January 15, 2020 at 3:18 pm

تحریر اعجاز نقوی

انسانی تہذیب و تمدن کی ترقی شعور کی پختگی کے بغیر ممکن نہیں اور شعوری نشونما کے لیے ہر
شعبہ ہائے زندگی میں مہذب افراد کی موجودگی جزو لاینفق ہے۔
لیکن شومئی قسمت دیکھئے کہ ہمارے ہاں ایسا قحط الرجال ہے کہ جس طرف نظر دوڑائیں ہر شاخ پر الو دکھائی دیتا ہے۔
ایسے میں چمن میں بہار آئے اندھے کا خواب ہی دکھائی دیتا ہے۔
ملک عزیز کو جانے کس کی نظر کھائے جا رہی ہے کہ ہمارے رہنما ہی رہزن ٹھہرے۔
باقی شعبوں کی تو چھوڑیے سیاست کے افق پر ایسے ایسے ستارے دمک رہے ہیں کہ آسمان بھی بیچارا زمین سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔
ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ہم عابد شیر علی اور کمپنی کو دیکھ کر شکوہ کناں رہتے تھے کہ میدان سیاست میں نوابزادہ نصراللہ ،
پروفیسر غفور اور نیازی صاحب جیسے تو کیا کبھی امین فہیم جیسے ہی الفاظ کو تول تول کر بولنے والے میسر آئیں گے کہ
ڈانس پارٹی جیسی افتاد آن پڑی یہاں ایسے ایسے نابغہ روزگار ہیں کہ جانے والے گناہ گار بھی پارسا دکھائی دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا طرہ امتیاز سمجھئیے کہ یہاں آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے گا۔
جب بات واؤڈا صاحب کی آ جائے تو کیا بالی ووڈ اور لالی ووڈ۔


جنھیں موت کے کنویں میں سائلنسر نکال کر موٹرسائیکل کے کرتب دکھانا تھے وہ ٹی وی پروگراموں میں
جوتے اٹھائے طرم خان بنے ہوئے ہیں۔
جناب نے شادیوں میں جوتا چھپائی سے شروع ہونے والی رسم کو ٹی وی پروگراموں میں جوتا دکھائی میں بدل دیا ہے۔
شاید یہی وہ تبدیلی ہے جس کا انھوں نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا۔
بات تہذیب و تمدن سے شروع ہوئی تھی تو یاد رہے جتنا دستار اور جوتے کے درمیان فاصلہ ہے اتنا ہی مسخرے اور رہنما میں رہنا ضروری ہے۔
ورنہ پاؤں میں رہنے والے یونہی سر کو آتے ہیں۔

Facebook Comments