علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی،بھتیجے اور کارکنوں کو 4738 سال قید

شیئر کریں:

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی نے دہشت گردی کا الزام ثابت ہونے پر
علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی اور بھتیجے کو کڑی سزا سنا دی گئی۔
بھائی اور بھتجیے کے ساتھ تحریک لبیک پاکستان کے 86 کارکنوں کو 4738سال قید،
ایک کروڑ 30 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کی شب 10 بجے عدالتی فیصلہ کے ساتھ تمام مجرموں کو حراست میں لے لیا گیا۔
مجرموں کی تعداد زیادہ ہونے پرانہیں تین بسوں میں بھر کے سیکیورٹی حسار میں اٹک جیل لے جایا گیا۔
پنڈی گھیب پولیس نے چوبیس نومبر 2018 کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی کی گرفتاری کے بعد
خادم رضوی کے بھائی امیر حسین اور ان کے بیٹے محمد علی سمیت 87افراد کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیے:https://www.khabarwalay.com/2019/05/10/3511/ قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس

عدالت نے امیر حسین رضوی ،ان کے صاحبزادے محمد علی اور دیگر دو مجرموں قاری مشتاق اور
گلزار احمد کو اسلحہ برآمد ہوے پر علیٰحدہ سے دو دو سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
جرمانہ ادا نہ کرنے پر انہیں 146سال سے زائد مزید سزا کاٹنا ہوگی۔
گرفتار افراد پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، پولیس ملازمین کو زخمی، سرکاری ونجی املاک کو نقصان پہنچانے
اور دہشت گردی کے الزامات تھے۔
اس سے پہلے ضمانت پر رہائی کے بعد بیرون ملک فرار ہونے والے اعزاز الحق کو اشتہاری قرار دے
دیا گیا اور دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے گئے۔
مقدمہ کی سماعت 13 ماہ جاری رہی۔
جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 55 پچپن سال قید سخت، 2 لاکھ 35ہزار روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی
پر 32ماہ مزید قید کاٹنی ہوگی ۔
مجرموں کی تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد بھی بحق سرکار ضبط کرلی جائیں گی۔


شیئر کریں: