December 9, 2019 at 4:34 pm

تحریر:عامر حسینی

شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را

لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کے پڑوس میں رضویہ سوسائٹی ہے
اور یہاں خیابان راجہ صاحب محمود آباد ہے- اس خیاباں میں
دو گھر چھوڑ کر تیسرا گھر پاکستان ہاکی ٹیم کے 70ء کی
دہائی کے ایک مشہور کھلاڑی صفدر عباس نقوی کا ہے-

یہ صفدر عباس نقوی معروف انٹرنیشنل ہاکی پلئیر سہیل عباس
کے سگے ماموں ہیں- یہ پورا گھرانا ہاکی اور کرکٹ کے کھلاڑیوں
کا گھرانا ہے- لیکن میرے لیے اس گھر میں ایک اور سرپرائز موجود تھا-
اور وہ سرپرائز تھا علامہ ارتضی عباس نقوی کی شکل میں-

مفتی محمد ہاشم اس سرپرائز کا سبب بنے جو نواب شاہ میں ایک
بڑا مدرسہ اور مسجد کا انتظام و انصرام سنبھالے ہوئے ہیں-
اہلسنت و جماعت کے انتہائی قابل قدر و فاضل عالم دین ہیں،
کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور سب سے بڑا ان کا کام ‘امام مہدی
انسائیکلوپیڈیا’ کی تدوین ہے جس کی دوجلدیں چھپ کر آچُکی ہیں-
اس کی تیسری اور چوتھی جلد آنے والی ہے-

مفتی ہاشم قادری صاحب نے میری کتاب کوفہ پڑھی تو انہوں نے
یہ کتاب اہلسنت اور اہل تشیع کے کئی ایک علماء کو پڑھنے کو دی-

میں جب کراچی آرہا تھا تو انھوں نے فون پر مجھ سے بات کی کہا،
مولانا! ‘علامہ ارتضی عباس نقوی’ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں اور انھوں
نے بھی ‘کوفہ’ پر ایک کتاب لکھی ہے-

ہماری ملاقات 6 دسمبر ایک بجے رضویہ سوسائٹی میں طے ہونا پائی-

انھوں نے رضویہ سوسائٹی میں اپنے گھر کا جو پتا بھیجا وہ
خیابان راجہ صاحب محمود آباد کا تھا- اسی گلی میں سامنے
معروف امام بارگاہ شاہ کربلا ہے- اور اس گلی میں مجھے یاد
پڑتا تھا کہ ہاکی کے قومی کھلاڑی صفدر عباس کا بھی گھر تھا-

رضویہ سوسائٹی مولانا انیس الحسنین اور ایڈوکیٹ قزلباش
نے یو پی سابقہ اودھ ریاست سے ہجرت کرنے والے شیعہ مسلمانوں
کے لیے تعمیر کی تھی- یہ کراچی کی پہلی سب سے بڑی سوسائٹی
اور اس کا ٹرسٹ سب سے زیادہ مالیاتی اعتبار سے مستحکم ٹرسٹ
کہلاتا ہے-

خیر میں رضویہ سوسائٹی ناظم آباد بارے اپنی پرانی یادوں میں
کھویا کھویا ٹیکسی میں بیٹھ کر جب خیابان راجہ صاحب
محمود آباد کے دائیں لین میں تیسرے گھر کے سامنے پہنچا تو
میں نے درمیانے سے قد کے مالک ایک نوجوان کو وہاں کھڑے پایا-
میں نے سوچا کہ شاید یہ علامہ صاحب کے صاحبزادے ہوں گے-

‘آئیے’ کہہ کر نوجوان مڑ کر گیٹ کے اندر داخل ہوگئے-
میں بھی پیچھے پیچھے چل دیا- سیڑھیاں چڑھ کر میں اُن کے
ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو نوجوان نے مجھے اپنے
ساتھ صوفے پر بیٹھنے کو کہا تو مجھے پتا چل گیا کہ یہی
ارتضیٰ عباس نقوی ہیں-

ارتضی عباس نقوی نے گفتگو کا آغاز کیا اور مجھے کہنے لگے،
‘آپ کی کتاب’ کوفہ ‘ کا موضوع بہت زبردست ہے- اور کوفہ پر
شیعہ سُنی ہم آہنگی کی تاریخی بنیادیں صاف اور شستہ زبان میں
لکھی ہیں’

پھر بتایا کہ انھوں نے بھی کوفہ پر بہت تفصیل سے لکھا ہے-
اور پھر ‘کوفہ’ کے عنوان والی ایک ضخیم کتاب مجھے دے ڈالی-
اس دوران مفتی ہاشم اپنے ایک معاون کے ساتھ تشریف لے آئے-

علامہ ارتضی عباس نقوی تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد مجھے
اپنا’ کُتب خانہ’دکھانے لے گئے-کافی بڑا کتب خانہ تھا – ایک
الماری کے سامنے کھڑے ہوکر انھوں نے اشارہ کرکے بتایا کہ
اس گوشے میں ساری کتابیں صرف اور صرف کوفہ سے متعلق
ہیں-

میں نے الماری کی جانب نظر دوڑائی تو کم از کم ایک ہزار کتابیں
تھیں جو کوفہ کی شخصیات، واقعات، حاکموں، صحابہ کرام رض،
تابعین، تبع تابعین اور کوفہ کے گلیوں، محلوں، قبائل اور واقعات
کے متعلق تھیں-

کوفہ پر یہ عربی متون کوفہ سے ہی چھپے تھے اور میری آنکھیں
واقعی کھلی رہ گئی تھیں اور درجن بھر وہ کتابیں تھیں جن کی
مشکل سے سکین کاپی مجھے کتاب کوفہ لکھتے ہوئے مل پائی تھیں-

اس کتب خانے کے تین پورشن ہیں اور تینوں پورشن میں نایاب کُتب
کا ذخیرہ موجود تھا- قلمی نسخے بھی یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں-
ایک پورا پورشن صرف اور صرف جناب فاطمہ زھرہ سلام اللہ علیھا پر لکھی
عربی کُتب پر مشتمل تھا اور مجھے بے اختیار پروفیسر عطا نقوی مرحوم کا
ڈیرہ غازی خان میں کُتب خانے کا ایسا ہی ایک گوشہ یاد آگیا جو سارے
کا سارا سیرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا پر لکھی کُتب پر مشتمل تھا اور
میرے دوست غیور نقوی نے اُس گوشے سے ابراہیم امینی کی ایک کتاب
مجھے تحفے میں دی تھی-

علامہ ارتضی عباس نقوی کی عمر محض 29 سال ہے-
وہ رثائی ادب پر ایک رسالہ ‘جواہر’ باقاعدگی سے شایع
کرتے ہیں-

اتنی سی عمر میں ہزاروں عربی، فارسی، اردو و انگریزی کی
کتابیں پڑھ چُکے ہیں- اردو زبان میں ایم فل کر رہے ہیں- رثائی
شاعری بھی کرتے ہیں- اور محرم میں پنجاب سمیت ملک بھر میں
اُن کے خطبات ہوتے ہیں-

کہنے لگے، ‘مطلوب خان بختیاری کے گھر سالانہ مجلس عزا پڑھنے
خانیوال گیا تو میں نے وہاں آپ کا پتا کیا، ملنا چاہتا تھا لیکن
ملاقات نہ ہوسکی-‘

مطلوب خان، نواب مقبول خان کے گھرانے سے ہیں جو سونی پت
سے ہجرت کرکے خانیوال آباد ہوئے، اُن کی بہن کی شادی محمد حسین
آزاد کے گھرانے کے چشم و چراغ آغا سلیمان باقر سے ہوئی ہے-

ہمارے دوست، برادر بزرگ میر بابر علی ترمذی سے بھی
ارتضی عباس نقوی کے مراسم ہیں اور شکیل اختر اسلام آباد
والے کے بھی دوست ہیں-

ارتضی عباس نقوی کے گھر میں پہلے کوئی فرد تحریر و تقریر
کی طرف نہیں آیا مگر ہیں یہ سادات سامانہ کے چشم و چراغ
اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ غزالی دوراں سید احمد سعید کاظمی رح
امروہی کے گھرانے سے بھی ان کے تعلقات ہیں-

معتدل مزاج ہیں- 29 سال کی عمر میں اسقدر وسیع مطالعے نے
طبعیت میں پندار علم اور پندار زات کو ان کی شخصیت پر
حاوی نہیں کیا-

مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ یہ برصغیر کی جو صلح کُل، وحدت الوجودی،
کمپوزٹ کلچر میں گندھی ہوئی دانشورانہ کلاسیکل روایت ہے، اُس کے پیرو ہیں
اور یہ پاکستان میں کہیں باہر سے کوئی انقلاب درآمد نہیں کرنا چاہتے-

ہماری کھانے کے ساتھ تواضع کی اور کھڑے مصالحے کے گوشت
کی ڈش خود بنائی تو پتا چلا کہ یہ کئی لذیذ ڈشز بنانے کا ملکہ
بھی رکھتے ہیں-

آج جب یہ سب لکھ رہا تھا تو اسی دوران اُن کا فون آگیا- بتارہے
تھے کہ انھوں نے اپنی فیس بُک وال پر ہماری ملاقات کی اطلاع
بمعہ تصویر ڈالی تو لاہور سمیت پورے مُلک سے درجنوں اُن کے
دوستوں نے اُن کو بتایا کہ عامر حسینی اُن کے دوست بھی ہیں-

ارتضی عباس نقوی جیسے تحریر میں درس محبت و اتحاد و یگانگت
دیتے ہیں، ویسے ہی منبر پر وہ امن و آتشی اور محبت کا پیغام کربلا
شناسی کے ساتھ ساتھ دیتے ہیں-

کہتے ہیں،’کوفہ کی سیاسی-سماجی زندگی میں علوی کیمپ کے پیروان
حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کردار کو تاریخ کے آئینے
میں آپ نے اپنی کتاب کوفہ میں بکھرے حقائق کو یکجا کرکے دکھایا ہے
وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی میں ایسے کہیں بھی یک جا نہیں ہے-‘
( یہ اُن کا بڑا پَن ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے)

میں نے اُن سے اپنی کتاب کوفہ کی نظر ثانی شدہ اشاعت ثانی کا منصوبہ
ڈسکس کیا- وہ اس پر بہت مشتاق ہیں کہ کب وہ آتا ہے-

مفتی محمد ہاشم کو میں نے امام اعظم ابوحنیفہ کی زندگی
پر اپنے ایک منصوبے کے کچھ مندرجات کا زکر کیا میں اپنی
مصروفیات کے سبب ان نوٹس کو کتابی شکل نہیں دے پارہا
تو انہوں نے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کی جماعت مصنفین اس پر
کام کرے اُسے کتابی شکل میں مرتب کرے گی- میرا بنیادی
تھیم یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ جن کا سارا خانوادہ اموی
و عباسی ملوکیت کے خلاف علوی کیمپ میں رہا کو ان کے
اصل کردار اور اُن کے اپنے افکار کے آئینے میں دیکھیں نہ کے
بنوعباس کے قاضی ہوجانے والے اور شاگرد ابو حنیفہ ہوکر
ملوکانہ خواہشات کو فقہ حنفی کا حصہ بنادینے والے ابو یوسف
کے آئینے میں دیکھا جائے- اگرچہ اس سے بہت سے لوگوں کو
تکلیف تو ہوگی لیکن سچائی بہرحال مقدم رہنی چاہیے-

ابتدائی مسلم تاریخ میں کوفہ، مدینہ، مصرمیں جو پروٹو سُنی
اسلام تھا اس کا سب سے بڑا اور سواد اعظم سیاسی پوزیشن
کے اعتبار سے علوی تھا ناکہ زبیری و اموی اور عباسی اور وہ
پروٹو شیعہ اسلام کے ساتھ اتحاد و اشتراک میں تھا- اور سُنی
فقہ کے جو چار بڑے مذاھب ہیں اُن کے بانی یعنی امام ابو حنیفہ،
امام مالک، امام احمدبن حنبل اور امام شافعی یہ بھی اپنی سیاسی
پوزیشن کے اعتبار سے علوی ہی تھے- ملوکیت نے اور بعد ازاں
کالونیل دور میں سُنی اسلام کے انقلابی چہروں کی سیاسی
پوزیشن کو مسخ کرکے اسے ہم آہنگ ملوکیت بنایا گیا اور
دور جدید میں اسے ہم آہنگ ناصبیت و خارجیت و تکفیری
بنانے کی کوشش جاری و ساری ہے- مفتی ہاشم اور علامہ ارتضی
عباس نقوی جیسے نوجوان اسکالرز غنیمت ہیں-

Facebook Comments