کا یکسر مخالف ہوگا نہ ہی وہ ایران کے خلاف امریکی جھانسے میں آئے گا- ان کے خیال میں عراق میں جنگ کے حامی اور خودساختہ تجزیہ نگار جو یہ کہہ رہے ہیں کہ عراقی عوام امریکا کو اپنے ہاں دیکھنا چاہتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں بلکہ عراقی امریکا کے بارے میں اس خوف میں مبتلا ہیں کہ وہ کہیں عراق میں پھر سے داعش کو زندہ کرنے کے منصوبے پر کام نہ کرنے لگ جائے کیونکہ وہ ایسا کرنے کی اہلیت تو رکھتا ہے۔
منگیر نے اپنے ٹوئٹس تھریڈز میں لکھا ہے
” کوئی عراقی اس بات کو فراموش نہیں کرسکتا کہ امریکا نے داعش کو ابھرتے، بڑھتے،شام کی طرف جاتے اور عراق کے تین چوتھائی حصپے پر قابض ہوتے دیکھا اور کچھ نہ کیا جبکہ پہلے سے منظور کردہ ہتھیار بھی بغداد کے حوالے نہ کیے۔
” داعش نے کبھی موصل پر قبضہ نہیں کیا تھا- موصل پر قبضہ کرنے والے بہت سارے سنّی عرب قبائل تھے جن میں سب سے زیادہ اور اہم نقشبندی تھے۔
وہ موصل کی فتح کو ‘سنّی انقلاب’ قرار دیتے تھے۔
12 جون 2014ء کو کیمپ سبایکر تکریت عراق میں جو بڑا حملہ اور قتلام ہوا تھا وہ داعش نے نہیں بلکہ انبار کے عرب قبائل نے کیا تھا اور اسے فنانس سعودی عرب نے کیا تھا”

” جب داعش نے (انبار اور موصل) میں ہونے والی بغاوت کو اغوا کرلیا اور سارے سنّی گروپوں کو نکال باہر کیا تھا تو تب بھی نقشبندی گروپ غالب رہا اور اس نے اپنی بندوقوں کا رخ کردوں اور خاص طور پر کرکوک اور اربل کے کردوں کی طرف رکھا- عراقیوں کو اب بھی یقین ہے کہ وہ (باغی سنّی عرب قبائل) امریکا کی زرا سی ہلہ شیری پر پلٹ کر واپس عراقیوں سے مل سکتے تھے۔
جبکہ امریکا داعش کو ایسے عرب سنّی مسلح گروپوں کو عراق سے مکمل طور پر نکلتا دیکھتا رہا۔-”

عراقی تجزيہ نگار ان تھریڈز سے یہ نتیجہ برآمد کرتا ہے کہ عراقی عوام امریکہ کی عراق میں موجودگی کو داعش جیسے گروپوں سے بچے رہنے کی ضمانت ہرگز نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود اس کے لیے اپنے اوپر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں- اس کا خیال ہے کہ امریکا کے بارے میں عراقی عوام اور حکمران پرتوں کے اندر پائی جانے والی بداعتمادی اور تشکیک کی فضا نے چین اور روس کے لیے کافی امکانات پیدا کردیے ہیں۔
عالیجاہ منگیری کا کہنا ہے کہ عراقی صدر بہرام صالح ایک وقت میں مقتول ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کا پسندیدہ ترین آدمی تھا- لیکن ڈیڑھ سالوں میں وہ اپنے آپ کو ڈپلومیٹ کی بجائے ‘موقع پرست’ ثابت کرچکا ہے اور نئے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک ہی اس کا کردار رہے گا اس کے بعد وہ تاریخ کا حصّہ ہوگا۔
عراقی پارلیمنٹ نے عراق سے تمام غیر ملکی افواج کے نکل جانے کے عمل کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے جو انخلا کے سارے عمل کا جائزہ لے گی۔


شیئر کریں: