شہباز شریف کےلئے “چانس” مریم نواز ؍ایشوحل کرنے سے مشروط

شیئر کریں:

تحریر : علیم عُثمان

باخبر ذرائع کے مطابق لندن میں قیام پذیر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف اور مقتدر
حلقوں کے مابین طے پایا ہے کہ پہلے شہبازشریف پارٹی میں مریم نواز کو مکمل طور پر
غیر فعال کروائیں گے جس کے بعد وہ مقتدر حلقوں سے مریم نواز کو ملک سے باہر بھجوانے
میں مدد کا تقاضا کریں گے ، اسی بناء پر شہباز شریف کی وطن واپسی فی الحال مؤخر کردی
گئی ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ “نوُن لیگ” کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اسی مقصد کے تحت
چوہدری نثار علی خاں اور نُون لیگ کے چند کلیدی رہنماؤں کو ہنگامی طور پر لندن
طلب کیا گیا ہے.

ذرائع کے مطابق پارٹی میں مریم نواز کے سیاسی و قائدانہ کردار کے سب سے بڑے مخالف
چوہدری نثار علی خاں کو بطور خاص پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے لئے لندن بلایا گیا ہے.
تاکہ انہیں پارٹی امُور میں مریم نواز کی عدم مداخلت کے حوالے سے “موافق” حالات اور “سازگار”
ماحول کی یقین دہانی کرواکے سیاست میں دوبارہ مُتحرک ہو جانے پر آمادہ کیا جائے.

ذرائع کا کہنا ہے شہبازشریف کی مقتدر حلقوں کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ میں پیش رفت کا بڑھتا ہوا
تاثرہے کہ موجودہ سیٹ اپ ، بالخصُوص وزیراعظم عمران خان کی حکومت کےلئے سب سے بڑا چیلنج ہے.
اسی وجہ سے شہباز شریف کے خلاف نئے مقدمات بنائے جارہے ہیں.

ادھر ملکی سیاست میں فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں نے بھی شہبازشریف کو کسی اہم سیاسی کردار
دیئے جانے کا فیصلہ “مریم نواز فیکٹر” ختم کرنے کے ساتھ مشرُوط کردیا ہے تاکہ سسٹم کو ڈسٹرب کیے
جانے اور اس کے نتیجے میں کسی قسم کے سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو ختم کیا جاسکے.

ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں کے ساتھ شہبازشریف کی تازہ ترین مفاہمت میں طے پایا ہے
کہ پہلے وہ مریم نواز کو سیاست سے فی الحال “آؤٹ” کروائیں گے ، اس کے بعد مقتدر حلقوں
کو اس بابت “سگنل” دیں گے کہ مریم نواز کی بیرون ملک روانگی میں مدد یقینی بنائی جائے
تاکہ “نوُن لیگ” میں ان کے ھمخیال رہنماؤں پر مشتمل “ناراض گروپ” کا کردار بھی محدود کیا جاسکے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کی تازہ ترین سیاسی صورت حال، بالخصُوص آرمی ترمیمی ایکٹ بل
کے بعد سے سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (نواز) میں پیدا شدہ صورت حال میں
پارٹی کو ؍لیڈ کرنے کے حوالے سے شہباز شریف کے ساتھ مریم کو ایڈجسٹ کرنے میں نئی
مشکلات پیدا ہوگئی تھیں جن کی وجہ سے شریف فیملی اور “نوُن لیگ” اور اسٹیبلشمنٹ کے
مابین معاملہ ہوجانے کا پورا عمل متاثر ہو کے رہ گیا تھا .


شیئر کریں: