January 15, 2020 at 11:11 pm

اسرائیل نے اپنی افواج کو لیزر ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
لیزر سورڈ نامی ائیر ڈیفنس سسٹم ہائی انرجی لیزر بیمز کی مدد سے راکٹوں اور میزائلوں کو فضاء میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق لیزر سورڈ ائیر ڈیفنس سسٹم سے ڈرونز اور لانگ رینج بلیسٹک میزائلوں کو بھی فضاء میں تباہ کیا جا سکے گا۔
اسرائیل کو امید ہے کہ دفاعی نظام خراب موسم، بادلوں اور کم روشنی میں بھی موثر ثابت ہو گا۔
اسرائیلی حکام نے لیزر سورڈ کو خطے میں گیم چینجر اور ملٹری ٹیکنالوجی میں بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا ہے۔
رواں برس دفاعی نظام کو آزمائشی طور پر اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ آئرون ڈوم نامی دفاعی نظام کی نسبت لیزر سورڈ انتہائی کم خرچ اور زیادہ موثر ثابت ہو گا۔
لیزر سورڈ میں ایک راکٹ یا میزائل کو انٹرسپٹ کرنے پر صرف ایک ڈالر خرچ آئے گا۔
اس کے برخلاف آئرن ڈوم پر اسی عمل کے لیے اسی ہزار ڈالر خرچ آتا ہے۔
اسرائیل کو خدشہ ہے کہ کسی بڑی جنگ میں آئرون ڈوم کے فضاء میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے راکٹس ختم ہو سکتے ہیں۔
لیزر سورڈ بجلی کی مدد سے چلنے والا دفاعی نظام ہے جو پاور سپلائی کی موجودگی تک لیزر بیمز سے اپنے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
اس سے پہلے اسرائیلی پولیس لیزر بلیڈ نامی دفاعی نظام سے غزہ اور لبنان سے آنے والی آتش گیر پتنگوں اور غباروں کو فضاء میں تباہ کرنے کا کام لے رہی ہے۔
خیال رہے خطے میں بیلسٹک میزائل کی سب سے بڑی طاقت ایران ہے۔
ایران کے پاس مین سے زمین اور فضا میں مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہیں۔
ایران کا دعوی ہے اسرائیل سمیت کئی ممالک تک اس کے میزائل اپنے حدف کو باآسانی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حال ہی میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے امریکا کے عراق میں انتہائی مضبوط فوجی ٹھکانہ پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائل برسائے تھے۔
امریکا بھی اسرائیل کی طرح کا دعوی کرتا رہا تھا کہ وہ بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکا کا دفاعی نظام ناکارہ بنا کے فوجی اڈہ کو نشانہ بنایا۔

Facebook Comments