January 14, 2020 at 5:52 pm

(رپورٹ عامر حسینی)
آرمی ایکٹ میں حکومتی ترمیمی بل پر پیپپلز پارٹی کی حمایت کے خلاف بیان دینے پر سیکریٹری فرحت اللہ بابر سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو،سابق صدر آصف علی زرداری سمیت سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی کے کئی اہم رہنماؤں کی برہمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو جو اس وقت عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مقیم ہیں۔
ان کے ہمراہ موجود پی پی پی کی ایک اہم شخصیت نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو فرحت اللہ بابر کے لاہور میں ایک تقریب کے دوران کی گئی تقریر سے شدید تکلیف اور صدمہ پہنچا ہے۔
اس شخصیت کا کہنا تھا جو خود بھی سی ای سی کے اجلاس میں موجود تھے چئیرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے اخبارات میں فرحت اللہ بابر سے منسوب یہ جو بیان آیا ہے کہ پارٹی لیڈرشپ نے ترامیم کی منظوری سی ای سی کے فیصلوں کو بائی پاس کرتے ہوئے کیں اور کمیٹی کے ارکان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
خبروالے ويب سائٹ سے بات کرنے والی پی پی پی کی اس اہم شخصیت نے بتایا کہ جب سی ای سی کا اجلاس کراچی میں جاری تھا تو رات تین بجے تک اسلام آباد میں مختلف اداروں اور حکومتی حلقوں سے پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم رہنماؤں کے مذاکرات جاری رہے۔
اس شخصیت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگلے روز صبح جب نوید قمر، شیری رحمان، نئیر بخاری، راجا پرویز اشرف اور میاں رضا ربانی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم سے رابطہ کیا تو پرویز خٹک نے نوید قمر سے کہا کہ وہ چئیرمین بلاول بھٹو کی موجودگی میں ملاقات چاہتے ہیں جو اسلام آباد زرداری ہاؤس میں ہوئی اور اس کی ویڈیو خبروالے ویب سائٹ کو مل گئی ہے جس میں سی ای سی کے اجلاس میں بنائی گئی کمیٹی کے سب اراکین پرویز خٹک اور دیگر پی ٹی آئی کے اراکین اور چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس اجلاس میں بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کو آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کو بنانے، ہٹانے اور دوبارہ لگانے کے اختیار پر اعتراض نہیں ہے لیکن بل قائمہ کمیٹیوں سے پاس ہوں اور پارٹی کی ترامیم کو زیر غور لايا جائے۔
پرویز خٹک نے جواب دینے کے لیے تھوڑا وقت مانگا۔
پھر پرویز خٹک نے بتایا کہ پی ٹی آئی پی پی پی سے ایک اور میٹنگ کرنا چاہتی ہے۔
یہ میٹنگ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی اور اس میں بھی نہ صرف کمیٹی کے چاروں اراکین موجود تھے بلکہ دیگر پارلیمینٹرین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
اس دوران مصدقہ ذرایع سے پتا چلا ہے کہ پی پی پی سے کچھ اور اداروں نے بھی درخواست کی کہ ترامیم پر اصرار نہ کریں اور بل کی حمایت کریں۔
اس پر بلاول بھٹو نے سی ای سی سے مینڈیٹ لے کر آنے والی کمیٹی اور اراکین قومی اسمبلی و سینٹ سے مشاورت کی اور رائے طلب کی۔
بلاول بھٹواور نوید قمر نے کمیٹی سمیت اراکین کو بتایا کہ مسلم لیگ نواز نے پی پی پی کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کی حمایت کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔
اس پر وہاں موجود سب لوگوں نے تین ترمیمی بلوں کی حمایت کے حق میں فیصلہ دے ڈالا۔
خبروالے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے پی پی کے کئی ایک سنٹرل ایگزيکٹو کمیٹی کے اراکین اور پی پی پی کے انتہائی سئینر اراکین نے نام ظاہرکرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار رات گئے تک جاری رہنے والی سی ای سی کے اجلاس میں شریک سب اراکین نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کو پاس کرنے پر اتفاق کیا اور سینیٹر مولا بخش خاصخیلی نے لمبی تحریک کرتے ہوئے چئیرمین بلاول بھٹو پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2020/01/07/14292/آرمی چیف کی مدت ملازمت توسیع‌کیوں‌ وجوہات بتانی ہوں‌گی

اس موقع پر اکثر اراکین نے کہا کہ چئیرمین جو فیصلہ کریں گے وہ سب کو قبول ہوگا۔
سینیٹر مولا بخش خاصخیلی نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ہم ناخوشگوار فیصلہ نہ چاہتے ہوئے بھی لیں گے۔
ہم نے ضیاء دور میں اور پھر مشرف دور میں بھی ایسے فیصلے کیے،
انھوں نے کیانی کی ایکسٹینشن کا حوالہ بھی دیا۔
سینٹر رضا ربانی نے ترمیمی بلوں کے حوالے سے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان بلوں کو سپریم کورٹ کی ڈائریکشن کے مطابق ہونا چاہیے۔ انھوں نے آرمی ایکٹ کو پبلک کرنے کی ضرورت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصّہ قرار دیا تو نواب یوسف تالپور، نوید قمر سمیت کئی اراکین نے کہا کہ یہ ایکٹ تو 73ء کے آئین کے وقت سے سیکرٹ چلا آرہا ہے۔
سی ای سی کےاجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ پارٹی مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی سے ترمیمی بل پر بات کرنے کے لیے کمیٹی بنائے گی۔
نواز لیگ کی مشاورت سے جو طے ہوگا وہ کیا جائے گا۔
خبروالے ویب سائٹ کو پی پی رہنماء سینیٹر کرار حیدر نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری پر سی ای سی کے فیصلوں کو بائی پاس کرنے اور مذاکراتی ٹیم کو اعتماد میں نہ لینے کا الزام درست نہیں ہے۔
نوید قمر نے خبروالے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرحت اللہ بابر سے ملے نہیں ہیں اور نہ ان کو پتا ہے کہ فرحت اللہ بابر نے کیا کہا ہے۔

باقی آرمی ایکٹ پر پی پی پی نے جو فیصلہ لیا وہ سب کا اجتماعی فیصلہ تھا اور اس فیصلے کا سی ای سی کی بنائی کمیٹی بھی حصّہ تھی اور میں نے خود ایوان میں وہ ترامیم واپس لینے کا اعلان کیا تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اعتماد میں لیے بغیر پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ کردیا ہوگا۔
نئیر بخاری ایڈووکیٹ نے خبروالے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ سوموار کو نیشنل اسمبلی کے سیشن سے پہلے زرداری ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت سے ہوئے دو مرتبہ مذاکرات میں سی ای سی کے چاروں اراکین موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کے حوالے سے پارلمنٹ میں حمایت کا فیصلہ پارٹی کا اجتماعی فیصلہ تھا اور اس فیصلے میں کسی کو بائی پاس نہیں کیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کو اعتماد میں لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بالکل اعتماد میں لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ فرحت اللہ بابر نے کیا کہا وہ شہر سے باہر ہیں انہوں نے کیا بات کی بات ہوگی تو کچھ کہہ سکیں گے۔

شیری رحمان کے زاتی فون نمبر پر کئی بار رابطہ کیا گیا لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔

ان کے میڈیا کوارڈینٹیر شفیق سولنگی نے خبروالے کو بتایا کہ شیری رحمان کی طبعیت ناساز ہے اور وہ گھر سے دفتر نہیں آئیں۔-
خبروالے نے اس حوالے سے پی پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری فرحت اللہ بابر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر سرے سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتے۔

مزید پڑھیے: https://www.khabarwalay.com/2020/01/06/14220/آرمی ایکٹ پبلک کرنے کا مطالبہ

 

Facebook Comments