December 12, 2019 at 4:42 pm

تحریر شہریار علی

کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو طعنوں کی صورت میں
پہنچائی جاتی ہیں۔اور ایسی ہی تکلیفوں پر مُجھے کچھ انتہائی
محترم بہن بھائیوں سے شِکوہ ہے۔۔

ویسے تو میں ایک بہت ہی معمولی اور نا چیز لِکھاری ہوں
جس کے پاس اکثر اوقات موضوع بڑا پر الفاظ خاصے کم ہوتے
ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر تحریریں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

مگر اب کی بار کوشش کرونگا کہ بات ادھوری نہ رہ جائے۔
آج بھی ایک خاص طعنے نے قَلم اُٹھانے پر مجبور کیا ہے۔
ویسے تو یہ طعنہ و تشنیع کئی دہائیوں پر محیت ہے پر
آج کل اس کی تکلیف زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔

حال ہی میں اس طعنے کا پُونر جَنم تب ہوا جب سابق
صدر آصف زرداری صاحب نے چند مہینے قبل اپنی ایک
تقریر میں ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے مہاجروں کو
اُنکی اوقات یاد دِلائی۔

اِس کے ردِ عمل میں تِتر بِتر ایم کیو ایم نے بھی روایتی
جوابات دیے اور مہاجروں پر احسان کا ایک اور طمانچہ
دے مارا۔

اس حوالے سے جب سوشل میڈیا پر کچھ انتہائی پڑھے
لِکھے لوگ، جو وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کے حوالے سے آئے
دن آواز اُٹھاتے ہیں، خاموش نظر آئے۔۔ ان میں سے کچھ بولے
بھی تو یہ بولے کہ اس وقت اس بحث کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ
اس سے خُفیہ غیر جمہوری طاقتوں کو مزید تقویت ملے گی۔
ٹھیک ہے بھائی خیر ہو گئی۔۔

اس تحریر سے میں اپنے دوستوں کو یہ بات باور کروانا چاہتا ہوں
کہ اس وقت مہاجر قوم انتہائی احساسِ کمتری کا شکار ہے۔
کوئی نمائندگی کرنے والا ہے نہیں، جن کی طرف لوگ دیکھتے
تھے اُن بھائیوں نے پہلے کُلہاڑی اپنے پاوں پہ ماری، پھر بھی مزا نہ
آیا تو سیدھا پاؤں لے جا کر کُلہاڑی پر دے مارا۔

ان کے بعد جن لوگوں نے نام نہاد قیادت ہتھیانے کی کوشش کی
بھی تو ان سب کی صورت حال بس یہی رہ گئی ہے کہ “میں مجبور
تھی اور وہ بے غیرت”۔ خیر بچی کُچھی ایم کیو ایم جو کہ حکومت
کا حِصہ بھی ہے، آج کل مختلف گروپوں، لابیوں میں بَٹ کر شہر میں
خوب محنت مزدوری کر کے مال میرا مطلب ہے حق حلال کی کما رہے
ہیں۔

ہر مزدور نے علاقہ بانٹا ہوا ہے۔ اور یہ بات بھی طے ہے کہ کوئی
کسی کو “کچھ” بھی نہیں بولے گا، ابے سالے! (معاف کرنا غلطی
سے اِدھر اُدھر نکل جاتا ہوں) “کچھ” کی جگہ بولنا کیا ہے؟؟؟

یہ بھی سب جانتے ہیں کے پی ٹی آئی اس شہر میں کتنا حقیقی
مینڈیٹ رکھتی ہے۔ ستم یہ ہے کے لاکھ مشکلات کے باوجود
ہر پارٹی اور قومیت کی قیادت موجود ہے۔ نواز، زرداری، اسفندیار ،
مینگل صاحب، مولانا فضل یا اچکزئی۔۔مشکلات میں رہ گئے تو
بیچارے مہاجر جن کے نصیب میں اب پاکستان تحریک انصاف کے
گوہرِ نایاب جو شفاف انتخابات میں کونسلر کی سیٹ بھی نہ جیت
سکیں، یا بچی کُچی ایم کیو ایم جن کو کراچی پر آئیندہ پھر مُسلط
کردیا جائے گا، مہاجر جاویں تو جاویں کہاں رووے تو رووے کہاں؟

آج کا تازہ چُُبھتا ہوا طعنہ بھی سُن لیں، وہ یہ ہے کہ ڈر پوک مہاجر،
اپنے شہیدوں کی قبروں پر بھی نہ جا سکے، یہ طعنہ ایسے لوگوں سے
سُننے کو مِلا جن کہ لیڈر آج کل بیمار ہیں اور اُن کی بیماری پر کسی
مہاجر نے یہ جُملہ بھی نہیں دہرایا کہ کچھ تو کیا ہے جو نیب نے پکڑا
تھا، جیسا کہ مہاجروں کو سُننے کو مِلتا تھا جب قانون نافذ کرنے والے
ادارے کراچی میں گرفتاریاں کرتے تھے۔

میاں صاحب ہوں یا زرداری صاحب، مہاجر اِنکی بیماری پر
فِکر مند بھی تھےاور سنجیدہ بھی اوراس کا ثبوت دینے کی مُجھے
کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پیارے بھائی طعنے دینے سے پہلے اس بات
کو سمجھیں کہ اس وقت آپ کہ مُلک کا ایک طبقہ اُمید ہار بیٹھا
ہے،

پہلے بھی کہہ چُکا صورت حال یہ ہے کہ مایوسی کُفر ہے پر یہاں
اُمید کس سے رکھی جائے؟؟ ہمارے تمام “اپنے” مایوس کر گئے اوپر
سے آپ کہ الفاظ زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں ہم۔

جِن مُشکلات و جبر سے آج آپ کے محبوب قائد و ان کی پارٹی و
دیگر طبقے متاثر ہیں اس کی شروعات تو آپ کہ محبوب قائد و جا نثار
ایڈ مرل نے ہی کی تھی۔ آپ کے لیڈران گرفتار ہوتے ہیں، ہشاش بشاش
عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں،

میڈیا ٹاک بھی کرتے ہیں، اسمبلی میں بھی پہنچ جاتے ہیں،
ملک سے باہر بھی چلے جاتے ہیں مگر یاد کیجئے گا اس شہر
کے سینئر سیاست دان ٹیڑھی کمر کے ساتھ، آنکھوں پر پٹی باندھ
کر اپنی پارٹی کے دیگر کارکنان کہ ساتھ صف بہ صف بکترببند
گاڑیوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیش ہوتے
تھے۔

آج کل اُن میں سے بیشتر خطر ناک دہشت گرد جن کی گِرفتاری
پر آپ یہ فرماتے تھے کہ کچھ تو کیا ہے جو پکڑا ہے، معصوم ہوئے
تو عدالت چھوڑ دے گی۔ تو بھائی بیشتر چھوٹ چکے، چھوٹنے کا
صرف ٹِکر ہی چلتا ہے، نہ بریکنگ آتی ہے نہ ڈبے گھومتے ہیں۔
اور تو اور، کئی نوجوان زیرِ حراست تشدد سے ہلاک ہوئے اور کئی
ماورائے عدالت قتل، اگر یاد داشت کمزور ہو تو انتہائی ہونہار طالب
علم وقاس شاہ کا نام ہی گُوگل کرلیں،

آفتاب احمد کو بھی آپ بھول گئے ہوں گے۔ سب سے تکلیف دہ
تو پروفیسر حسن ظفر عارف کی ہلاکت تھی پر آپ کی زبان پر
تو آبلے ہی پڑے رہے، سیاسی جماعت وابستگی چھوڑ کر اُن کے
اُستاد ہونے کی خاطر ہی مزمت کر لیتے۔۔۔ شہید علی رضا عابدی
بھائی کا نوحہ پھر کبھی۔

ان سب طعنوں نے ایک بہت ہی مایوس صورت حال پیدا کردی
ہے، بجائے کہ تمام جمہوری قوتیں ان حالات میں ایک دوسرے
کی دل جوئی کریں، اس کہ برعکس خاندان کہ انور خالو کا کردار
ادا کر رہے ہیں۔

چند دِن قبل طلبہ یونین کے ایک رہنما نے یہ فرمایا کہ اداروں نے
اُن پر اُردو مُسلط کری، سب کو معلوم ہے موصُوف کی تنقید اُردو
زبان پر نہیں تھی پر اُنکا انداز بیان سمجھ سے بالا تھا اور مہاجروں
کو سیخ پا کرنے کہ لیے کافی تھا کیونکہ اب تو ایک سوئی کی چُبھن
بھئ خنجر برابر لگتی ہے۔

کراچی کہ لیفٹسٹ طلبہ سے معزرت کے ساتھ، طلبہ یونین کی بحالی
مارچ کے نعروں میں تمام قومیتوں کا ذکر تھا، مہاجروں کا ذکر نہ ہونے
پر انکا زیادہ بھڑکنے کی وجہ بھی احساس محرومی تھا، اور اس حوالے سے
شکایت بھی آپ کو ہمارا اپنا سمجھ کے کی، کیونکہ کوئی شک نہیں کہ
یہ طلبہ تمام قوموں کا درد رکھتے ہیں۔

یقین جانیں! ہم مظلوم ہونے کہ امتحان میں پورے نمبر رکھتے ہیں
مگر پھر بھی کراچی کے ایک نو عمر سیاستدان اور سوپر مین سے
بھی زیادہ سوپر ایکٹوسٹ کو بھی ہم نظر نہیں آتے۔ مجھے نہیں پتہ
کل کس حوالے سے عزیز آباد کے سیاسی کارکن اپنے پیاروں کی قبروں
پر جانا چاہ رہے تھے پر اُن کو روکنے کہ بعد کسی انسانی حقوق کہ علم
بردار کی کوئی TWEET؟ کوئی چیخ و پکار؟؟

ویسے تو اب تمام ہی قومیتیں معروف شاعر قمر جلالوی کہ ان
اشعار کا حوالہ دے سکتی ہیں کہ

‏‎اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
‏‎اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
‏‎بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم
‏‎اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

‏‎دی صدا دار پر اور کبھی طُور پر
‏‎کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
‏‎ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدە
‏‎صاف کہہ دو کہ ملنا گوارا نہیں

‏‎گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی
‏‎سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
‏‎پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے اہلِ چمن
‏‎یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

‏‎ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو
‏‎دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
‏‎وە یقیناً سنیں گے صدائیں میری
‏‎کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں

آخر میں بس یہی کہ ہم تو بَرمَلا سب کی مظلومیت پر
اُن کے لیے آواز اُٹھائیں گے۔ پر کوئی عالم فاضل، کبھی پَکّا
قلع، قصبہ علی گڑھ جیسے سانحات کو بھی گُوگل کرلے۔

آپ کے پی ایچ ڈی کی بہت قدر، کوئی پڑھا لِکھا شخص
مندر جہ بالا موضوعات پر ہی پی ایچ ڈی کرلے۔

Facebook Comments