December 10, 2019 at 4:53 pm

تحریر ندیم رضا

اسلام آباد کے موسم کا کوئی اعتبار نہیں۔
صبح کچھ ہے تو دوپہر میں کچھ اور شام قریب
ہوتے ہی ٹھنڈ نام پوچھنے لگ جاتی ہے۔

سیاسی موسم کی بھی یہی کیفیت ہے۔ ویسے تو اس
کا کچھ پتہ چلتا ہی نہیں۔ چند ہفتوں سے باالخصوص
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نان ایشو
کو جس طرح ایشو بنایا یا بنوایا گیا۔ اس کے بعد سے
اسلام آباد کی آب و ہوا مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

حکومت کی ناتجربہ کاری اور تجربہ کار قانون دان کی موجودگی
میں جو سب کچھ ہوا اس کا مداوا ممکن نہیں۔ جو کام حکومت
نے کرنا تھا وہ اب عدالت عظمی کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اسی موضوع
پر میری شاہ صاحب اور پیر صاحب سے اسلام آباد کے پر فضا مقام
کوہسار میں بات چیت چل رہی تھی۔

پیر صاحب گویا ہوئے کہ عمران خان حکومت کی ناتجربہ
کی وجہ سے سیاسی موسم تیزی سے بدل رہا ہے۔ ناکامی
کے باوجود پنجاب کے وزیر اعلی کو برقرار رکھنے پر اسرار
اور آرمی چیف کی ایکس ٹینشن والا معاملہ خراب کرنے کے
بعد بہت جلد بڑی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

اس سے پہلے کوئی کم از کم پانچ سے قبل مستقبل قریب
کی متوقع تبدیلیوں کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
میں نے پیر صاحب سے کہا بظاہر تو کچھ نظر نہیں
آرہا ہے۔ اور لوگ ایسے ہی لمبی چھوڑتے رہتے ہیں۔

پیر صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور بولے
ندیم رضا تم پیارے تو ہو ہی لیکن بھولے بھی ہو۔ کیا تم
دیکھ نہیں رہے موسم کے بدلتے ہی لوگوں کے لباس بھی
بدل چکے ہیں۔

اپنی ٹیبل کے ارد گرد نظر دوڑائی تو خواتین اور مرد طرح
طرح کے گرم کپڑے اور ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے۔ کیونکہ اس
سرد موسم میں گرمیوں کے کپڑے پہننے والے بیمار پڑ جائیں
گے اور پھر کپڑے تو رہیں گے لیکن کپڑے پہننُے والے نہیں
رہیں گے۔

پیر صاحب نے پھر کہا ڈیڑھ سال سے لوگوں کے کان پک
چکے ہیں طفل تسلیوں اور گھبرانا نہیں جیسے نعروں سے۔
کرپشن کا نعرہ لگا کے اقتدار میں لائی گئی حکومت اب تک
قومی خزانہ لوٹنے ولے کسی بھی سیاستدان سے پیسے نہیں
نکلوا سکی۔ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

ندیم رضا کتنے ہی ایسے لوگ حکومت کے ارد گرد اور کابینہ
میں آچُکے ہیں جو ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ لیکن
وزیر عظم انہیں ہٹانے یا ان سے قطعہ تعلق کرنے پر تیار ہی
نہیں ہیں۔ ایسی صورت حال میں انہیں مزید برداشت کرنا
ملک و قوم کے ساتھ سنگین جرم ہوگا۔

اس پر میں نے پھر کہا پیر صاحب بظاہر ایسا کچھ نہیں لگ رہا۔
سب معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ یکدم ہمارے شاہ صاحب نے
لقمہ دیا کہ سندھ سے چنگاری اڑ سکتی ہے۔ میں نے کہا چنگاری؟
اس پر پیر صاحب گویا ہوئے یار ندیم رضا کیا ہو گیا تمہیں ؟
بھول گئے سندھ میں ایک بار پھر سے گورنر راج کی باتیں شروع
کردی گئی ہیں۔

مجھ سے رہا نہیں گیا اور کہا یہ کوئی کرکٹ کی بال ہے جسے
وقت سے پہلے کپتان کے کہنے پر تبدیل کر دیا جائے۔ بال کی تبدیلی
کے لیے اس کا خراب ہونا شرط ہے اور سندھ حکومت تو ماضی سے
بہت بہتر کام کر رہی ہے۔ یہ تو غیر بھی کہہ رہے ہیں کہ اس وقت
چاروں صوبوں میں سب سے بہتر پروگریس سندھ حکونت کی ہے۔

پیر صاحب نے جھنجلا کر کہا اوہ بھائی اسی لیے تو میں کہہ رہا
ہوں غلط وقت پر غلط پتا کھیلنے سے ہی تو کام خراب ہو گا۔
پھر پنجاب کی وزارت اعلی کے منصب کا چوہدریوں کو بھی تو
شدت سے انتظار ہے۔

اختر مینگل بھی اب حکومت کے سامنے کھڑے ہوچکے ہیں۔
ایم کیو ایم کو تو تم سے بہتر کون جانتا ہے وہ تو صرف اشارہ
کے منتظر رہتے ہیں۔ ان تو ماضی جیسی رہی بھی نہیں۔

عمران خان کے سابق دیرینہ ساتھی حامد خان کو بھی نظر انداز
نہیں کیا جاسکتا۔ وکلا کی کافی بڑی تعداد ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
عمران خان کی طرف سے یکے بعد دیگرے غلط امور کی انجام دہی
کے بعد سیاسی موسم کا اثر تمام جماعتوں پر پڑے گا۔

میں نے کہا کیا مطلب غلطی کسی کی اور بھکتیں گی
سب جماعتیں؟ پیر صاحب نے کہا ہاں جی۔
ندیم رضا ایسا ہی ہو گا۔

دیکھو میں تمہیں بتاتا ہوں ابھی مسلم لیگ ن کے تقریباً تمام
ہی رہنما نواز شریف کے پاس لندن پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے
اکثر کی سیاست ختم ہونے جارہی ہے۔ میں نے کہا نہ کریں
ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

پیر صاحب نے کہا 1985 میں جنہیں سیاسی دھارے میں لایا
گیا تھا ان میں سے بیشتر کی چھٹی ہوجائے گی۔ بالکل اسی
طرح جیسے ایوب خان دور میں کئی سیاستدانوں کو ایبڈو
(مختلف الزامات لگا کے سیاست سے باہر) کر دیا گیا تھا۔

میں یہ بھی بتا دوں مقتدر حلقوں کی خواہش ہے کہ مستقبل کی
سیاست میں شریف خاندان کا کوئی کردار نہ ہو۔ اس پر میں نے
کہا کسی کی خواہشات پر پہرے تو نہیں لگائے جاسکتے سب
کی کچھ نہ کچھ تو خواہش ہوتی ہے ضروری نہیں کہ وہ پوری بھی
ہو۔ سیاست میں کسی پر پابندیاں لگانا اتنا آسان کام نہیں۔

ایوب خان کا ایبڈو آپ کے سامنے ہے اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اور اب
2019 ہے پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ مجھے ایسا
ہوتا دیکھائی نہیں دیتا۔ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوششیں کرنے
والے کتنے آئے اور چلے گئے ان کا نام لیوا کوئی نہیں۔

پیپلز پارٹی اب بھی زندہ ہے۔ وہ الگ بات ہے دشمن وہ کام نہ کر
پائے کو اپنوں نے پیپلز پارٹی کا کردیا ہے۔بہر حال یہ بتائیں پیپلز پارٹی
کا کیا بنے گا؟ پیر صاحب نے کہا ان میں سے بھی چند کرپٹ رہنما
سیاست سے باہر ہوں گے۔ اور یہ بھی سن لو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی
سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے۔

اس شرط پر کہ وہ آگے کی زندگی خاموش رہ کر گزاریں گے۔ اگر ان میں
سے کسی نے زبان کھولی تو پھر سختی کی جائے بالکل اسی طرح جیسے
شہباز شریف کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکمنامہ جاری ہوگیا۔
اسی طرح بعض وفاقی اور صوبائی وزرا کا نمبر بھی لگنے والا ہے۔

دسمبر کے مہینہ میں جیسے جیسے ٹھنڈ بڑھے گی سیاسی
درجہ حرارت بھی اسی شدت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ عدالتوں
میں غیر ملکی فنڈنگ اور کئی اہم کیسز زیر التوا ہیں۔

ان کی سماعتیں بھی شروع ہو سکتی ہیں۔ مختلف نوعیت کی
قانون سازی بھی ہونے والی ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ
چیف جسٹس آف پاکستان کی تبدیلی بھی بیس دسمبر کو
ہورہی ہے۔

بقول پیر صاحب دسمبر کے وسط سے فروری تک کئی اہم
تبدیلیاں متوقع ہیں جو دوسروں اور پی ٹی آئی کے لیے غیر
متوقع اور حیرت کا سبب ضرور ہوں گی۔

Facebook Comments