January 16, 2020 at 1:19 pm

پاکستان میں 14 جنوری 2020 کی رات سوا آٹھ بجے کے بعد سے تمام مسائل ہو چکے ہیں۔

بس مسئلہ ہے تو اے آر وائی کے پروگرام  “آف دی ریکارڈ” سے پیدا ہونے والی صورت حال کا۔

کاشف عباسی کے شو میں فیصل واوڈا کے ” بوٹ” سے اٹھنے والا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

صحافی ہوں یا سیاست دان اور عام شہری سب ہی اسے اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ہم  اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے بجائے ٹوئیٹر اور فیس بک پر زیر گردش کچھ اسکرین شاٹس آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2020/01/16/15300/پیمرا نے کاشف عباسی پر پابندی

شروع کرتے ہیں ڈاؤن ٹیلی ویژن کی اینکر مہر بخاری سے جو کاشف عباسی کی اہلیہ بھی ہیں۔

مہر بخاری نے کاشف عباسی پر پابندی کو احمقانہ اقدام قرار دیا ہے اور انہوں نے وفاقی ویر پر پابندی نہ لگانے کے عمل پر سوال اٹھایا ہے۔

 

وسیم عباسی نے اے آر وائی کے اینکر صابر شاکر کی مختلف علاقوں میں چینل کی بندش سے متعلق ٹوئیٹ پر چند لفظوں میں بہت کچھ کہہ دیا۔

اے آر وائی ہی کے عماد یوسف نے کاشف عباسی پر پابندی کو پیمرا کا یک طرفہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2020/01/15/15208/مسخرے اور رہنما میں فاصلہ رکھیے

آصف شہزاد کہتے ہیں کشمیر میں برفانی طوفان سے 74 اموات ہو گئیں لیکن ٹی وی پر صرف اور صرف بوٹ کا تذکراہ ہے انسانی المیہ نظر انداز

سما ٹی وی کی اینکر امبر رحمان شمسی نے بھی فیصل واوڈا پر پابندی نہ لگائے جانے پر سوالہ اٹھایا ہے۔

صابر نذر نے “بوٹ” والی بات کو کارٹون کی صورت میں واضح کیا ہے۔

سینئر صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا سب سے ہٹ کر بات کی ہے وہ کہتے ہیں سارا غصہ ٹی وی پر نکالا جائے گا

چینل مالکان اور اینکرز نے تابعداری بھی بہت دیکھائی تھی اب سعودی چینی  ماڈل پر مارے بھی جائیں گے۔

بول ٹی وی کے اینکر سمیع ابراہیم نے اپنے ساتھی اینکر کی حمایت میں ٹوئیٹ کی لیکن جو کچھ ہوا یا جس نے کیا اس پر کچھ نہیں

 

آج ٹی وی کے پروگرام فیصلہ آپ کا کی میزبان عاصمہ شیرازی نے بھی “بوٹ’ ہی پر اپنا پروگرام کیا

جیو ٹی وی کے اینکر حامد میر نے بھی مزے لے لے کر فیصل واوڈا سے سوالات کیے اور ان کی پوزیشن صاف کرانے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔

 

صحافی عمر چیمہ نے اینکر کے خیالات کی مختصر جملے میں خوب عکاسی کی۔ کاش وہ ہمارے شو میں بیٹھا ہوا؟

ڈان اخبار اسلام آباد کے ایڈیٹر فہد حسین نے اے آر وائی کے پروگرام پر چند لفظوں میں بہت کچھ دے دیا۔

پاکستانی میڈیا کی طرح انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اس احمقانہ اقدام کو شہ سرخیوں میں لیا ہے۔

عرب نیوز نے فیصل واوڈا کی بوٹ ہاتھ میں لی ہوئی تصویر لگائی ہے۔

سینیر صحافی ناصر بیگ چغتائی نےبھی فیصل واوڈا پر پابندی کون لگائے کا سوال چھوڑا ہے

سینئر صحافی اور تجریہ کار عدنان عادل نے مفصل ٹوئیٹ کی اور بوٹ کی خصوصیات بیان کیں اور آخر میں واوڈا کے فعل کی مزمت کر ڈالی۔

اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے اپنے اپنے انداز سے اس واقعہ پر تبصرے کیے ہیں۔

صحافی اعجاز نقوی کہتے ہیں فیصل واوڈا کا اے آر وائی پر “بوٹ” پورے سیاسی عمل اور صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔

بات یہ ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے؟

کیا کسی ایڈیٹر اور صحافتی تنظیموں نے اس جانب سوچا ہے؟

صورت حال کو یہاں تک لانے میں حکومت یا اداروں کے بجائے خود صحافیوں کا بڑا کردار ہے۔

۔اس وقت جو جس قدر کسی کے کپڑے اتارے وہ اتنا ہی مشہور ہے

یاد رکھیے اگر اب بھی نہ سنبھلے تو پھر یہ ضرور یاد رکھیے۔

چراخ سب کے بجھیں گے

Facebook Comments