January 14, 2020 at 8:27 pm

قومی اسمبلی میں کارروائی اچانک وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے درمیان مناظرے میں بدل گئی ۔
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ ثابت ہو کر رہے گا رانا ثنااللہ کے خلاف کیس حقیقت ہے جبکہ حکومت اور وزارت ان کو اس کیس سے بھاگنے نہیں دیں گی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘رانا صاحب! آپ نے سات ماہ حیلے بہانے بنائے، ویڈیو کی بات کی گئی، ویڈیو تو رانا مشہود اور ایان علی کے کیس میں بھی موجود تھیں، رانا صاحب! آپ تیاری کریں، 18 تاریخ کو مقدمہ ہے اور جب مقدمہ شروع ہوگا تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘رانا ثنا اللہ کو احساس ہونا چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہوگا، یہ معاملہ پارلیمنٹ اور میڈیا سے حل نہیں ہوگا، رانا صاحب قرآن ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اس پر عمل بھی کیا کریں جبکہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین بھی قرآن اٹھا کر رانا ثنااللہ سے انصاف مانگ رہے ہیں۔’
شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘آئین اور قانون کی پاسداری اولین ترجیح ہونی چاہیے، میں نے کسی بھی جگہ کوئی قسم کھائی ہو تو جو چور کی سزا وہ میری سزا، میں نے کہا جان اللہ کو دینی ہے اس پر مذاق اڑایا گیا لیکن یہ ثابت ہو کر رہے گا رانا ثنااللہ کے خلاف کیس حقیقت ہے۔’
انہوں نے رانا ثنااللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایوانوں میں کسی کو ٹارگٹ کرنے نہیں آئے لیکن حکومت اور وزارت آپ کو اس کیس سے بھاگنے نہیں دے گی۔’
زندگی میں کسی منشیات فروش سے تعلق نہیں رکھا،رانا ثنااللہ
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے شہریار آفریدی کے بیان کے جواب میں کہا کہ ‘ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت نے 126 لوگوں کو ٹرائل کیا، شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں، ماڈل ٹاؤن کیس میں 15 سیاستدان شامل ہیں جن میں سے ایک میں بھی ہوں جبکہ کیس کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہمیں قابل قبول ہوگا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ زندگی میں کسی منشیات فروش سے تعلق نہیں رکھا، کسی بھی پراسیکیوشن میں پہلے تفتیش کا عمل ہے بعد میں ٹرائل ہوتا ہے لیکن منشیات کے مقدمے میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی اور مجھ سے کسی تفیشی افسر نے بیان ریکارڈ نہیں کیا۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ شہریار آفریدی کو حقیقت معلوم ہے لیکن یہ صرف ادھرا ُدھر کی ہانک رہے ہیں

Facebook Comments