January 15, 2020 at 6:19 pm

تحریر محمد امنان

فلم فئیر ایوارڈز اور اس سے ملتے جلتے ایونٹس میں بہترین فنکاری کے جوہر دکھانے والے اداکاروں کو ایورڈز سے نوازا جاتا ہے لیکن اب ماحول بدل رہا ہے۔
اداکاری اور اسکرین پہ چھائے رہنے کا جنون وفاقی و صوبائی وزرا سمیت موجودہ کابینہ کے ارکان میں روز بروز بڑھ رہا ہے۔
سوشل میڈیا کو روزانہ کوئی نا کوئی نیا شوشا تبصروں ، چٹکلوں اور لطیفوں کی صورت میں دستیاب ہے۔
اداکاری کی بنا پر وزارتیں بانٹ دی گئی ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا لیکن میرا اور مجھ جیسے عام پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم محترم جناح صاحب کے بعد لیڈروں کی بجائے اداکاروں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔
کسی بھی سیاسی پارٹی کو لے لیجئیے بے شمار اداکار اور فنکار عادات و خصائل کی بنا پر آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔
سونے پہ سہاگا یہ کہ میڈیا چینلز بھی ہیں پہلے دور میں ڈائیلاگز یعنی سیاسی ڈائیلاگز اخبارات میں چھپوائے جاتے تھے لیکن تب تک سیاسی فنکاروں کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو آج کے دور میں میسر ہے۔
سیاسی منظر نامے پہ نظر دوڑائیں حکومتیں آنے سے پہلے جلسے جلوسوں میں دعوں وعدوں کی للکار میں درپردہ جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے۔
نعرے دیکھ لیں ، غریبوں کا لیڈر ، کسانوں کی آواز، نیا پاکستان، کھپے اور ووٹ کو عزت دو وغیرہ وغیرہ
فنکاری اور اداکاری میں ماہر سیاستدان اسی حساب سے وزارت کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد فیصل واوڈا کا ایک شو میں فن کا عملی مظاہرہ تھا جس میں شو کے سیٹ پر جناب دوسری سیاسی پارٹیاں جو اپوزیشن میں ہیں ان کے راہنماوں کی موجودگی میں ایک بوٹ (شوز) ٹیبل پر رکھتے ہیں۔

موصوف پھر ڈائیلاگ بازی شروع کر دیتے ہیں۔
خیر واوڈا پہ بات چلتی رہے گی بطور صحافت کے طالب علم مجھے جو چیز کھٹک رہی ہے وہ یہ کہ چینل میں ٹاک شو کرنے والا ایک سینئیر اینکر مہمانوں کی آمد اور ان کے ساتھ لائے گئے سامان سے کس طرح بے خبر ہو سکتا ہے۔

یا شو کے سیٹ میں یہ چیزیں لے جانا چینلز کی پالیسی میں کب سے شامل ہو گیا؟
یا تو اینکر اس ڈرامے میں ہیلپنگ کریکٹر تھا یا پورا کا پورا سین پلانٹنڈ اور پہلے سے طے شدہ تھا آخر ریٹنگ بھی تو کمانی ہے نا بھیا۔

صحافت کو استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی جواب ہے خود بڑے صحافیوں نے جو بعض اوقات اپنے پسندیدہ سیاسی فنکار یا ہیرو کی ترجمانی میں ایسے ایسے عوامل سے گذرتے اور بولتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔
صحافت کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے یا ہو چکا یہ میری پریشانی ہے کیونکہ میں ایک چھوٹے سے شہر میں خبریت کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش میں ہوں اور تمام شعبہ ہائے جات میں اداکاری کا سایہ خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

بوٹ سے قبل 2018 میں چائینیز قونصلیٹ پہ حملے کے دوران بھی وفاقی وزیر برائے آبی وسائل المعروف فیصل واوڈا جناب بنفس نفیس کسی ایکشن ہیرو کی طرز پہ بلٹ پروف جیکٹ اور پسٹل کے سنگ پہنچے اور اداکاری کے جوہر دکھائے اور بہت کوریج کمائی۔
اب یہ بوٹ والا ایشو دیکھ لیں ہو سکتا ہے موصوف نے اپنی دانست میں دیگر سیاسی جماعتوں کو طنز کرنے کو علامتی طور پہ بوٹ میز پہ رکھا ہو اور حقیقت بھی یہ ہی ہو کہ بھئی یہ طاقت کی علامت ہے۔
اسی کے سامنے سب جھکتے ہیں ایسا فیصل واوڈا نے سوچا اور مانا ہو گا۔
لیکن اس طرز اداکاری پہ آپ فوج جو منظم ادارہ ہے اس پورے ادارے کو متنازعہ کیوں بنا رہے ہیں؟؟؟؟
یہ کیا یک طرفہ تماشہ ہے؟؟ ستر بہتر سال سے ڈھکے چھپے انداز میں ان کی مداخلت رہی ہے اور بہت رہی ہے۔
لیکن اب موجودہ حکومت کا وزیر جس کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں انہیں کیا ضرورت پیش آ گئی کہ ایک چینل پہ لائیو آ کر بوٹ دکھاتا پھرے۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2020/01/15/15208/مسخرے اور رہنما میں فاصلہ رکھیں

نوجوان نسل اور جن کو سوشل میڈیا تک رسائی ہے اور بالخصوص میڈیا اسٹڈیز کے طالب علموں سے سوال ہے کہ آئیندہ جو نسل جوان ہو کر ہم لوگوں کے پیچھے چلے گی ان کے لئے ہم اخلاقی ، معاشرتی اقدار کا نشان بوٹ رکھ سکتے ہیں؟؟؟؟؟
کوئی وزیر کہتا ہے فائن آٹا مت کھائیں۔
ٹماٹر 17 روپے کلو ہیں۔
مٹر 5 روپے کلو، سکون قبر میں ہے۔
بیمار آدمی دیار غیر میں ہوٹلوں میں ہوا خوری کر رہا ہے کچھ وزرا حوا خوری کر رہے ہیں یہ چل کیا رہا ہے؟؟؟
ملک میں لیڈرز کا فقدان ہے یا سمجھ اور سوچ بچار والوں کو دیوار سے لگا رکھا ہے۔
ایک آخری بات جو ذہن میں بگولوں کی طرح اٹھ رہی ہے وہ یہ کہ کہیں حکومت مشکل میں تو نہیں ؟؟؟
بوٹ اس لیے دکھایا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دے کر ایک ترمیم میں حصہ لیا۔
یا بوٹ اس لیے دکھایا گیا کہ اس کی عادت ڈال لیں کسی خاص ادارے کا ذکر نہیں کر رہا ہر شعبہ ہر ادارے ہر طبقے کے لئے یہ پیغام تھا کہ کامیابی کا راستہ بوٹ برداری ہے؟؟؟؟
صحافت کے تو کیا ہی کہنے چینلز ترجمانی کر رہے ہیں۔


اینکرز سیاسی اداکاروں کے ساتھ مل کر ٹھٹھے مار رہے ہیں اور عام پاکستانی بے چارے سوچ رہے ہیں کہ حالات کب بدلیں گے یا علامتی طور پر بوٹ کا لاکٹ گلے میں لٹکائے گھومیں جس طرح وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ حیثیت اور یہ طریقہ ہے کامیابی کا۔
سب کچھ سمجھ سے باہر ہے لیکن وفاقی وزیر نے ایک بات تو سچ کہی ہے کہ منظر پہ رہنا اور چمکنا ہے تو بوٹ برداری لازم ہے کیونکہ اس ہجوم کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے قوم کیسے کہا جائے۔
کیونکہ یہ قصور عوام کا ہے کہ یہ بوٹ بردار خود پہ مسلط کر لئے جو حقیقی مسائل کے حل کی بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور اداکاری میں مصروف عمل ہیں۔
لہذا مسائل کے حل ہونے اور فکری صلاحیتیں جاگنے تک اس ہجوم جسے اپنے تئیں قوم کا نام دیا جاتا ہے سے گذارش ہے کہ بوٹ برداری کیجئیے اب تو وزرا اس کی ہدایت سر عام کر رہے ہیں۔
شکریہ

Facebook Comments