افغانستان میں گرایا گیا امریکا کا جاسوسی طیارہ نکلا

شیئر کریں:

طویل عرصے سے افغانستان میں طالبان سے لڑائی لڑنے والی دینا کی سپر پاور
امریکا کو مشکل ترین صورت حال کا سامنا ہے۔ افغان صوبہ غزنی میں گرنے
والا مسافر طیارہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا نکلا۔ طالبان نے امریکی
طیارے کو نشانہ بنانے کا دعوی کردیا۔

امریکی طیارے میں سوار 80 افراد ہلاک ہوگئےسی آئی اے کے اہم افسران
بھی طیارے میں ہلاک ہوگئے۔افغان طالبان نے صوبہ غزنی کےمشرقی ضلع دیہک
میں امریکی طیارہ مار گرایا۔ طالبان افغانستان کے ترجمان کے مطابق امریکی طیارے
میں اسی افراد سوار تھے ۔

ترجمان طالبان افغانستان کے مطابق طیارے میں امریکی ادارے سی آئی اے کے اعلیٰ افسران سوار تھے۔
افغان طالبان نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر تباہ کیے جانے والے امریکی طیارے کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں سپر پاور کے طور پر ابھرنے والے امریکا کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
طالبان کی جانب سے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں ۔
اس سے پہلے بھی کئی بار افغان طالبان امریکی رٹ کو چیلنج کر چکے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں سبکی کا سامنا ہے
کیوں کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود امریکہ افغانستان سے طالبان کا نہ تو خاتمہ کر سکا
اور نہ ہی ان کی رٹ ختم کر سکا ہے۔ آئے دن طالبان کی طرف سے امریکی فوجیوں اور ان
کو ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر امریکی رٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے۔

بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے امریکا دنیا بھرمیں اپنا قائم تسلط کھوتا
جارہا ہے۔ اپنی جدید ٹیکنالوجی کے دعوے دار امریکہ اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب
رواں ماہ ایران نے امریکی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا کر عراق میں امریکی اڈوں اور تنصیبات
پر مزائل حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں امریکہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

اس سے پہلے ایران جدید امریکی ڈرون کو بھی گرا چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان
میں جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا بخوبی علم ہوچکا ہے کہ طالبان سے جنگ جیتنا
ممکن نہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وہ وجہ ہے کہ
امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے۔


شیئر کریں: