وقت ٹی وی،نوائے وقت کی بندش کے بعد دی نیشن بھی ڈمی، ملازمین فارغ

شیئر کریں:

وقت ٹی وی اور نوائے وقت بند کرنے کے بعد دی نیشن اخبار بھی بند کرنے جیسا کر دیا گیا ہے۔

ایمرا صدر آصف بٹ کہتے ہیں اخبار کے کل تیس ملازمین تھے ان میں سے ہیڈ سمیت 26 افراد کو فارغ کر دیا گیا ہے۔

اب صرف چار افراد کو رکھا گیا جو اشتہارات کے لیے ڈمی اخبار نکالیں گے۔

پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی سیکریٹری جنرل رانا عظیم، پی یو جے کے صدر شہزاد حسین بٹ، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، لاہور پریس کلب کے سیکریٹری بابر ڈوگر پی یو جے کے جنرل سیکریٹری اشرف مجید، ایمرا کے صدر آصف بٹ اور جنرل سیکریٹری سلیم شیخ نے نوائے وقت گروپ کے انگلش نیوز پیپر نیشن کے بند ہونے کو صحافتی برادری کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

ایک ایسا ادارہ جو کہ پاکستان کیلئے خاص اہمیت رکھتا تھا۔

اس ادارے کا پہلے ٹی وی چینل کو بند کر کے سیکڑوں کارکنوں کو بے روزگار کیا گیا اور اب نیشن کو بند کر کے ڈمی اخبار بنا کر مزید کارکنوں کو نہ صرف بے روزگار کیا گیا بلکہ ایک بڑے ادارے اور مجید نظامی مرحوم کو نقصان پہنچایا گیا ۔

انہوں نے کہا صحافیوں کے معاشی قتل عام میں حکومت اور رمیزہ نظامی دونوں ذمہ دار ہیں۔

ایک سال کے اندر دو اداروں کا بند ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

مالکان کے اپنے تو تمام اخراجات پورے ہو رہے ہیں مگر صحافتی کارکنوں کے چولہے بجھائے جا رہے ہیں جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔
صحافی رہنماؤں کا کہنا ہے نیب سمیت تمام اداروں کو ایسے تمام میڈیا ہاوسز جو کارکنوں کا معاشی قتل کر رہے ہیں اور اداروں کو بند کر کے ڈمی اخبارات اور چینل لا کر اشتہارات کے پیسے کھا رہے ہیں اور انہی اداروں سے اربوں روپے کما کر خود سکھ کی بانسری بجا رہے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔

اگر نیشن اور وقت کی بندش کو مالی خسارہ قرار دے رہے ہیں تو پھر ہم ان کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ادارے کارکنوں کے حوالے کر دیں ہم خود ان اداروں کو چلا کر دکھاتے ہیں بروقت سیلریز بھی دیں گے اور ان کا نقصان بھی نہیں ہونے دیں گے۔

صدر ایمرا محمد آصف بٹ کا کہنا ہے کہ جن دوستوں نے آپ نیوز چینل کی انتظامیہ سے اپنی تنخواہیں اور بقایا جات کی ادائیگی لینی ہے وہ فوری اپنا نام اور تفصیلات ایمرا سنٹر اندراج کروائیں۔

آصف بٹ نے پبلک ٹی وی کے ملازمین کو بھی تنخواہوں کی عدم فراہمی تشویش ظاہر کی ہے۔

آصف بآت نے تنخواہوں کی عدم فراہمی پر لاہور میں پبلک نیوز اور نیوز ون کی ڈی ایس این جیز کو کوریج سے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔


شیئر کریں: