January 16, 2020 at 4:49 pm

پروفیسر سوسانہ لی جارج ٹاؤن یونیورسٹی امریکہ میں فرانسیسی زبان اور تقابلی ادب کی استاد ہیں۔
ان کا ایک مضمون ‘دی کن ور سے شن’ ویب سائٹ پر شایع ہوا۔
مضمون میں میں جیسے جیسے پڑھتا چلا گیا ویسے ویسے سیاسی سچائی اور ادبی حقیقت بیانی کے درمیان گہرے ربط کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کا بھی قائل ہوتا گیا۔
اس مضمون کا زمان اور مکان امریکہ اور امریکی سیاست ہیں۔
انہوں نے اس زمان و مکان کا جیسے نپولین بونا پارٹ سوئم کے زمانے کے فرانس کے زمان و مکان کو دیکھا ہے اس پر ان کو داد دیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔
ہم مادام بوواری لائیو اپنے سماج میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
جتنا بنجر اور کھوکھلا ہمارے یہاں کا کمرشل لبرل ہے اتنا ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ امریکہ کا بھی ہے۔
ان کے جھوٹ اور کمرشل ازم کو بے نقاب کرنے والی ایسی تحریریں جیسی سوسانہ لی جیسی استاد لکھتے ہیں ان کو امریکہ کے ٹاپ ٹین تو کیا ٹاپ دس ہزار ویب سائٹ میں سے بھی کسی ایک ویب سائٹ پر جگہ نہیں ملتی۔
یہی حال یہاں پاکستان میں ہے، یہاں ٹاپ ٹین اور ٹاپ ٹوئنٹی پر یا تو نامعلوم کے بیانیے کو آگے بڑھانے والی ویب سائٹ ہیں یا پھر وہ ہیں جن کے سی ای اوز پر جنسی زیادتی کا الزام لگے یا ان پر کسی کو پیسے لے کر جعلی چے گیورا بنانے کے درجنوں شواہد مل جائیں لیکن ان کی ملازمت کرنے والے لبرل، جمہوریت پسند، ترقی پسند لیبل کے ساتھ اپنے عہدوں پر چمٹے رہتے ہیں۔
خود اپنے بارے میں ایک لفظ بھی جو ان کے بتوں کو گرادیتا ہو چھپنے پر پابندی لگادیتے ہیں۔
ہمارے کچھ دوست نادانی میں یا حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کا شکار ہوکر کہتے ہیں کہ ان ٹاپ ٹین(بدمعاشوں) سے ہاتھ ملالیا جائے تاکہ ہم بھی ٹاپ ٹین(بدمعاشوں) کی طرح بہت مشہور ہوجائیں۔
یہ مشہوری کس قیمت پر ہوسکتی ہے؟
اس کا اندازہ ہمیں بہت اچھے سے ہے۔
مجھے جن سیاسی استادوں سے سیاست کا سبق سیکھنے کا اتفاق ہوا انھوں نے ہمیں کہا تھا کہ سیاست میں آئیڈیلز/آدرش شارٹ کٹ اور چور راستوں سے نہیں ملا کرتا۔
ہم نے ان کی بات پلے باندھ لی۔
بہت سے چمکتے دمکتے اپنے تئیں شرافت و امانت کے پتلے آئے۔
ان کو ہمارے ٹاپ ٹین نے بہت بڑھایا چڑھایا لیکن انھوں نے اسٹبلشمنٹ کی بنائی نگران حکومتوں میں نگران وزیراعظم بنکر، نگران چیف منسٹر بنکر، نگران وزیر قانون یا مشیر بنکر یا کسی غلام جیلانی ،حمید گل یا پھر شجاع پاشا کی بنائی پارٹی کی جنرل سیکریٹری شپ سنبھالی یا پھر اس کے ٹکٹ پر سلیکٹ ہوکر جمہوریت اور جمہوری سیاست کا ناس مار دیا۔
ایسے ہی صحافت کا درس جن سے ملا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انوسٹی گیشن صحافت کا ماما چاچا بننے کی شرط ‘نامعلوم’ سے آئے اسکرپٹ پر ٹیبل اسٹوری بنانے میں ماہر ہونا یا پھر امریکی اسکالرشپ سے جڑے شیم ٹینک/تھنک ٹینک سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں خبریں فائل کرنا اور تجزیے لکھنا ہے۔
یہ دونوں کام ہم سے نہیں ہونے والے۔
ہم مادام بوواری ناول کے زرعی میلے کے شرکاء میں سے نہیں اور نہ ہی ہم سرے محل سے سوئس اکاؤنٹس اور پھر اس سے آگے فیک اکاؤنٹس کی کہانیوں کے اسکرپٹ کی روشنی میں نام نہاد تحقیقاتی صحافت کرنے والے ہیں اور نہ ہی ہم ‘کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے’ کو گڈ گورننس اور کسی کی سلطنت کی بحالی کی جدوجہد کو عظیم کامریڈ چی گیورا کی جدوجہد بنانے یا اسے زبردستی بھٹو کا ماسک پہنانے والوں میں سے ہیں۔
(پروفیسر سوسانہ لی کے مضمون کا ترجمہ پڑھیں اور جعلی انقلابیوں سے ہشیار رہیں، عامر حسینی)

تین جنوری 2020 کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے تعاقب میں متضاد بیانیوں کا سیلاب آگیا ہے۔

کیا سلمیانی امریکیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا؟
نائب صدر امریکہ مائیک پینس کے اس مشکوک بیان کا کریں کہ سلمیانی نائن الیون حملوں میں ملوث تھا؟
کیا قتل کا منصوبہ امریکی دستوں کی واپسی کے ساتھ تعلق رکھتا تھا؟
جیسا کہ ایک خط جو اچانک سے عراقی حکومت کو بھیجا گیا جس میں مشورہ دیا گیا تھا؟
کیا ٹرمپ محض اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی رکوانے کی کوشش کررہا تھا؟
کیا حملہ ایک بدترین نرگسیت میں مبتلا فرد کا بنا سوچے سمجھے جذبات کی رو میں کیے کئے فیصلے کا نتیجہ تھا؟
یا گزرے مہینوں میں ایرانیوں کی اشتعال انگیزی کا یہ معقول ردعمل تھا؟
کیا ڈیموکریٹس سلمانی کی موت کا ماتم کررہے تھے؟
یا اس حملے کے ذمہ دار وہ بھی تھے؟
الزامات اور وضاحتوں کی پوچھاڑ نے معاندانہ اور ابہام سے بھرے ریکارڈ کو درست کرنے کی کوششوں، ماہرین کی آراء اور عوامی ردعمل کے سیلاب کو راستہ دیا۔
بہت سے لوگوں کو اس سے وحشت محسوس ہوئی اور ان کو بے حوصلگی کا احساس ہوا۔
لیکن جو انیسویں صدی کے فرانسیسی ناول کے شیدا ہیں انھوں نے ایسا منظر پہلے بھی دیکھ رکھا ہے۔
اٹھارسو باون میں فرانسیسی ادیب گستاو فلوبیر سوچا تھا،” جب ہم حقائق کے بارے میں ایک ایک کائنائی لطیفہ کے نکتہ نظر سے لکھتے ہیں تو کیا وہ ایسے ہی ہے جیسے خدا ان کو بلندی سے دیکھتا ہے؟’
اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب 1857ء میں لکھے اپنے ناول ،”مادام بوواری’ میں دیا- یہ ناول اس نے نپولین سوم کے زمانے میں شایع کیا تھا۔
نپولین سوم فرانس کا صدر تھا جس کے مطلق العنان عزائم افواہوں اور باہم متحارب سیاسی دھڑوں سے مہمیز ملی تھی۔

 

جب زباں سبھی مطالب کھودیتی ہے

 

جیسا کہ میں نے پہلے لکھ تھا،”مادام بوواری” جان بوجھ کر لایعنیت سے گزرتا ہے اور نقاد لیو برسانی اسے “زبان کی بے سمتی، غیر اہم اور اظہار کرنے سے محروم طبعیت سے گزرنے والا کہتا ہے۔
ایما بوواری ناول کی مرکزی کردار رومانوی ناولوں کو چاٹ چکی ہے اور وہ اپنے دیہاتی وجود سے مایوسی کا شکار ہے جو بہت ہی سست ثابت ہوچکا ہے۔
یہاں پر جوش کی تلاش اور مایوسی سے فرار کی کوشش اسے بدکارانہ تباہی اور مالی بدحالی کا شکار کردیتی ہے۔
یہ کافی مشترکہ قضیہ ہے لیکن “مادام بابواری” کو جو چیزمنفرد بناتی ہے وہ اس کا بیانیوں، فقروں، بیان اور لفظوں کے قابل اعتماد نہ ہونے پر اصرار ہے۔
سارے کردار، ناتجربہ کار دھوکے بازوں سے لے کر اچھے سے احمقوں تک سب کے سب کلیشوں کو لے کر اچھل کود کرتے ہیں۔
ایما اور اس کا مستقبل کا عاشق لیور اعلان کرتے ہیں کہ ان کو سمندر کے کنارے سے غروب آفتاب کا منظر دیکھنا نہایت پسند ہے جبکہ ان میں سے کسی نے سمندر دیکھا نہیں ہوتا۔
فارمسٹ ہومائس دوسروں کو سمجھداری کا مشورہ دیتا ہے اگرچہ کوئی ان کو سنتا نہیں ہے اور وہ خود بے رحمی کی حد تک بلند عزائم رکھتا ہے۔
ناول آخر میں اسے لیجن آف آنر کا اعزاز ملتے دکھایا جاتا ہے۔
لیون ایما کو کہتا ہے کہ وہ اس قالین میں دفنایا جانا چاہتا ہے جو اس نے اسے دیا ہوتا ہے۔
اگرچہ راوی انکشاف کرتا ہے کہ یہ جھوٹ بات ہوتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ہرکوئی اس ناول میں جھوٹ بک رہا ہوتا ہے؛ کچھ ایماندار کرداروں کے کہنے کا مطلب وہی ہوتا ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
مسئلہ وہ زبان ہے جو خود بے وفائی، تکرار اور بمباری کے اشتراک سے معانی نکالتی ہے۔
ایک مشہور منظر میں ایک زرعی نمائش کے اندر قصبے متوجہ حاضرین فصلوں کے بارے میں بری اور گھمن گھیر تقریروں کے ایک ایک لفظ پر لٹو ہورہے ہیں: ” یہاں ہمارے پاس جہاں وائن ہے تو وہیں ہمارے پاس سیب کا سرکہ ہے۔
پھر ہمارے پاس پنیر ہے تو ساتھ ہی پٹ سن بھی ہے۔”

جب آتشبازی کو پروگرام کے شاندار اختتام کرنے کے لیے چنا گیا، اخبارات نے رپورٹ کیا کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چلے گئے اور ان کو اس نے ایک عمودی سیربین/کلیڈوسکوپ ، اوپیرا کے لیے ایک حقیقی اسٹیج سیٹنگ کے طور پر بیان کیا-“کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ یہ بیان گھڑا گیا تھا۔
فلوبئیر کے کائناتی لطیفے کا آخری نکتہ یہ ہے کہ راوی خود ٹھیک ٹھیک الجھن کا مالک ہے۔ وہ واحد متکلم سے کہانی شروع کرتا ہے، اپنے آپ کو ایما کے شوہر کا اسکول کا ساتھی بتاتا ہے اور پھر ایک دم سے کہانی کو صیغہ غائب سے شروع کردیتا ہے۔
اس کی کچھ بیانات تو بالکل صاف اور سیدھے ہونے کے ساتھ جذبات سے عاری ہیں دوسرے بالکل ہی گنجلک اور الجھے ہوئے ہیں- ایک لڑکے کی ٹوپی ، شادی کے کیک اور طبی آلات کے بیان اتنے تفصیلی ہیں مگر ساتھ ہی وہ اس قدر حیرت انگیز بھی ہیں پڑھنے والے اپنے آپ کو ایسے حال میں پاتے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ وہ دیکھنے میں کیسے لگتے ہوں گے۔
بعد میں اپنے ادبی منصوبوں کے بارے میں فلوبئیر نے لکھا تھا،” میں چاہتا تھا کہ میں حسرت اور بے چینی کا سراسر ایسا تاثر پیش کروں کہ میرے پڑھنے والے یہ سوچیں کہ ایسی کتاب کوئی بچہ دماغ/بونگا ہی لکھ سکتا تھا۔”

فرانس میں سیاسی بے چینی

فلوبئیر نے ‘مادام بوواری’ خلا میں نہیں لکھا تھا۔ جب 1851ء میں وہ ناول لکھنا شروع کررہا تھا تو صدر لوئی بونا پارٹ سوئم اس کودتا کا منصوبہ بنارہا تھا جس نے اسے صدر سے شہنشاہ میں بدل دینا تھا۔
بوناپارٹ نے اپنے پیروکاروں کو اہم عہدے دیے، سپاہیوں کو ان کے حلف’ انفعالی تابعداری’ کی یاد دہانی کرائی اور پارلیمانی بغاوتوں اور کسانوں کی شورشوں کو کچل کر رکھ دیا۔
ایک اندازے کے مطابق دس ہزار سیاسی مخالفین فرانسیسی نوآبادیات میں منتقل کردیے گئے۔
کودتا کا سخت ترین مخالف ادیب وکٹر ہیوگو برسل فرار ہوگیا، جبکہ الکسی دو توکویل حکومت میں شرکت سے بچنے کے لیے سیاسی زندگی سے دستبردار ہوگیا-

فرانسیسی شہروں نے اپنے آپ کو سخت وحشت اور بے سمتی کی حالت میں پایا- صحافی اور سیاست دان ایجن تینو نے اٹھارہ سو اڑسٹھ کے کودتا کی کہانی لکھی، پڑھنے والوں کو خبردار کیا،” کوئی بھی سچائی پر مبنی بیانیہ اس واقعے کے متعلق فرانس میں شایع نہیں ہوا-” اس نے یہ تبصرہ بھی لکھا،” پرآشوب زمانوں میں لکھے جانے والے بیانیے ہمیشہ جانبداری، مبالغہ آرائی، نا انصافی اور یہاں تک کہ بری نیت کے ساتھ لتھڑے ہوتے ہیں۔”
اٹھارہ سو اکیاون میں دسمبر کے اندر شایع ہونے والے کھلے خط میں بوناپارٹ نے قومی اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کیا-
قومی اسمبلی کو اس نے سازشوں کی آمجگاہ قرار دیا- جنوری 1852ء میں اس نے ایک نئے آئین کا اعلان کیا-
اس نے تمام جمہوریت پسند سیاست دانوں کو جعلی خبریں پھیلانے والے قرار دے ڈالا۔
اسی سال دسمبر میں وہ نپولین سوئم بن گیا اور فرانس کی دوسری سلطنت کا یہ آغاز تھا۔

‘پہلا جدید آمر’ اور ‘پروپیگنڈے کے زریعے حکمرانی کرنے والوں’ میں پہلا حاکم کہلاتے ہوئے بونا پارٹ فرانس کے پہلے منتخب صدر سے اس کے آخری بادشاہ میں بدل گیا۔
دوسری فرانسیسی سلطنت 187ء تک رہی، جب شہنشاہ کو اپنی غیرمقبولیت کا احساس ہوا تو اس نے روس سے جنگ چھیڑ دی اور ہار گیا۔

 

آج کی بازگشت

فرانس کا سیاسی جوار بھاٹا، جھوٹ پھیلانے کی جنگ ، پھوٹ پڑنے والی شورشیں اور عوام کی الجھن نے فلوبئیر پر گہرا اثرا چھوڑا۔
امریکی عوام آج اپنے کرداروں سے ہمدردی کرسکتے ہیں جو نہ ختم ہونے والے تکرار و بے وفائی اور حماقت کے جھکڑوں میں چکرارہے ہیں۔
حالیہ تکنیکي پیش رفتوں کو بھی جزوی طور پر ذمہ دار کہا جاسکتا ہے۔
گرشتہ دس سالوں میں میڈیا کی طرف سے کی جانے والی نگرانی، بے جا بوجھ سے لدھے بیانیے اور ڈیجیٹل تصویروں کی طغیانی پر وسیع تحقیق سامنے آئی ہے۔
یہ ہمارے دماغ سے کیا کھیل کھیلتے ہیں۔
لگاتار محرکات اور خلفشار کے ساتھ حافظے کی خرابی کی طرف لے جاتے ہیں، الجھن اور خرابی کو برقرار رکھتے ہیں۔
ایسے حالات سیاسی جنگ کے لیے بڑے سازگار ہوا کرتے ہیں۔
میڈیا اسٹڈیز کے استاد دآس فریڈمین نے 2014ء میں اپنی کتاب،”میڈیا پاور کے تضادات” میں لکھا۔
” سیاسی عدم استحکام کے زمانوں پہلے سے موجود بیانیوں پر دباؤ ہوتا ہے اور اس کے تماشائی عوام خود بھی تازہ دم ہوکر نئے تناظر تلاش کرتے ہیں-”
انفارمیشن کی جنگیں اور فیک نیوز سیاسی جوار بھاٹے کے پکنے کے وقت`وبائی امراض کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
بہت سے طریقوں سے ہم فلوبئیر کے تصور کردہ کائناتی لطیفے کے انتہائی ورژن میں سانس لے رہے ہیں۔
تکلیف دہ جھوٹ، بے معنی کلیشے اور کھوکھلے قیام کے جاری بہاؤ نے امریکیوں کو ویسے ہی پریشان کردیا ہے جیسے اس طرح کی صورت حال نے مادام ایما بوواری کو الجھا کر رکھ دیا تھا-
زرعی میلے میں لیوین کے اکتا دینے والا اور گھٹیا خطاب جیسے نمونے آج کے دور میں بھی ہمیں مل جاتے ہیں- زرا ٹرمپ کی گھمن گھیر تقریروں کا خیال ذہن میں لائیں، یا ٹوائلٹ فلشنگ اور کینسر کا باعث بننے والی پن چکیوں والی اس کی باتوں کا، جبکہ صدر کے حمایتی اس کی طرف سے یہ بیان دینے پر کہ یوم تشکر پر جنگ کا آغاز ہوگیا ہے پر تالیاں پیٹتے ہیں۔
سلیمانی کے قتل کے ساتھ ہی قطع نظر اس کے سچ اور حقیقت کیا ہے اور مادام بواوری طرز کے لفظ سلاد (جو آج بھی اتنے ہی بے باک ہیں جتنے پہلی بار سامنے آنے کے وقت تھے) مائیک پینس کا سلیمانی کے نائن الیون میں ملوث ہونے کا حوالہ ایسی حقیقت سے دور ہیں جیسے ایما کا شیروں سے بھرے جنگلات کی سرحد پر رومن کھنڈرات، اونٹوں،ہنسوں، سلطانوں اور انگریز خواتین کا تصور۔
الجھنوں سے بھرے بیانیہ کا سیلاب بنا تھمے جاری ہے۔ صرف آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا ایران 21ویں صدی کے امریکہ کا پرشیا بن جائے گا؟

Facebook Comments