December 11, 2019 at 11:28 am

تحریر:وقار زیدی

روئے زمین پر عظیم ماضی رکھنےوالاملک برطانیہ جس نے
بھرپور عروج بھی دیکھااورزوال بھی۔مگرایساکیسےہوسکتاہے
کہ ایک شخص پیدا ہو پرورش پائے جوان ہو اور بوڑھا ہو اور
پھر بس چلا جائے۔ کوئی پوچھ گچ نہیں؟ اور روز قیامت اس کی
بازپرس بھی نہ ہو؟

ہرگز ہرگز نہیں ایسا ہو ہی نہیں جو دنیا میں آیا
اسے ایک ایک چیز کا حساب کتاب دینا پڑتا ہے۔
برطانیہ کا کھاتہ بھی کھل چکا ہے۔

برطانیہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کاماضی جاننے
والاشخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک مرے ہوئے شخص
سےسخت سوال وجواب کیے جارہے ہیں یہ مردہ کسی
عذاب کاشکارہے۔

مردہ کون ہے اور اس کاجواب آگےچل کر مل جائے گا۔
یہ سب کچھ سمجھنے کے لیے آپ کو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا۔
آپ کو عصر حاضر کا برطانیہ شطرنج کی بساط پر دکھاتے ہیں۔
اس کےپیادے، مہرے، بادشاہ اور وزیر کی بے بسی دیکھ کر ہی
آپ بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

“بریگزٹ”

لفظ بریگزٹ دولفظوں کامجموعہ ہے۔
بریٹن اور ایگزیٹ یعنی برطانیہ باہرہوگیا۔
لغت سےکھنگالیں توکسی محفل سےسب کوخداحافظ
کہنےکوبھی بریگزٹ کہاجاتاہے۔

مگریہ مسئلہ پیداکیسےہوااس کےلیےہمیں
تھوڑاماضی کاسفرکرناہوگا۔۔

یہ توسب ہی جانتےہیں کہ تاج برطانیہ کئی ملکوں
پرقبضہ کرچکاہے۔ خود ہمارا خطہ 200 سال برطانیہ
کی غلامی میں رہا۔

دنیامیں صرف جاپان، شمالی کوریا، جنوبی کوریا،
تھائی لینڈاورلائبیریاہی ان پانچ ممالک میں شامل
ہیں جن کوکبھی یورپ نےاپنی کالونی نہیں بنایا۔
مگر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی ممالک یورپ کی
غلامی یاکالونیل ازم سےباہرنکلتےرہے۔ متحدہ ہندکو
آزادی دینےکی کئی وجوہات میں سےایک وجہ یہ بھی تھی۔

دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ خودبہت کم زورہوگیا
تھادیگرممالک میں اٹھتی بغاوتوں کی تحریک اتنےمؤثر
اندازمیں قابونہیں پاسکتاتھااورویسےبھی جب آپ کےاپنے
گھرمیں آگ لگی ہوتوآپ کوباہرکی فکرزراکم ہی ہوتی ہے
چاہےآپ کتنےہی طاقت ورکیوں نہ ہوں۔

اب زرامدعےپرآتےہیں 23 جون سال 2016 کو یونین سے
41 سال تک رکن رہنےکےبعدبرسراقتدارٹوری پارٹی کویہ
سوجھاکہ یورپی یونین سےبرطانیہ کوعلیحدہ ہوجاناچاہیے
اس سلسلےمیں جمہوری طریقےسےپارلیمان میں ووٹنگ کرائی
گئی مگروہ دن ہےاورآج کادن پارلیمان، کیبنٹ ممبران اوردیگر
سیاسی جماعتیں یورپی یونین سےعلیحدگی کی معاملےپرمتفق
ہوکرایک صف میں کھڑی نظرنہیں آئیں۔

خیریہاں بھی اس وقت کےوزیراعظم ڈیوڈکیمرون 48 اور
تقریباُ52 ووٹوں کےفرق سےیہ فیصلہ کرانےمیں کام یاب ہوگئے
کہ ہم جلدیورپی یونین کےقدموں سےاٹھ کرواپس چلےجائیں گے۔

مگریہ پارلیمان کی کارروائی ہی نہیں تھی ریفرنڈم میں ایک
اعشاریہ تین ملین عوام نےبھی یورپی یونین کاپلوچھوڑنےمیں
ممبران پارلیمان کی ہاں میں ہاں ملائی۔

مگربالکل سوچاسمجھاگھونساڈیوڈکیمرون کےلیےتیارتھا
جس کا نتیجہ سامنےآتےہی ان کےمنہ پرپڑاکہ جناب کن شرائط
کےتحت آپ یہ طلاق لینےجارہےہیں جب منکوحہ یعنی یورپی
یونین کوآپ سےکوئی شکایت ہی نہیں اوراگرعلیحدگی ہی
کرنی ہےتوعلیحدگی کےبعدبرطانیہ کی حیثیت کسی رنڈوےشوہر
کی سی رہ جائےگی لےدےکرچندبڑےتجارتی شہرہیں تیل اورگیس
کےذخائراگرہیں بھی تووہ اسکاٹ لینڈمیں اوروہ خودہم سےعلیحدگی
چاہ رہےہیں۔

یورپی یونین سےعلیحدگی پرشہری وہ تمام سہولتوں
سےمحروم رہ جائیں گےجن سےاس اتحادکاحصےرہتےہوئے
حاصل تھے۔

تجارت، کاروبار، معیشت، برآمدات اوردرآمدت سب پربرا
اثرپڑےگاالٹادنیابھرسےآئےہوئےغیرملکیوں کےلیےبرطانیہ پرکشش
حسیناکی حیثیت کھودےگا۔

سوال پرسوال اٹھےہرجواب میں شرمندگی اورلاچاری کےسوا
کچھ نہیں تھاکیوں کہ برطانیہ کایورپی یونین سےعلیحدگی کا
فیصلہ عجلت میں اٹھائےگئےقدم سےکچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔

برسراقتدارکنزرویٹیوپارٹی نےڈیوڈکیمرون کاگھوڑاڈھائی چال
واپس پیچھےلےکرفرزیں کونکال کربساط میں آگےرکھ دیا۔
تیرہ جولائی سال دوہزارسولاکوتھریسامےنےبرطانیہ کی
وزارت عظمی کامنصب سنبھال لیا۔

ابتدائی دن بہت اچھےگزرےمگربعدمیں بظاہرلبرل اوراندرونی
طورپرکنزرویٹیوذہنیت کی حامل لیبرپارٹی اورخودبریگزٹ پارٹی
نےعمررسیدہ تھریسامےکےلیےکسی کٹخنی ساس کارویہ اپنائےرکھا۔
ایوان کی کوئی ایسی کارروائی نہیں گزری جس میں شورشرابہ نہ
ہواہواورمردمجاہداسپیکراسمبلی جون برسونےایوان نمایندگان کو
ڈانٹ کرخاموش نہ کرایاہو۔

سابق وزیراعظم تھریسامےکےدوراقتدارمیں برطانیہ کی یورپی یونین
سےعلیحدگی کی تاریخ انتیس مارچ دوہزارسترہ تھی مگرایسانہ ہوسکا۔
سی این این نےتواپنی ویب سائٹ پرکاؤنٹ ڈاؤن تک لگالیاتھاجوروزبتاتا
تھاکہ اب برطانیہ کی یورپی یونین سےعلیحدگی میں اتنےدن ،اتنےگھنٹےاور
اتنےمنٹ اورسیکنڈباقی بچےہیں۔

خیرشریربرطانوی ایوان نمایندگان نےاس مسکراتےامریکی طنزکوبھی
ناکامی میں بدل دیااورباربارپارلیمان میں بریگزٹ میں تاخیرکےمعاملے
پربحث چلتی رہی۔

یورپی یونین بھی اس معاملےپرخوش دلی کامظاہرہ کرتی رہی۔
جب جب چاہادوتین چارماہ کی توسیع دیتی گئی مگراس طویل
جدوجہدسےکنزرویٹیوخودبےزارآگئے۔

کنزرویٹیوپارٹٰی نےخودہی شطرنج کی بساط سےاپنی فرزیں
کوہٹاکرنیاپیادہ دوقدم کی چال سےآگےرکھ دیا۔
مگرتھریسامےکی رخصت کی تقریرجوانھوں نےٹین ڈاؤننگ
اسٹریٹ پروزیراعظم ہاؤس کےسامنےکی ہراحساس رکھنےوالے
شخص کوسوگ وارکرگئی۔

ایسالگتاتھاکہ تھریسامےملک کےلیےبہت کچھ کرناچاہتی ہیں
مگرکوئی طاقت انھیں اسی مسئلےمیں الجھاکررکھناچاہتی ہےجس
کی وجہ سےکم وہ بیش ایسےحالات میں وزارت عظمیٰ کاعہدہ چھوڑنے
پر مجبور ہوئیں۔ جس پربرطانیہ کےعوام رنجیدہ بھی ہوئے۔۔

اب نیاپیادےیعنی بورس جانسن نےٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پروزیراعظم
ہاؤس میں ہونےوالی میٹنگ میں سب پارٹی ممبران کادل پتانہیں
کیسےجیتا۔

ہمیں اتنایادہےاس دن تمام بڑےاخبارات نےیہ شہ سرخی لگائی
کہ آج ملک کاوزیراعظم ایک مسخرہ شخص بن گیاہے۔
برطانوی عوام کومسخرہ مبارک ہو۔
بورس جانسن اپنی چال چلن اوربات چیت کےاندازسےہی
شوخ اورچالاک نظرآتےہیں۔

جلدہی اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ پالی مگراب ان
کاپالاایک بردباراورزیرک اپوزیشن لیڈرجیرمی کوربن سے
ہوتاہےجنھوں نےبورس جانسن کوپارلیمان میں کئی مرتبہ دلائل
دےکرہرایااوراس بات کاقائل کیاکہ برطانیہ کایورپی یونین سے
بناکسی معاہدےکےعلیحدہ ہونااندھےکونیں میں عوام سمیت
کودنےکےمترادف ہے۔

جس طرح میڈم تھریسامےکی وزارت عظمیٰ میں اپنی ہی پارٹی
کےنمایندگان ہی ان سےمنحرف ہوگئےتھےاسی طرح بورس جانسن
کےدورمیں بھی ہوئےمگرچوں کہ بورس اس طرح کےدوہرامعیاررکھنے
والےپارٹی اراکین کی سرشت سےواقف تھےاسی لیےانھوں ںےنئی چال چلی۔

یعنی خودہی یورپی یونین پہنچےاورصدریورپین یونین جین کلارڈ
جنکرسےملاقات میں سترہ اکتوبردوہزارانیس کوبریگزٹ معاملےپر
ابتدائی مسودہ تیارکرالیا۔

خوشی خوشی دونوں رہ نماؤں نےپریس کانفرنس میں یہ مژدہ
سنایاکہ انھوں نےمذاکراتی ٹٰیم کےساتھ بنیادی مسودہ تیارکرلیاہے
جس سےیقینی طورپربرطانیہ یورپی یونین کےمیکےسےرخصت ہوجائےگا۔
اس مسودےکوپارلیمان سےپاس کرایاجاناتھامگراس کی خبریں اوربورس
جانسن کےملک پہنچتےہی عوام اورسیاسی جماعتیں بالاہی بالاکیےگئے
اس اقدام کےخلاف پھٹ پڑیں۔

ڈیموکریٹ یونیونسٹ پارٹی نےمعاہدےپراعتراض کردیا۔
ڈی یوایچ رہ نمانےکہابورس جانسن بالاہی بالااقدامات کیے
جارہےہیں۔

آئرلینڈاورشمالی آئرلینڈسےوزیراعظم کی حمایت نہیں کریں
گےآئرش پارٹی بھی ناراض ہوئی کہاہمیں اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔

سوشل میڈٰیاپرعوام پھٹ پڑےمالیاتی بحران، ملازمتیں، کاروبار
اورویزوں کاکیاہوگاعوام نےسوالات کےانبارلگادیے۔
انتیس اکتوبرکووزیراعظم بورس جانسن ملک میں نئےانتخاب
کی قراردادمنظورکرانےکی رائےشماری میں تیسری مرتبہ ناکامی
کامنہ دیکھناپڑگیا۔۔

اپوزیشن جماعت لیبرپارٹی نےرائےشماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔
دوسوانتیس اراکان نےرائےشماری میں حصہ لیا۔

چارسوچونتیس اراکین نےرائےشماری میں ووٹ نہیں ڈالے۔
اس طرح جلدانتخابات کی قراردادپارلیمان سےپاس نہ ہوسکی۔
بورس جانسن کاکہناہےکہ وہ بارہ دسمبرتک اراکین کومنانےاور
قائل کرنےکی کوشش جاری رکھیں گے۔

جلدانتخابات کاجھنجنا حزب اختلاف اوراقتدارکوخاصابھلا
محسوس ہوااورچنددن بعدہی بی بی سی کوانٹرویومیں بورس
نےنئےانتخابات کرانےکاعندیہ دیتےہوئےاپنامہرہ ایک گھرپیچھے
کھسکالیا۔

یوں اپوزیشن لیڈرجیرمی کوربن نےآخرکاربرطانوی سیاست
کی شطرنج کی بساط پربورس جانسن یعنی وزیراعظم اورملکہ
یعنی بادشاہ کوایک ساتھ دونوں جانب سےشہ دےکرپریشان کردیا۔

اگلےچندروزمیں جیرمی کوربن نےبھی جلدانتخابات پررضامندی
کردی یوں ویسٹ منسٹرنامی دوشیزہ طلاق یافتہ ہونےسےبچ گئی۔
اب بارہ دسمبرکوہونےوالےانتخابات میں جوسیاسی جماعت میدان
مارتی ہےوہی اپنےلائےہوئےوزیراعظم کےذریعےبریگزٹ کوروک
سکتی ہےیابریگزٹ کویقینی بناسکتی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سےدی گئی آخری مہلت اکتیس
جنوری قرارپائی ہے۔یعنی نئےوزیراعظم اگرموجودہ اپوزیشن
لیبرپارٹٰی کی ہوئی تو ان کےلیےبنامعاہدےکےعلیحدگی روکنا
مشکل ہوجائےگا۔

سوال پھروہیں آگیاکہ آخربرطانیہ کیوں یورپی یونین سے
علیحدہ ہوناچاہ رہاہےاگرایسی ہی کوئی برائی ہےتویورپی
یونین ہی خودبرطانیہ کوعلیحدہ کیوں نہیں کردیتا؟
یا اس کی وجہ جیرمی کوربن کےیہودی مخالف بیانات
سےسامنےآگئی؟

جیرمی کوربن نےبرطانیہ میں یہودیوں کی اثرپزیری
کےخلاف بیان دیاجسےمقامی میڈیانےبہت اچھالاانھوں
نےمعذرت بھی کرلی تاہم یہ سامنےآگیاکہ بورس جانسن کے
برطانیہ میں یہودیوں کےچیف ربی سےتعلقات بہت اچھےہیں
اوروہ کئی معاملات میں ان کی رائےکوکبھی نہیں ٹالتے۔

لیبرپارٹی کےرہ نماہولی رگبی نےچیف ربی ایفرم مریس کو
شدیدتنقیدکانشانہ بناتےہوئےکہاکہ وہ بورس جانسن کےمعاون
کارہیں۔چیف ربی یہاں ہمارےملک میں نیتن یاہوبنےہوئےہیں۔

حال ہی میں انتخابی مہم کےدوران اپوزیشن لیڈرجیرمی کوربن
نےفلسطینی عوام کےحق میں جوبےلاگ خیالات کااظہارکیااس
سےیہ اندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں کہ برطانیہ میں یہودیوں
کاکتنااثرورسوخ ہےیہ پوری کوشش کریں گےکہ لیبرپارٹی کسی
طرح بھی برسراقتدارآکرملک کومضبوط نہ کرنےدے۔

یہ یہودیوں کی ہی سازش نظرآتی ہےکہ برطانیہ کوکسی طرح
کمزورکرکےاب یورپ کےٹکڑےٹکڑےکردیےجائیں۔ بےشک جرمنی
اوربرطانیہ یہودیوں کےلیےمقدس سرزمین کی حیثیت رکھتےہیں۔

کیوں کہ دوسری عالمی جنگ میں مرنےوالےلاکھوں یہودیوں کے
قبرستان ان دونوں ملکوں میں موجودہیں۔ مگرجس طرح بریگزٹ
کی الٹی چھری سےبرطانیہ کوبوٹی سمجھ کرکاٹاجارہاہےاس سے
سراسرنقصان برطانوی عوام کا ہی ہو گا۔

اسکاٹ لینڈحکومت اگریورپی یونین کابازوپکڑےرہناچاہتی ہے
اوربرطانیہ یورپی یونین سےعلیحدہ ہوجاتاہےتواس برطانیہ کی
مثال سرکٹےسےزیادہ کسی دھڑےکٹےشخص کی سی ہوگی۔۔
ڈیوڈکیمرون کےزمانےمیں بریگزٹ کےعفریت نےسراٹھایاتھا۔
اسی بریگزیٹ سے ڈٰیوڈکیمرون گئے، تھریسامےگئیں اوربورس
جانسن بھی پارلیمنٹ تحلیل کراکےچلتےبنے۔

لوگ یہی کہیں گےکہ بریگزٹ نامی اس نک چڑھی لڑکی کو
ویسٹ منسٹرکےسسرال لاتےلاتےتین عاشق وزیراعظم ناکامی
پرخودکشی کرگئےمگراب تمام ذمےداری انتخابات جیتےوالی
جماعت کےسرپرآئےگی۔ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے
والی نئی حکومت اگر فوری یہ مسئلہ حل نہ کرسکی تو 31
جنوری 2020 برطانیہ کےعروج کاآخری دن کہلائےگا۔

Facebook Comments