January 15, 2020 at 7:00 pm

جب “مہمان” کو جدّہ میں 9 گھنٹے انتظار میں بٹھایا گیا
“بس بھئی بس ، زیادہ بات نہیں چیف صاب” کٹھ پُتلی”بغاوت ” کرنے والی ہے؟
“فاصلے ایسے بھی ہو‍ں گے “

تحریر : علیم عُثمان

“وہ” اس بار” کپتان” کو” لانے” کا فیصلہ کر چکے تھے کہ سیاسی بھاؤ تاؤ سے بے بہرہ “کپتان” نے پیپلز پارٹی حکومت کی طرف سے جنرل کیانی کو” ایکسٹنشن” دیئے جانے کے خلاف بیان دے ڈالا جس پر” چیف” کا ماتھا ٹھنکا ، جو عہدہ سنبھالنے سے پہلے انٹیلی جنس چیف تھا۔
ادھر چوہدری نثار اور شہبازشریف نے “چیف” سے ملاقات کر کے معاملہ کرلیا چیف نے نیا “گیم پلان” فائنل کر کے واشنگٹن کو اعتماد میں لے لیا اور یوں۔
2013 کے عام انتخابات میں نوازشریف کو” لانے” کے فیصلے پر عملدرآمد کر لیا گیا ، بعد میں جب “کپتان” پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تو وہ اپنی “نابالع نظری” اور “اصولی بیان بازی” اور اس کےنتائج کے حوالے سے خوفزدہ ہوگیا اور … “ایکسٹینشن کی مُخالفت” کا اصولی مؤقف بھُلا کر “ایکسٹنشن ایکسٹینشن” کا سبق یاد کرلیا۔

مزید پڑھیے: http://www.khabarwalay.com/2020/01/15/15238/بوٹ برداری

البتّہ گزشتہ اگست میں ایک لمحے کے لئے وہ ضرور “بہک” گیا تھا جب اس نے اپنے نوعُمر غیر مُنتخب مگر “قریبی” مشیر کے مشورے پر اس کے ہم مسلک “فرشتے” کو چیف بنانے پر غور شروع کردیا تھا اور پتہ چلنے پر “جدّہ والے” آپ سیٹ ہوگئے تھے ، اور پھر ایک رات پنڈی سے 4 “فرشتے” ہنگامی طور پر قصر وزیراعظم پہنچے اور اپنی موجُودگی ہی میں ایکسٹنشنی کا ایک پروانہ جاری کروا کے اٹھے جو کئی آئینی تقاضے پورے کئے بغیر ہی نہایت عجلت میں جاری کر دیا گیا تھا۔)

“کپتان” کے جس نوعُمر غیر منتخب “قریبی” مشیر نے “چیف” بدلوانے کی کوشش کی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ اوپر درج کی گئی “واردات” کے بعد پھر اسی نے دوسری کوشش کے طور پر اپنے ماموں کی وساطت سے جو ایک سینیئر نامور وکیل ہیں۔
راہ نجات” کے اس راہی کو خطیر معاوضے پر وہ پٹیشن دائر کرنے پر آمادہ کیا جس کی سماعت نے 3 دن کے لئے ملک کو سنگین بحرانی کیفیت میں مبتلا کئے رکھا۔
دن گزرتے گئے ، اس دوران” کپتان” کے سیاسی رول ماڈل اور ذاتی دوست مہاتیر محمد کی ملائشیا والی سربراہی کانفرنس آگئی ، جس کا اصل مقصد “گروپ 7” کے نام سے ہم خیال اسلامی ملکوں کا ایک پریشر گروپ قائم کرنا بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ میں یو این او کی سالانہ اسمبلی کے موقع پر کپتان اس آئیڈیا کی بنیادی مشاورت میں شامل تھا اور “خاکیوں” کی آشیرباد بھی حاصل ہوگئی تھی تاہم جدّہ اور واشنگٹن اس پر سخت ناراض ہوگئے۔
ملائشیا کانفرنس سے قبل ناراض “جدّہ” کو “وضاحت” دینے کے لئے پہلے جب ودیش منتری کو بھیجا گیا تو بتایا جاتا ہے کہ منتری جی کو سخت ذلّت کا سامنا کرنا پڑا جنہیں شاہی دربار میں حاضری کے لئے پہلے تو 9 گھنٹے انتظار کروایا گیا اور جب سخت بھُوک لگ جانے پر ودیش منتری کھانا کھانے لگے تو عین اسی لمحے انہیں ملاقات کے لئے طلب کرلیا گیا۔
اسی طرح امریکہ کے دورے اور یو این اسمبلی میں “خان” کی تقریر کے حوالے سے “خاکیوں” کی طرف سے اسے مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔
خان جانے سے پہلے کشمیر کے سلگتے مسئلے پر اپنے مظفرآباد جلسے سے خطاب میں کہہ چکا تھا کہ نوجوان ابھی کنٹرول لائن کی طرف بڑھنے سے رُک جائیں اور یو این او سے واپسی پر میری اگلی کال تک انتظار کریں۔
اور یو این اسمبلی میں “خان” کی دبنگ تقریر سے کنٹرول لائن کے دونوں طرف ایسا ماحول پیدا ہو گیا تھا کہ اس طرف والے کنٹرول لائن کے اس بار اور اس بار والے کنٹرول لائن عبور کر کے اس طرف آنے کے لئے بے تاب تھے مگر … پھر “کپتان” کو “آگے بڑھنے” سے روک دیا گیا اور اس پر واضح کیا گیا کہ دونوں ملکوں میں اس حد تک گشیدگی کی فضاء نہیں پیدا کرنی کہ جنگ کا ماحول جنم لے لے۔

مزید پڑھیے:مسخرے اور رہنما میں فاصلہ رکھیں

“سلیکٹرز” اور “سلیکٹڈ” کے مابین بڑھتی جارہی تلخیوں نے دس سالہ منصوبے کا سارا خاکہ ہی خاک میں ملا کے رکھ دیا ہے . ایک مُلاقات میں تو گلہ شکوہ تلخی میں بدل چکا ھے جب “مرکزی چیف” اور” حساس چیف” کے ساتھ “سلیکٹڈ” نے بےلاگ انداز میں “ڈائریکٹرز” کی “ناقص ہدائت کاری” اور “ڈائریکشن” کے تضادات کی نشاندہی کی . . جس کے بعد “ایک پیج” کے فریقین میں فاصلے بڑھنے شروع ہو گئے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ “فرشتوں” کے ساتھ “کپتان” کی اس حالیہ بیٹھک جس میں دونوں “چیف” موجُود تھے ، دونوں طرف سے پہلی بار قدرے تلخ ماخول میں گلے شکوے ہوئے۔
“کپتان ” نے کہا “پہلے میری یو این اسمبلی والی تقریر کو appreciate کیا گیا پھر اس سے مسئلہ کشمیر پر ماحول گرم ہونے لگا تو مجھے رک جانے کا کہہ دیا ، اسی طرح امریکہ میں مہاتیر اور اردگان کے ساتھ جس آئیڈیا پر اتّفاق رائے ہوا تھا آپ نے اسے سپورٹ کیا مگر عین موقع پر مجھے پیچھے ہٹ جانے کے لئے کہہ دیا گیا ، میرے فارن منسٹر کی بھی جدّہ میں humiliation ہوئی ، آپ نے بار بار مجھے پہلے آگے بڑھنے کو کہا اور پھر پیچھے کھینچ لیا”

Facebook Comments