مشرق وسطہ کا امن منصوبہ جاری، یروشلم اسرائیلی دارالحکومت ہوگا، ٹرمپ

شیئر کریں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو سے دو سالہ مذاکرات
کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کردیا جسے ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘
کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں فلسطینوں سے کسی قسم نہ تو مذاکرات کیے گئے اور نہ ہی ان
کی رائے لی گئی۔
وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ صدر ٹرمپ نے یہ منصوبہ پیش کیا۔
منصوبے کے منظر عام آنے سے قبل ہی فلسطینی منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں کیونکہ
انہیں خدشہ تھا کہ یہ منصوبہ ہر حال میں اسرائیل کے مفاد میں پیش کیا جائے گا ۔
دوسری طرف نیتن یاہو نے اسے تاریخ سازی کا ایک موقع قرار دیا ہے جس کے تحت
اسرائیلی سرحدوں کا حتمی تعین کیا جاسکے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امن منصوبہ دونوں فریقین کے لیے مفید ہے ۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ 70 برس میں اس ضمن میں بہت کم پیش رفت ہوسکی.
فلسطینیوں کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی آزاد ریاست حاصل کرسکیں گے اور اسرائیل
کے خطرات بھی کم ہوں گے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یروشلم اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا
جبکہ نتن یاہو نے اس اعلان کے بعد صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں رہنے والے اسرائیل
کے سب سے بڑے دوست کا خطاب بھی دیا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں سے کہا کہ وہ اسرائیل
کو یہودی مملکت کے طور پر تسلیم کریں۔
فلسطینی صدر نے اس منصوبے کو فلسطینوں کے خلاف سازش قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ
یروشلم برائے فروخت نہیں اس لیے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں
غزہ کی پٹی میں ہزاروں ادھر اس منصوبے کے خلاف ہزاروں افراد نے شدید احتجاج کرتے
ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کی تصاویر کو آگ لگائی اور
بینروں کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا کہ ’فلسطین برائے فروخت‘ نہیں۔


شیئر کریں: