January 14, 2020 at 1:17 am

بے حسی کہہ لیں یا ناقدری لیکن انسان نے اپنے خیر خواہ کو ہمئشہ اس کے چلے جانے کے بعد ہی پہچانا ہے۔
آج کل ایک رواج چل نکلا ہے کہ عورت کے خلاف ڈرامے بنانے کا یا یوں کہہ لیں کہ
معاشرے میں بری عورتوں کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے رائیڑز نے۔
ایک رائٹر کا کہنا ہے کہ کیوں مرد ہی درندہ ،بھیڑیا اور جانور کہلایا جائے؟
کیوں عورت جانور نہں کہلائی جاتی؟
جس طرح ہر مرد برا نہں ہوتا اس طرح ہر عورت بھی اچھی نہیں ہوتی۔
اے آر وائی پر ایک ڈرامہ “میرے پاس تم ہو” ختم ہو رہا ہے۔


اس کی کہانی سب کو پتہ ہے کہ عورت پیسوں کی لالچ میں اپنے خاوند کو چھوڑ دیتی ہے۔
اب اس کے بعد شروع ہو رہا ہے ایک اور ڈرامہ “چل جھوٹی”۔
اس میں بھی عورت لالچی اور جھوٹی دیکھائی گئی ہے۔

مزید پڑحیے: https://www.youtube.com/watch?v=PEZ3OpIakPA&list=UUSAQb9IaVO9fVfM37JTKmEwمیرے پاس تم ہو کی آوا سینما میں

ایسی عورت جو پیسوں کی لالچ میں اپنے سے بڑے لیکن امیر شخص سے شادی کر لیتی ہے۔
یہ عورت پھر پوری زندگی جھوٹ پر ہی گزارا کرتی ہے۔
کیا حقیقت میں ہمارے معاشرے میں ایسی ہی خواتین ہیں؟
ہاں میں نے تو ایسی خواتین دیکھی ہیں جو شریف مردوں کی زندگی تباہ کر جاتی ہیں۔
مرد بھی ایسے بیچارے سوسائٹی میں شرم کے مارے کچھ کہہ بھی نہیں پاتے۔
“چل جھوٹی” ڈرامے میں اقرا عزیر اور احمد بٹ کی ایک دوسرے سے شادی ہو گی اور اقرا عزیر

شادی کے بعد اپنے خاوند یعنی ڈرامہ میں احمد بٹ سے جھوٹ بولتی دیکھائی جائے گی۔
پیسے خاوند سے لے گی اور دوستی باہر نامی ایک لڑکے سے رکھی ہو گی۔
جو کہ حقیقت میں اس کا خاوند ہے یعنی یاسر حسین۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ “میرے پاس تم ہو” کی طرح اس میں بھی لڑکی پچھتاوے کا شکار نظر آئے گی
یا ڈھیٹ لڑکی کا کردار نبھائے گی اقرا عزیر؟

Facebook Comments