January 14, 2020 at 12:40 pm

(رپورٹ یحیی بختیار بھٹی)
اللہ تعالی جب دینا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے۔
ایسا ہی کچھ کراچی کے ماہی گیروں کے ساتھ ہوا ہے۔
پروردگار نے انہیں سمندر کا سینہ چاک کر کے نواز ہے۔
جی ہاں ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کی قسمت بدلنے ان کے جال میں دو گولڈن سوُا مچھلیاں آگئیں۔
نایاب نسل کی ایک گولڈن سوُا مچھلی کی قیمت 20 لاکھ روپے ہے۔
بہت زیادہ شکار کے باعث یہ نسل ختم ہوجانے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اس مچھلی کا گوشت تو صحت کے لیے مفید ہے ہی لیکن اس کی چربی طبی مقاصد کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔
ماہی گیروں میں سے کچھ انہیں دیکھ کر خوشی سے رقص کرنے لگے۔
بعض نے مارے خوشی کے سمندر میں ہی ڈبکیاں لگانی شروع کر دیں۔
ماہی گیروں کی اصل اس وقت ملی جب یہ نایاب مچھلیاں فوری فروخت بھی ہوگئیں۔
قسمت ان مۂی گیروں پر اس وقت مہربان ہوئی جب ابراہیم حیدری کے مچھیرے شکار کے بعد سمندر سے جال نکال رہے تھے۔
جال معمول کی مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا لیکن ان ہی مچھلیوں کے بیچ دو گولڈن سوُا مچھلیاں نظر آئیں۔
مچھلیوں پر نظر جاتے ہی ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
ماہی گیروں کے مطابق سمندری طوفانوں کی وجہ سے پاکستانی پانیوں میں مچھلیاں بڑھ گئی ہیں۔

Facebook Comments