جرنل قاسم سلمانی کی زندگی

شیئر کریں:

سپاہ پاسداران انقلاب کے سردار جنرل قاسم سلمانی
سے متعلق دلچسپ حقائق۔۔۔

جوانی سے لے کر عالم بزرگی تک اسلام دشمنوں کے
ساتھ بے شمار جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح نصیب
ہوئی.

آیت اللہ علی خامنائی اور جنرل سلمانی دونوں ایک ہی بریگیڈ
کے عہدوں پر فائز رہے۔ دونوں نے ایک ساتھ کئی جنگیں لڑیں۔
جنرل سلمانی بیک وقت شام و عراق کی کمانڈ کرتے رہے۔

جنرل قاسم کی دانشمندانہ جنگی حکمت عملی کی وجہ سے
عراق میں داعش کا وجود مٹی میں مل گیا۔شام کی فوج کی
ہائی کمانڈ قاسم سلمانی سے رابطے کر کے مشورے و جنگی
حکمت عملی لیتے۔

داعش کے سربرا ابو بکر بغدادی نے نڈر جنرل کو پکڑ کر زندہ
جلانے کی دھمکی دی تھی۔ دھمکی پر مرد حر نے ابو بکر البغدادی
کو مخاطب کرکے کہا تھا مجھے بستر پر نہیں مرنا اور تم جب مجھے
دھمکی دے رہے تھے تو مسجد کے اندر موجود تیسری صف پر بیٹھ کر
میں تمہیں سن رہا تھا۔

لا تعداد جنگیں لڑ کر فتح حاصل کرنے والے سلمانی کو آیت اللہ خامنہ ای
نے زندہ شہید کا لقب دے رکھا تھا۔ جنرل قاسم کی ایک اور خاص بات یہ
بھی تھی کہ جوانوں کو شہادت سے پہلے ہی مبارک باد دیتے تھے۔ کچھ وقت
کے بعد اس جوان کی شہادت ہوجاتی تھی۔

جب ان سے ریٹائرمنٹ سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ
امام حسین علیہ السلام کی نوکری میں کوئی حد نہیں کہ رٹائر ہوجاوں
جب تک امام مظلوم نوکری چاہتے ہیں میں حاضر رہوں گا۔

مجھے بستر کی موت سے میدان جنگ میں شہادت کی موت زیادہ عزیز ہے۔
جنرل قاسم سردار بھی کہلاتے تھے۔سردار سلمانی امریکا کی ہٹ لسٹ میں
اولین نمبر پر رہے۔

باالاخر امریکا کے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ اس طرح ان کی بھی میدان
جنگ میں جان دینے کی خواہش پوری ہوئی۔


شیئر کریں: