ابو مہدی المہندس کون تھا؟

شیئر کریں:

تحریر:عامر حسینی

امریکی مزائیلوں نے جمعہ کی صبح بغداد ائیرپورٹ پر ایک
کانوائے کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا- دونوں گاڑیاں جل کر
تباہ ہوگئیں- ان میں سے ایک گاڑی میں ایران نواز شیعہ
ملیشیا کتائب حزب اللہ کے سربراہ اور حشد شعی کے نائب
کمانڈر ابومہدی المہندس بھی سوار تھے جو ایران کی پاسداران
انقلاب کے یونٹ القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی
کے ساتھ جارہے تھے۔ دونوں اس واقع میں ہلاک ہوگئے۔

ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں میڈیا میں کافی
کچھ پڑھنے کو مل رہا ہے لیکن ابو محمد المہندس کے بارے میں
بہت کم پڑھنے کو مل رہا ہے۔

https://www.khabarwalay.com/2020/01/03/14002/

مڈل ایسٹ میں عسکریت پسندی کی تاریخ میں عام طور پر
اور عراق و ایران کی پراکسی جنگوں پر نظر رکھنے والے اچھے
سے جانتے ہیں کہ ابو مہدی المہندس دراصل جمال جعفر محمد
الابراہیمی کی عرفیت ہے۔ ابراہیمی 1954ء میں بصرہ کے ایک
ایسے عراقی شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے جو عراق میں شیعہ
پولیٹکل اسلام کے سب سے بڑے داعی باقر الصدر کے نظریات
سے متاثر تھا اور یہ باقر الصدر اپنے زمانے میں عراق کے اندر
کمیونزم، سوشلزم ، عرب قوم پرستی کے سب سے بڑے مخالف
گردانے جاتے تھے۔ یہ عراق میں اخوانی-

سیاسی اسلام سے اشتراک کے سب سے بڑے حامی اور مصر
کے سید محمد قطب سربراہ اخوان المسلموں اور پاکستان میں
جماعت اسلامی کے بانی سید ابولاعلی مودودی کے بہت بڑے
مداح تھے۔ باقر الصدر اور ان کی بہن کو بعث حکومت نے صدر
صدام حسین کے دور میں پھانسی دے دی تھی- باقر الصدر کے
نظریات کے تحت ہی دعوہ پارٹی تشکیل پائی تھی اور اس کی
قیادت ایران میں انقلاب کے بعد ولایت فقیہ کے تحت بننے والی
حکومت کی پناہ میں چلی گئی تھی-

ابراہیمی کا ایران میں خمینی کی تصور ولایت فقیہ سے ایک
اور رشتہ بھی بنتا تھا۔ ابراہیمی کی ماں کا تعلق ایران سے تھا
اور ایران میں ابراہیمی کا خاندان آیت اللہ خمینی کی تحریک
کا بہت بڑا حامی تھا۔

https://www.khabarwalay.com/2020/01/03/14019/

ابراہیمی 1954ء میں بصرہ میں پیدا ہوا- یہ زمانہ عبدالکریم
قاسم کی صدارت کا تھا جو ایک طرف تو عراقی کمیونسٹ پارٹی
کے بہت قریب تھا تو دوسرا اس کے ایران سے تعلقات انتہائی
خراب تھے کیونکہ وہ ایران میں عرب اکثریتی علاقوں کی عراق
سے الحاق کا مطالبہ کررہا تھا تو دوسری طرف جواب میں ایران
کردوں کے اندر باغی گروپوں کو سپورٹ کررہا تھا۔ عبدالکریم
قاسم کے امریکی سامراج سے بھی تعلقات انتہائی خراب ہوتے
جارہے تھے جو کھل کر سوویت یونین کی حمایت کررہا تھا

عبدالکریم قاسم نے 60ء میں اپنے مڈل ایسٹ میں کمیونسٹ
پارٹیوں سے اشتراک کو ظاہر کیا تو عراقی فوج میں جو بعث
قوم پرست فوجی تھے ان کے ایک جتھے نے 1963ء میں عبدالکریم
قاسم کے خلاف کودتا کرڈالا۔ اس دوران دلچسپ بات یہ ہے کہ
باقر الصدر کے حامی بھی عبدالکریم قاسم کے خلاف تھے۔

حزب دعوہ الاسلامیہ المعروف عراقی دعوہ پارٹی کی بنیاد
باقر الصدر نے 1957ء میں رکھی تھی اور اس کا مقصد عراق
میں سیکولر ازم اور عرب نیشنل ازم و کمیونزم کا خاتمہ کرنا
اور اس کی جگہ پر عراق کو اسلامی ریاست بنانا تھا۔ باقر
الصدر کے نظریات سے متاثر ہوکر ہی لبنان میں بھی دعوہ پارٹی
بنی تھی- اس کے دوسرے اہم رہنماؤں میں باقر کے کزن صادق
الصدر اور موسی الصدر تھے۔

ابراہیمی ہائی اسکول کا طالب علم تھا تب سے دعوہ کا رکن بنا
اور جب باقرالصدر 1980ء میں جلاوطن ہوا تو یہ صدام حکومت
کو انتہائی مطلوب دعوہ کے لوگوں کی فہرست میں شامل تھا۔
1985ء میں جب باقرالصدر کو اور ان کی بہن کو پھانسی دی گئی
تو یہ بھاگ کر عراق چلا گیا- اور وہیں دعوہ پارٹی کی تشکیل کرد
انقلابی کونسل کا رکن بنا اور بعد ازاں صدام حکومت کے خلاف
ایران نے عراق سرحد کے قریب جو مسلح تربیت کے سنٹر قائم کیے
تو ان میں کئی ایک سنٹر دعوہ پارٹی کے عسکری ونگ البدر کے
پاس تھے جس کا کمانڈر ابراہیمی کو چنا گیا۔

ایران میں یہ ان دنوں جمال ابراہیمی کے نام سے جانا جاتا تھا۔
جمال ابراہیمی نے بھی ایک ایرانی خاتون سے شادی کی جو
پاسداران انقلاب کی خواتین ملیشیا کی رکن تھی۔

جمال ابراہیمی 90ء کی دہائی میں کویت کے اندر عراق سمیت کئی
ممالک کے سفارت خانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے میں بھی مبینہ
طور پر ملوث رہا- اور کویت کی ایک عدالت نے اسے غیرموجودگی
میں سزائے موت بھی سنائی۔

دعوہ پارٹی کی اسلامی انقلابی کونسل اور البدر ایرانی پاسداران
انقلاب کا ذیلی ونگ کہی جاتی تھی- اور جمال ابراہیمی کے
میجر جنرل قاسم سلیمانی سے بہت گہرے تعلقات بتائے جاتے تھے۔

جب عراق پر امریکا نے حملہ کیا اور صدام کی حکومت گرادی
تو جمال ابراہیمی نے البدر کور سے مبینہ علیحدگی اختیار کرلی
اور یہ ابو مہدی مہندس کے نام سے عراق میں داخل ہوا اور دعوہ
پارٹی سمیت شیعہ جماعتوں کے اتحاد متحدہ عراق بلاک کا حصّہ
بن گیا- اور یہ صدام کے بعد پہلی عراقی حکومت کے وزیراعظم
ابراہیم الجعفری کا ایڈوائز بھی بنا۔

2005ء میں یہ دعوہ پارٹی کے ٹکٹ پر بابل صوبے سے عراقی
پارلیمنٹ کا رکن بھی بنا۔ پھر امریکی حکام کو پتا چل گیا یا
انہوں نے اس وقت ابو مہدی المہندس کے ماضی کو سامنے
لانے کا فیصلہ کیا جب نوری المالکی وزیراعظم تھا اور اسے
حکومت سے الگ کردیا گیا-

اس پر عراقی شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام
بھی تھا۔ حکومت سے الگ ہونے کے بعد اس نے کتائب حزب اللہ
کے نام سے ایک شیعہ ملیشیا قائم کرلی جو مبینہ طور پر القدس
فورس سے جڑی ہوئی تھی- کتائب حزب اللہ پر فرقہ وارانہ تشدد کا
الزام بھی لگا۔ موصل کے داعش میں قبضے میں چلے جانے کے بعد
جب آیت اللہ سیستانی نے عراقی عوام داعش کے خلاف جہاد کرنے
کا فتوی دیا جس کے نتیجے میں عراقی حکومت نے حشد شعبی کے
نام سے ایک بڑی ملیشیا فورس قائم کی. اس ملیشیاء فورس میں سات
شیعہ ملیشائیں جن میں سے 55 کے قریب ملیشائیں شامل تھیں
اور اس میں سے 20 سے زائد ایران نواز ملیشائیں تھیں اور سب
سے بڑی 7 ملیشیائیں تھیں جو نوری المالکی کے دور سے سنّی اکثریت
کے علاقوں میں نوری المالکی کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کام
کررہی تھیں-

ان میں ابومہدی المہندس کی ملیشیا کتائب حزب اللہ سب سے
طاقتور تھی جس کے جنرل سلیمانی سے براہ راست تعلق تھا۔
حشد الشعبی میں 45 ہزار کے قریب سنّی مسلمان ہیں اور 20
ہزار سے زیادہ ترکمانی سنّی مسلمان ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ
مسیحی، یزیدی بھی شامل ہیں- حیدر العبادی کے دور میں
حشد الشعبی کا کنٹرول براہ راست وزیراعظم کے پاس چلا گیا-

اس کے سربراہ فالح فیاض اور نائب سربراہ ابومہندس تھے۔
حشد العشبی کے اندر پہلے روز سے فرقہ وارانہ اور نسلی تقسیم
موجود تھی اور ساتھ ساتھ اس میں موجود گروپوں کے بارے میں
ایران نواز، عراق نواز، امریکا نواز، ترکی نواز ہونے کا تاثر بھی
روز اول سے موجود تھا- ایران نواز کتائب حزب اللہ سے مقتدی
الصدر کی مہدی ملیشیا کا خون ریز جھگڑا ہوا- فالح الفیاض نے
بھی ایران نواز ملیشیاؤں کے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے استعفا
دے ڈالا اور اپنی پارٹی بناڈالی۔

جمال ابراہیمی ابو مہدی المہندس اور ان کی کتائب حزب اللہ
پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے موجودہ عراقی وزیراعظم کے خلاف
ہونے والے مظاہروں اور احتجاج میں عراقی سیکیورٹی فورسز کے
ساتھ کاروائی میں حصّہ لیا اور براہ راست گولیاں بھی چلائیں
جس سے 500 سے زائد عراقی شہری ہلاک ہوگئے۔

عراقی مظاہرین نے اس دوران کربلا اور نجف اشرف میں ایرانی
سفارت خانوں کو آگ لگادی۔ ایران نواز ملیشیاؤں کے
دفاتر، ان کے زیر انتظام چلنے والے بینکوں کو بھی آگ لگائی گئی-
گزشتہ دنوں کرکوک میں امریکی فوجی اڈے پر حملے اور
امریکی کنٹریکٹر کو قتل کردینے کا الزام بھی ایران نواز
ملائیشا پر لگا۔

اس ساری تفصیل سے ایک حقیقت تو یہ سامنے آتی ہے
کہ حشد شعبی صرف ایران نواز ملیشاؤں کا نام نہیں ہے
اور نہ ہی حشد الشعبی کسی ایک سیاسی رجحان کی حامل
ہے۔ دوسرا جمال ابراہیمی ابومہدی المہندس ، دعوہ پارٹی
عراق پر ایرانی اثر و نفوز سے انکار ممکن نہیں تھا۔

آیت اللہ السیستانی کے زیر اثر جو عراقی ملیشائیں بنی
تھیں وہ سیاسی وابستگی سے ماورا عام عراقی شہریوں پر
مشتمل تھیں۔
https://www.khabarwalay.com/2020/01/03/14026/


شیئر کریں: