January 16, 2020 at 11:22 am

گزشتہ برس اگست2019کےبعدمسئلہ کشمیرپرسلامتی کونسل میں ہونےوالایہ تیسرااہم اجلاس ہے
جس کےلیے پاکستان نے دوست ملک چین کے ساتھ مسلسل کوششیں کیں اوریہ اجلاس عمل میں آیا۔

اجلاس اقوام متحدہ کےتحت ڈپارٹمنٹ آف پیس آپریشنزاورپولیٹکل اینڈپیس بلڈنگ افیئرزکی جانب سےکیاگیاجس میں پندرہ ممالک کےنمائندوں نےشرکت کی۔

اجلاس کےبعدچین کےمستقل مندوب ژینگ جن نےمیڈیاکوبتایاکہ اجلاس میں کشمیرکی زمینی صورت حال پرغورکیاگیا
کشمیرہمیشہ سےسلامتی کونسل کےایجنڈےمیں شامل ہےاورکشمیر پرچین کامؤقف واضح ہے۔
روس کےمندوب نےکہاکہ سلامتی کونسل کےبندکمرےکےاجلاس میں کشمیرکامسئلہ زیر بحث آیا
روس پاک،بھارت تعلقات معمول پرلانےکاخواہش مندہےامیدہےدو طرفہ کوششوں سےپاکستان اوربھارت میں اختلافات دورہوجائیں گے۔

روسی مندوب نے سوال کےجواب میں کہاکہ انھیں کشمیرکی صورت حال پرشدیدتشویش ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیراس وقت شدیدلاک ڈاؤن کاشکارہےاوردرجنوں کشمیریوں کوبھارتی افواج نےشہیدکیاہےجب کہ بھارتی فوجیوں کےزیرحراست افرادکی تعدادہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔

Facebook Comments