January 16, 2020 at 6:57 pm

تحریر:اویس اسلم

ریاست کی اولین ترجیحات میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم فراہم کرنا بھی شامل ہے لیکن
پرائیوٹ تعلیمی ادارے بجائے اچھی تعلیم کے اب بہترین کاروبار بن چکے ہیں جہاں پر
بچوں کو اعلیٰ تعلیم کا جھانسہ دیکر ماہانہ والدین سے ہزاروں روپے بٹورے جاتے ہیں
رحیم یارخان میں پرائیوٹ سکولوں کی بھر مار ہے ہر گلی محلے میں پرائیوٹ سکولز
ہے محکمہ تعلیم کے مطابق اب 750موجود ہینجن میں سے رجسٹرڈ کی تعداد
سکول رجسٹرڈ ہیں اور متعدد سکولوں کی رجسٹریشن کا عمل چل رہا ہے ۔رحیم 750تک
اور 2500یارخان میں موجود پرائیوٹ تعلیمی ادارے نرسری کلاس سے چھٹی کلاس تک
روپے ماہانہ فیسیں وصول کرتے ہینجبکہ پرائیوٹ 3500چھٹی سے دسویں کلاس تک
سکولز میں پڑھنے والے بچوں کو انہی اداروں کی جانب سے قائم ٹیوشن سینٹرز پر
پڑھانے پر بچوں کے والدین پر دباو بھی ڈالا جاتا ہے تاہم رحیم یارخان میں رجسٹرڈ
کے قریب انہی اداروں کی 300ہے جن میں سے 750پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی تعداد
جانب سے ٹیوشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں جن میں زیاده تعداد انہی بچوں کی ہے جو ان
تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں وہی ان ٹیوشن سینٹرز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں
بچوں کے والدین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ کی جانب سے کہا جاتا ہے
کہ سکول میں ایک سبجیکٹ پڑھانے کیلئے اتنا ٹائم نہیں ہوتا جس کے باعث بچوں کو
ٹیوشن سینٹر میں پڑھنے کا کہا جاتا ہےاور ان بچوں کی تعداد تقریبا دو ہزار سے زائد
بتائی جاتی ہےمحکمہ تعلیم کے سی ای او رانا اظہر کا کا کہنا ہے کہ ایسے تعلیمی
ادارے جو بچوں سے زائد فیسیں وصول کرتے ہیں ان کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے
ایسے پرائیوٹ ادارے جو بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں ان کو ایک ہفت کی مہت دی
گئی ہے کسی بھی پرائیوٹ سکول کو بغیر رجسٹریشن کے چلنے نہیں دیا جائے گا سی
ای او ایجوکیشن رانا اظہر کا کہنا تھا کہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پرائمری سکول
رجسٹر مڈل جبکہ مڈل رجسٹریشن والے ادارے نویں اور دسویں کی کلاسیں پڑھا رہے
ہیں اور دس فیصد غریب بچوں کو مفت نہ پڑھانے والے سکولوں کیخلاف سخت ایکشن
لیا جائے گا اور محکمہ تعلیم کے متعلق وزیراعظم سیٹیزن پورٹل پر ملنے والی شکایات
کا فوری ازالہ بھی کیا جا رہا ہے اور اس کیلئے ایک الگ سیکشن بھی بنادیا گیا ہے تاکہ
کسی کو کوئی شکایت نہ رہے جبکہ پرائیوٹ ٹیوشن سینٹر جہاں بچے شام کے اوقات میں
پڑھتے ہیں ان کیخلاف کوئی شکایات نہیں موصول ہوتیں والدین خود بچوں کو ٹیوشن
سینٹرز بھیجتے ہیں البتہ غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کیخلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔تاہم ایسے تعلیمی اداروں کا انکشاف بھی ہوا ہے جو تعلیمی سہولیات کا جھانسہ دیکر
والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور یہی ادارے لاکھوں روپے تشہیری مہم پر
لگا کر بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں محمد فرید جو کہ ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے
روپے ماہانہ کماتا ہے جسکے تین بچے پرائیوٹ سکول میں زیر تعلیم ہیں 35000اور
روپے ہے محمد فرید کا کہنا تھا کہ 12000جن کی ماہانہ سکول اور ٹیوشن فیس
سرکاری سکولوں میں تعلیم کا نظام بہتر نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو پرائیوٹ سکولز
میں پڑھانے پر مجبور ہیں لیکن پرائیوٹ سکولز کی جانب سے فیسوں میں بے جا اضافہ
کی وجہ سے پریشان ہیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکی روک تھام کیلئے کوئی
اقدامات نہیں کئے جا رہے۔پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اعظم شبیر نے
بتا یا کہ ان کی ایسوسی ایشن میں پچاس سکولز ہیں جو کہ بہاولپور بورڈ سے الحاق شده
ہیں اور دیگر ایسے ادارے جو کہ بورڈ سے الحاق نہیں ہیں ان کو اس ایسوسی ایشن میں
شامل نہیں کیا جاتااور ایسے پرائیوٹ تعلیمی ادارے جو کہ رجسٹرڈ نہیں ہیں اور بچوں
کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں ان کیخلاف کارروائی کیلئے محکمہ تعلیم سے رجوع بھی
کا جاتا ہے اور رحیم یارخان میننمایاں پوزیشنز بھی پرائیوٹ سکول کی رہی ہیں

Facebook Comments