January 14, 2020 at 1:54 pm

تحریر عامر حسینی

میں نے جب نیٹ فلیکس سیریز جامتارا۔
سب کا نمبر آئے گا دیکھنا شروع کی تو پہلے تو ایسے لگا کہ جیسے میں ملتان کے محلے ہنو کا چھجہ میں ہوں اور روہتک ضلع سے سن سنتالیس کی تقسیم میں آئے مہاجروں کی زبان سے نت نئی تیکھی گالیوں پر مبنی بھاشا سن رہا ہوں۔
لیکن پھر آہستہ آہستہ جب کہانی کھلنے لگی تو پتا چلا کہ یہ کہانی ہندوستان کے ایک قصباتی شہر جماترا کی ہے۔
جہاں پیداواری رشتوں میں ابھی زرعی ماحول رچا بسا ہے اور اس کا جو شہری علاقہ ہے وہاں پر غیر قانونی زرایع سے کمائی کے بل پر سماج کی ایک پرت میں خوشحالی کی ایک لہر ہے جو اپنے ساتھ بہت سارے مسائل لے کر وارد ہوئی ہے۔
فلم کے پروڈیوسر ترشنات سری واستو اور نشناک ورما ہیں اور ڈائریکٹر سومندرا پھاڈی ہیں۔
کہانی کاروں نے معیاری الفاظ اور معیاری اخلاق کے پیکر کرداروں سے یکسر انحراف کیا ہے۔
فلم کا ہیرو ایک شاطر ذہن کا خلاق مجرم مگر اچھے دل کا مالک ہے جس کی ڈوریاں ایک ولن جو علاقے کا نیتا بھی ہے۔
کھینچنے کی کوشش کرتا ہے۔
لوئر مڈل کلاس سے خوش قسمتی سے انڈین سول سروس کا امتحان پاس کرکے پولیس کیڈر میں بھرتی ہوجانے والی لڑکی جماترا ضلع میں ایس پی کی پوسٹ پر تعینات ہوتی ہے جس کا تجربہ کچھ بھی نہیں ہے۔
جماترا کی کچی آبادی میں رہنے والے مزدور پیشہ گھروں کے چند لونڈے جلدی سے امیر ہونے کا راستا تلاش کرتے ہیں۔
ان ہی میں کہانی کا ہیرو جو برا ہے مگر دل کا اچھا ہے خلاق طبعیت کا مالک نت نئے طریقوں سے مال بنانے کی ترکیبیں لے کر آتا ہے۔ یہ سارے کردار دس قسطوں میں بار بار سامنے آتے ہیں۔
غیر معروف اور فلم انڈسٹری کے کچے فنکاروں کی کاسٹ ہے جو اس میں کردار نبھارہے ہیں لیکن ان کی اداکاری غضب کی ہے۔ جھارکھنڈ کا ضلع جامتارا میں سنی مونڈال/ سریش شری واستو، اس کا کزن راکی /انشومن پش کر اور اسکول چھوڑے ہوئے ان کے دوست مل کر ایک گروہ بناتے ہیں جو انتہائی منافع بخش فشنگ کا دھندا چلارہے ہیں۔
یہ لوگوں کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات لیکر ان سے پیسے بٹورتے ہیں۔
اس دھندے کے پیچھے سنی منڈال کا دماغ کام کررہا ہے چوری جگاری، گلیوں کے اسمارٹ فنڈز کے زریعے یہ ان کو فلش کرتے رکھتے ہیں۔
بچوں کا فشنگ کا دھندا بری خبر تو ہے لیکن بچے خود برے نہیں ہیں۔

دنوں میں امیر بننے کی یہ آسان سی ترکیب کامیاب رہنے پر خود غریبوں کی اس بستی میں پاور گیم کے ساتھ مل جاتی ہے۔
سنی منڈال اور کزن راکی کے درمیان لیکر کھینچ دیتی ہے۔ اور دونوں کو اپنی وابستگی الگ کرنے پر مجبور کردیتی ہے-
اس پاورگیم کا اثر خاندانوں اور دوستوں پر بھی پڑتا ہے اور وہ سمجھوتے کرنے اور مشکل راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سنی مونڈال محلے کی ایک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکی گڑیا( مونیکا پنھور) کے ساتھ ایک کوچنگ اسکول بھی چلاتا ہے۔
لڑکی گڑیا کا اپنا ایک بزنس پلان ہے۔
یہ دھندا معمول سے بنا روکاوٹ سے چلتا رہتا ہے۔
پھر مدراس کے ایک بڑے اخبار میں جام تارا میں پھیلتے ہوئے ‌فشنگ کے دھندے کی تحقیقاتی نیوز اسٹوری چھپتی ہے اور وہاں سے یہ سارے میڈیا گروپوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔
اعلی حکام اس کا نوٹس لیتے ہیں اور وہ پہلے سے موجود ایس پی کا تبادلہ کرکے نئی نوجوان پوليس افسر کو متعین کردیتے ہیں۔
ڈولی ساہو/ اکشا پردھاسانی ایس پی بنکر آتی ہے اور اسے بدعنوان پولیس افسروں کا سامنا ہوتا ہے۔
مقامی سائبر کرائم ونگ بے کار بیھٹا ہوتا ہے کیونکہ ناتجربہ کار ایس پی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی لاز دونوں ہی کمزور ہوتے ہیں۔
جامتارا کی کرداریت اور حرکیات انوراگ کیشپ کے میدان ڈہلياکی کائنات مل جاتی ہے۔

Facebook Comments