January 15, 2020 at 12:54 pm

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجازالاحسن نے نیب آرڈیننس کی شق 25 اے کے متعلق
ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع کرتے ہیں‌کہ حکام نیب قانون سے متعلق مسلے کو حل کرلیں گے اور مناسب قانون
پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا

عدالت‌نے‌ کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق فاروق ایچ نائیک نیب قانون میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرچکے ہیں،
حکومت نیب قانون میں ترمیم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے،

عدالت نے کہا کہ تین ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اور میرٹ کو دیکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ کرے گی،

سینیٹر فاروق ایچ نائق نے بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں‌میرا نیب آرڈیننس سے متعلق پرائیوٹ‌ممبر بل موجود ہے
سینیٹ کمیٹی سے منظوری کے بعد معاملہ ایوان میں‌جائے گا بل کے مطابق نیب کے آرڈیننس 25 اے کو مکمل طور پر ختم
کیا جارہا ہے

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت معاملہ نمٹانے لگی ہیں لیکن اگر آپ نے بحث کرنی ہے تو نیب آرڈیننس کے سیکشن
25 اے کو آئین سے متصادم ثابت کریں

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا قانون ہے کہ پہلے انکوائری ہوگی پھرر تحقیقات اس طرح تو ملزم کے خلاف زندگی بھر کیس
ختم نہیں‌ہوگا

انہوں‌نے کہا کہ نیب قوانین میں‌ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہے حکومت نیب قانون کے معاملے کو زیادہ طول نہ دے

Facebook Comments