ایمرجنسی بمقابلہ اخلاقی گراوٹ

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

فیصل آباد شہر حس مزاح کے لحاظ سے ملک بھر میں مشہور ہے
زندہ دل لوگ ہیں بات بے بات چٹکلے پھینکنا اور لطیفے بنانا یہاں
معمول ہے اور یہاں کے لوگ بہت امیر ہیں اخلاقیات میں ذرہ ہاتھ
تنگ ہے وہ آگے چل کے بتاتا ہوں تاکہ راقم الحروف کے لئے چند چٹکلے
اور لطیفے بمعہ موٹی گالیوں کا سامان ہو سکے

الٹا چلتے ہیں

ریسکیو کا لفظ ذہن میں گوجنتے ہی ساتھ میں چار ہندسے بھی
دوڑے چلے آتے ہیں یعنی 1122 یہ ادارہ کیا ہے اور کیوں ہے
اس سب کی تہہ تک جانے کی ضرورت نہیں ہے ادارہ 2004
میں لاہور کے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد پورے پنجاب
میں لانچ کر دیا گیا جس کا مقصد کسی بھی ایمرجنسی کی
صورت میں خدمات فراہم کرنا تھیں کہیں آگ لگ جائے ریسکیو،
کہیں ایکسیڈنٹ ہو جائے ریکسیو ، ملک میں جب بم۔دھماکوں
کا دور دورہ تھا تب بھی ریسکیو ، قدرتی آفات غرضیکہ ہر قسم کی
ایمرجنسی کے لئے یہ ادارہ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت
وجود میں آگیا اور خدمات شروع کر دیں

پھر آہستہ آہستہ جدت بھی آتی گئی لوگوں کے لئے فون سے 1122
ملانا بہت آسان ہو گیا اتنا آسان کہ لوگ ریسکیو ایمرجنسی پہ
کال کر کے کچھ بھی کہنے لگے

خیر اصل مدعے کی طرف آتے ہیں ریسکیو کی خدمات اسکے وجود
سے لیکر ریسکیو بائیک سروس تک کا سب کو علم ہے لیکن عام
عوام جو ہم میں سے ہیں ہم جیسے ہیں وہ ریسکیو کو کس طرح
ٹریٹ کرتے ہیں یا ریسکیو انکے نزدیک کیا ہے یہ بتانے اور سمجھانے
کی ناکام کوشش کروں گا

سال 2109 گذر گیا سال 2020 آگیا اب ایک مزے کی بات عرض کرنا
چاہوں گا کہ اپنے پیاروں کے قانونی اور ایسے معاملات جن میں تاریخ
لکھنا ضروری ہو کے لئے سال نو پر ایک پیغام درد دل رکھنے والے شہری
نے جاری کر دیا کہ تاریخ کے ساتھ سال لکھتے وقت 20 اکیلا مت لکھئیے
ورنہ کوئی 17 18 یا کوئی بھی ہندسہ لکھ دے گا اور سب برباد ہو جائے گا

یعنی ہم لوگ نئے سال پر ملک کی ترقی ، جھوٹ نہ بولنا، رشوت نہ لینا،
جرائم کی سرکوبی ، والدین کی خدمت، معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے کا
عزم کرنے کی بجائے سال 2020 لکھنے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں

اس کے بعد آئیے ٹریفک اشاروں پر جہاں ہم لوگ رکنا مناسب نہیں
سمجھتے کیونکہ ہم آزاد ہیں اور آزاد لوگ کبھی اشاروں پر انتظار
نہیں کیا کرتے مہذب قومیں ایسا کرتی ہوں گی ہمیں ان سے کوئی
سروکار نہیں

پھر آجائیں اخلاقیات پہ تو بھیا سیاست ، عدالت، درسگاہ یہاں تک
کے گھروں میں بھی بڑے بزرگوں کے ساتھ اونچا بولنا وقار کی علامت
ہے اور توں تڑاک کا لہجہ قومی لہجہ ہے یہ تیزی تب پکڑ گیا جب
موجودہ حکومتی جماعت کنٹینروں پہ بیٹھ کے جلسے جلوسوں میں پڑھے
لکھے نوجوانوں کو ملک کی امید قرار دینے لگے

خیر باقی سیاسی جماعتیں بھی کم نہیں اخلاقیات کا فقدان ہمیشہ سے رہا
ہے کبھی مادر وطن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا کبھی بے نظیر
شہید کی کردار کشی کی گئی اور ناجانے کیا کچھ ہوتا رہا

خیر اس سے مجھے اور آپکو کیا مطلب یہ کتابی باتیں ہیں کہنا آسان ہے
عمل کرنا عذاب ہے معاشرتی ذمہ داریوں سے بھاگتا ہوا یہ ہجوم اس قدر
آگے نکل چکا ہے کہ الامان

پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسی طرح بے روزگاری بھی بڑھ
رہی ہے فیشن ہی سب کچھ ہے اور فیشن بھی ایسا ویسا کہ صرف کپڑے
پہننا بال بنانا خود کو دلکش بنانے کی لگن تک ہی محدود نہیں اس شہر کے
لوگ مزاح کو بھی فیشن میں شامل کرتے ہیں اور ہر کسی سے مذاق کرتے ہیں

بات ہو رہی تھی ریکسیو ، اخلاقیات اور فیصل آباد کے حس مزاح کی تو
جناب یہاں سے میرا مسلہ شروع ہوتا ہے جو اصل میں سب کا مسلہ ہے

ریسکیو فیصل آباد کے میڈیا کوآرڈینیٹر فیصل انور صاحب ہیں اچھے
اور پیارے دوست ہیں ان سے ریسکیو کالز اور طریقہ کار پہ بات ہو رہی
تھی بات مکمل ہونے کے بعد سنئیے اور چونکئیے

فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے لوگ حس مزاح سے بھرپور ہیں
اور کروڑوں میں ہیں یہاں کے باسیوں میں سے چند لاکھ لوگوں نے ریسکیو
کنٹرول پہ کالز کیں اور کیا ایمرجنسی بتائی پڑھئیے

اسلام و علیکم ریسکیو 1122 سے (ا) بات کر رہا ہوں کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی
کالر: جی ہماری فریج خراب ہو گئی ہے کسی الیکٹریشن کو بھجوا دیں مہمان آئے
ہوئے ہیں اور سخت ایمرجنسی ہے

اسلام و علیکم ریسکیو 1122 سے (ف) بات کر رہا ہوں کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی

کالر: جی میں فلاں روڈ پہ کھڑا ہوں میری بائیک کا پیٹرول ختم ہو گیا ہے
پی ایس او کی گاڑی بھیج دیں

ریسکیو آفیسر: کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی

کالر: جی میں مسز خان بات کر رہی ہوں منا روئے جا رہا ہے چپ ہی نہیں کر رہا اسے چپ کروا دیں

ریسکیو آفیسر: جی کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی

کالر: جی پیزا آرڈر کر رکھا تھا تاحال پہنچا نہیں ہماری مدد کریں

ریسکیو آفیسر: جی کیا مدد کر سکتا ہوں آپکی؟
کالر: میرا موبائل لوڈ ختم ہو گیا ہے لوڈ کروا دیں جناب سخت ایمرجنسی میں ہوں

اور سب سے مزیدار اور حیران کن کال یہ ہے

اسلام و علیکم ریسکیو 1122 فیصل آباد سے (ر) بات کر رہا ہوں کیا مدد کروں آپکی

کالر: جی حسینہ بات کر رہی ہوں میرا نمبر نوٹ کریں اور مجھ سے
باتیں کریں میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہیں انہیں بھی آپ سے بات کرنی ہے

سال 2019 میں ریسکیو فیصل آباد کو 16 لاکھ سے زائد کالز موصول
ہوتی ہیں جن میں سے 3 لاکھ کالز صرف انفارمیشن حاصل کرنے کی
غرض سے کی گئیں

جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب کالز ایسی تھیں جن کا تعلق واقعی
ایمرجنسی سے تھا اور یہ ایک لاکھ ستر ہزار کال کرنے والے حقیقی طور
پر مدد کے مستحق تھے جنہوں نے ریسکیو کی خدمات حاصل کیں کئی
جانیں بچ گئی ہوں گی کئی زخمیوں کا بروقت علاج ہو گیا ہو گا اور
ان ایک لاکھ ستر ہزار میں سے بہت سوں نے ریسکیو اہلکاروں کو دعاوں
سے نوازا ہو گا کسی ماں کا لعل بچا لیا ، کسی کا سہاگ، کسی کا اکلوتا
بھائی ، کسی کی بیوی بہن کو زخمی حالت میں اسپتال بروقت پہنچا دیا
گیا ہو گا

کسی تاجر کا کروڑوں کا مال جلنے سے بروقت بچا کر نقصان سے بچایا
ہو گا ، کسی خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے بچوں کو
بچایا ہوگا

لیکن

12 لاکھ کالز ایسی تھیں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں یعنی ان
تمام فون کالز کی شرح دیکھیں تو آدھے سے زیادہ لوگ دل لگی
کے لئے ریسکیو 1122 کو کال کرتے ہیں

میرا بچھڑا سجن ملوا دو رے ، میری فریج کو ٹھیک کروا دو،
میرا بچہ چپ کروا دو، ریسکیو والے بھائی مجھے لوڈ کروا دو ،
ریسکیو والے بھائی مجھے پیمپر لا دو ، وغیرہ وغیرہ

تف افسوس اور انتہائی شرمندگی کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ
یہ ہم ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ مزاح اور وقت گذاری کرتے
ہیں جو اندھیری، طوفان، بارشوں غرضیکہ ہر قسم کی موسمی
سختیوں کو جھیلنے کے باوجود انسانیت کی خدمت کے لئے کمر
کسے رہتے ہیں

میں ریسکیو کا ترجمان نہیں ہوں اور نہ ہی ریسکیو مجھے لکھنے
کے پیسے دے رہا ہے میں اس معاشرتی گراوٹ پہ ماتم کر رہا ہوں
جو ہم میں حد درجہ سرایت کر چکی ہے ہم بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں

چند لمحات کی جعلی خوشی کے لئے ہم ریسکیو کو کال کرتے ہیں
اور دوستوں سے شئیر کرتے ہیں دیکھو میں نے کیا تیر مارا آج ،
آزادی کے نام پہ نعرے مارنے والی لڑکیاں بھی تنہائی میں ریسکیو
کی خدمات چاہ رہی ہیں

کیا ہیں ہم لوگ؟؟؟ ہم اخلاقیات میں ترقی کب کریں گے ، کون بتائے
گا اساتذہ کو کہ اخلاقیات سکھانا اور سمجھانا انکا فرض ہے ، کون بتائے
گا والدین کو کہ بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار شہری کیسے بنایا جائے ،
میڈیا کی ذمہ داریاں خیر چھوڑیں میڈیا کو صحافی تو خود زیر عتاب ہیں

لیکن ! کیا میں جانتا ہوں میری معاشرتی ذمہ داریاں کیا ہیں؟؟ کیا ہم
جانتے ہیں؟؟ ڈسٹربنگ کالز کرنے والوں کو 6 ماہ کی سزا ہو سکتی ہے
مگر ریسکیو والے فرائض کی ادائیگی کی خاطر اور اسلئیے کہ وقت کا
ضیاع ہو گا کسی فضول انسان کو سزا دلانے کی بجائے کسی کی جان
بچا لی جائے شاید اس لئے کسی کی شکایت نہیں کرتے

ہمیں یہ معلوم ہے کہ روڈ پر اگر ریسکیو کی گاڑی آ رہی ہو تو اسے
راستہ دینا ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ریسکیو کی گاڑی اگر غلط
انفارمیشن پہ موو ہو جائے میری یا آپکی وجہ سے تو شاید ایک جان
جسے بچایا جا سکتا تھا اس وقت کے ضیاع میں اسکا خون اس کالر
کے ہاتھوں پہ ہو گا جو “مسٹر بین” یا چارلی چیپلن بننے کی کوشش
میں ریسکیو کو فضول کال کرتا ہے

سوچئیے بہت وقت ہے سوچنے کے لئے کہ 16 لاکھ کالز میں سے 12 لاکھ
فضول کالز کرنے والے وہ جاہل کون ہوں گے، صرف فیصل آباد میں نہیں
بلکہ ہر شہر میں ایسے جاہل موجود ہیں جو وقتی تسکین کے لئے ایسا
کرتے ہیں

ریسکیو 1122 کی ڈسٹربنگ کالز تو صرف ایک مثال ہیں ہزاروں
مثالیں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں

کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں اور ہمیں ہماری معاشرتی ذمہ داریوں
کا بالکل علم نہیں

اخبارات، ٹی وی ، میڈیا اور بڑے صحافی ،ضلعی انتظامیہ، صوبائی
حکومتیں ، وفاق کے انفارمیشن ادارے ، اساتذہ، سکول، کالجز، یونیورسٹیز
اور سب سے پہلے گھر میں سکھانے والے سب خاموش ہیں

اور بہت عرصے سے ہم خاموش ہیں


شیئر کریں: