سندھ میں ایچ آئی وی وائرس کا پھیلاؤ

شیئر کریں:

(لاڑکانہ سے شہزاد علی خان)

سندھ حکومت ایچ آئی وی کے پھیلائو اور متاثرین کو علاج
فراہم کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی۔ لاڑکانہ کی تحصیل
رتودیرو میں سال 2020 میں ایچ آئی وی سے انتقال کا پہلا کیس
سامنے آگیا۔ اس طرح مجموعی طور پر جاں بحق افراد کی تعداد 43
ہوگئی ہے۔

رتودیرو تھانہ کی حدود بپڑ محلہ کے رہائشی اللہ بخش کی ایک
سالہ بیٹی مریم ایچ آئی وی کے باعث انتقل کر گئی۔ والد کا
کہنا ہے کہ مریم گزشتہ 8 ماہ سے رتودیرو ٹریٹمنٹ سینٹر
سمیت کراچی سے ایچ آئی وی کا علاج لے رہی تھی تاہم علاج
کروانے کے باوجود مریم جانبر نہ ہوسکی۔ رتودیرو میں گزشتہ
8 ماہ کے دوران ایچ آئی وی سے جانبحق افراد کی تعداد 43
ہوگئی ہے۔

38 ہزار افراد کی اسکریننگ کے بعد 1225 ایچ آئی وی متاثرہ
کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ زیر علاج رجسٹرڈ مریض صرف 8
سو ہیں۔

دوسری جانب زیر علاج بیشتر ایچ آئی وی مریضوں کے ہر
تین ماہ بعد کیے جانے والے وائرل لوڈ کے ٹیسٹ رپورٹس بھی
جاری نہیں ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام
کی جانب سے رقم جاری نہ کیے جانے پر آغا خان انتظامیہ نے
رپورٹس روک لی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی اعلان کردہ مالی معاونت، نیوٹریشن کے
وسائل اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی متاثرین کو فراہم نہیں
کی جا سکی ہیں ۔


شیئر کریں: