بیویوں کے “خادم؍ اعلیٰ” اور خُفیہ آپریشن

شیئر کریں:

تحریر علیم عُثمان

اسپتال آنے والے مریض اور مریضوں کے لواحقین اُس وقت حیران و پریشان رہ گئے جب گھنٹوں
کسی کو اسپتال میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
یہی کیفیت اُن مریضوں ، اُن کے لواحقین اور تیمارداری کرنے اسپتال آنے والوں سمیت
وزیٹرز کی تھی جو اسپتال سے نکلنا چاہتے تھے مگر دروازے بند تھے۔
یعنی اُنہیں اسپتال کے اندر قید کر دیا گیا تھا اور کوئی کسی کو کچھ بتا نہیں پا رہا
تھا کہ اس زمینی “ہائی جیکنگ” کی آخر وجہ کیا ہے اور “ہائی جیکر” کون ہے۔

یہ واقعہ 2011 کی ایک شام لاہور شہر کے بیچوں بیچ بہنے والی نہر اور جیل روڈ کے سنگم کے قریب
جیل روڈ پر واقع ایک پرائیویٹ اسپتال “عمار میڈیکل کمپلیکس” میں پیش آیا جس کی وجہ
اسپتال کے ایک آپریشن تھیٹر میں ہونے والا ایک “خُفیہ آپریشن ” تھا۔
آپریشن زیادہ تر خُفیہ ہی ہوتے ہیں چاہے وہ کسی اسپتال میں ہونے والا کوئی میڈیکل آپریشن ہو
سیکیورٹی اداروں کا کوئی سرچ آپریشن یا پھر “چھوٹے مُلکوں” باالخصُوص تیسری دنیا کے غریب
یا نام نہاد ترقی پذیر ممالک کے دوروں پر آنے والے” بڑے مُلکوں” کے dignitaries یعنی”بڑے لوگوں” کی مصروفیات پر مبنی آپریشن۔

پچھلے دنوں ایک “خُفیہ آپریشن” کو خُفیہ نہ رکھنے پر یُوسف بیگ مرزا کو وزیراعظم ہاؤس سے” بے دخل” ہونا پڑگیا۔
بتایا جاتا ہے کہ سُپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لئے جس رات تیسری اور حتّمی سمری
ڈرافٹ کی جارہی تھی “چیف” ایک “خُفیہ آپریشن” ہی کے طور پر “کپتان” کے آفس پُہنچے تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم ہاؤس کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے “آف” کروا دیئے گئے تھے تاکہ یہ “خلائی آمد” راز
ہی رہے مگر بتایا جاتا ہے کہ میڈیا ایڈوائزر نے ایک پرائیویٹ نیوز چینل کو یہ خبر leak کر دی جو
مُلک میں نجی ٹی وی چینلز آنے کے بعد سے ابھی تک” نیُوز لیڈر” شمار ہوتا ہے۔
خبر آن ایئر ہونے پر وزیراعظم ہاؤس کے کیمرے فوری طور پر “آن” کروائے گئے اور “ملزم” کا سراغ لگا لیا گیا کیونکہ
اصولا” آپریشن زیادہ تر خُفیہ ہی ہوتے ہیں اور “فرشتے” نظر نہیں آتے ، بالکل ایسے ہی
جیسے (ماسوائے عُثمان بُزدار کے) پاکپتن کی “پیرنی” کے جنات کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔
نجی “پوش اسپتال” میں اس روز ہونے والا آپریشن اس قدر خُفیہ تھا کہ پُورے کا پُورا اسپتال ہی بند
دروازوں والے آپریشن تھیٹر میں تبدیل ہو چکا تھا اور آپریشن مُکمل ہو جانے تک 7 گھنٹے پُورا
اسپتال sealed یعنی “نو گو ایریا” بنا رہا۔
حتیٰ کہ چلڈرن اسپتال میں تعینات شہر کے ایک ممتاز ماہر امراض اطفال ڈاکٹر یعقوب قاضی
سمیت اس روز “بھُولے سے” وہاں آ جانے والے وزیٹرز بھی وہ آپریشن مکمل ہونے تک “قید” رہے
جیسے پچھلے دنوں لاہور کی غازی روڈ پر فیز 2 ڈیفنس کی ایک چھوٹی سی مارکیٹ کے دکانداروں
اور گاہکوں کو اس وقت کئی گھنٹے کے لئے “قید” ہونا پڑا جب پاکستان کے دورہ پر آئی ہالینڈ (نیدر لینڈز)
کی ملکہ میکسما “خُفیہ” انداز میں وہاں ایک پلازہ میں واقع ایک پرائیویٹ بزنس آفس آئی تھیں۔
اس دوران اس پُورے کمرشل ایریا میں نہ کسی دکان سے کوئی باہر نکل سکتا تھا اور نہ کوئی اس علاقے
میں داخل ہو سکتا تھا۔

یہ الگ بات کہ اس سے قبل 3 دن تک نہائت اعلیٰ پولیس افسران سُونگھنے والے کتوں کے ساتھ وہاں
آکر سیکیورٹی چیک کرتے رہے تھے۔
مہمان ملکہ نے جو “مالیاتی شمولیت” سے وابستہ نجی کاروبار سے مُتعلّق اقوام مُتّحدّہ کی ایمبیسڈر بھی ہیں۔
خواتین کو گھر بیٹھے میک اپ وغیرہ کی سہولیات فراہم کرنے والے اس ادارے کے علاوہ ٹیکسی
سروس کے نجی ادارے “بائیکیا” کے دفتر کا بھی اسی “خُفیہ” انداز میں دورہ کیا۔

آپریشن زیادہ تر خُفیہ ہی ہوتے ہیں چاہے وہ کسی اسپتال میں ہونے والا کوئی میڈیکل آپریشن ہو۔
سیکیورٹی اداروں کا کوئی سرچ آپریشن یا پھر “غریب مُلکوں” کے دوروں پر آنے والے “امیر مُلکوں” کے
“بڑے لوگوں” کی مصروفیات سے مُتعلّق آپریشن .. یا پھر کوئی “خلائی” قسم کا آپریشن۔

اس پرائیویٹ اسپتال میں در اصل پنجاب کی خاتُون اول کے نسوانی حُسن و کشش میں اضافے کے لئے
ان کا آپریشن ہو رہا تھا جو پاکستان میں خال خال ہی ہوتا ہوگا یا شائد اپنی نوعیت کا پہلا
آپریشن تھا ، جو breasts uplifting surgery کہلاتا ہے ۔
اور پھر اس حُسن کی دیوی کے loving husband یعنی خاتُون کے “خادم اعلیٰ” خود بھی اس تمام عرصہ وہاں موجود تھے
جنہیں آپریشن کرنے والے ڈاکٹرز مختلف گرافکس دکھا کر “ساتھ کی ساتھ” یہ معلوم کرنے میں بھی مصروف تھے کہ
وہ بعد از آپریشن کون سا ڈیزائن پسند کریں گے ، لمُبوترے یا گولائی والے ۔
یہ خاتون ویسے ، واقعی ایک حسین عورت ہیں جنہیں میں اس واقعہ سے برسوں پہلے (1986 میں) لاہور کینٹ میں
جان شیر روڈ پر واقع ان کے دیور کے گھر پر اُس وقت انٹرویو کی غرض سے ملا تھا جب وہ چند گھنٹے قبل
طویل جلاوطنی کے بعد لندن سے واپس پاکستان آئی تھیں اور پہلے شوہر سے ان کے پیارے پیارے
بچے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں کھیل رہے تھے ۔
ان میں سے ایک دو بچوں کو تو شائد پہلی بار اپنے والدین کی سرزمین پر اُترنا نصیب ہوا تھا۔
ایک دو بڑے بچوں کو بہت چھوٹی عمر میں ہی جبری جلاوطنی بھگتنا پڑ گئی تھی۔
بچوں کا باپ ابھی جلاوطنی کاٹ رہا تھا کہ اس کی وطن واپسی کے لئے ابھی حالات سازگار نہیں تھے۔
اس حسین خاتُون کا nick name ؍ٹینا ہے اور ایک سابق پلے بوائے “کپتان” اسے اس وقت “فحش کالیں” کیا
کرتا تھا جب وہ ابھی سیاست میں نہیں آیا تھا البتہ اس کے دل میں چھُپی ، سیاست میں آ جانے کی ambition شائد بھانپ لینے والوں نے
(جو بعد میں اسے بالآخر” لے” ہی آئے) اس کے فون غالبا” tap کرنا شروع کر دیئے تھے یا پھر شائد جلاوطن سیاسی لیڈر کی اہلیہ کا فون tap کیا جاتا تھا .. موبائل فون ابھی پاکستان میں ہوتے ہی نہیں تھے۔
ٹینا ان دنوں گلبرگ 2 میں ٹیلیفون ایکسچینج کے بالمقابل واقع ایک مکان کے ایک پورشن میں رہتی تھیں۔
جس کی ایک منزل پہ صوبائی وزیر نصراللہ دریشک رہتے تھے۔
ٹینا کے موجودہ شوہر کی اپنی بیوی سے “والہانہ محبت” کا ؍قصہ ، یعنی اس منفرد سرجری والا واقعہ
مُجھے اسی “کپتان” کی اپنی موجودہ بیوی سے “والہانہ عقیدت” کو ظاہر کرتے ایک واقعہ سے یاد آگیا۔
“کپتان” نے لاہور کے اپنے ایک حالیہ مختصر دورہ میں ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے ٹی وی چینل سے
وابستہ صحافی کو ملاقات کے لئے بلایا تھا جس سے کپتان کی پرانی شناسائی تھی۔
“کپتان” نے چھُوٹتے ہی کہا “تم میری بیوی کے خلاف خبریں چلاتے ہو” تو صحافی دوست نے “بیوی” کی
سہیلی کا نام (گالی کے ساتھ) لے کر کہا “میں تو اس کے خلاف خبریں چلاتا ہُوں جو اہم پوسٹنگز ٹرانسفرز کرواتی ہے”
عام تاثر یہی ہے کہ اس وقت مُلک میں “تخت شاہی” پر قبضے کی لڑائی میں ایک طرف
ایک “بیوی کا خادم اعلیٰ” ہے تو دوسری طرف بھی ایک “بیوی کا خادم اعلیٰ” ہے۔


شیئر کریں: