افغان سینیٹ نے دوحہ مذاکرات مسترد کر دیے

شیئر کریں:

افغان طالبان اورامریکا کے درمیان افغان امن مزاکرات کے دسویں راونڈ کا تیسرااجلاس دوحہ میں جاری ہے۔ اس دوران افغان سینیٹ نے طالبان امریکا کے براہ راست امن مزاکرات مسترد کرنےکا اعلان کردیا ہے۔
افغانستان میں مستقل اور پائیدارقیام امن کیلئےامریکا اورطالبان کےمابین امن مزاکرات کا دسواں راونڈ قطرکے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے۔ آج تیسرے روز مختلف امور کو حتمی مرحلے کی طرف لے جایا جائے گا۔ تین ماہ کے تعطل کے بعد شروع ہونے والےامن مزاکرات کے خلاف افغان سینیٹرز نے طالبان اور امریکا کے مابین براہ راست مزاکرات مسترد کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ فضل ہادی افغانستان کے زیر صدارت میں ہونے والےایک غیر رسمی اجلاس میں فیصلہ کیاہے کہ اگر افغان پارلیمنٹ جاری افغان امن مزاکرات کا حصہ نہیں ہے تووہ اس قسم کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ افغان طالبان (امارت اسلامی افغانستان ) کے سیاسی ونگ کے ترجمان سہیل شاہین نےکہا ہےکہ وہ امریکا سےامن معاہدےکےبعد افغانستان کےاندرونی مزاکرات پر یقین رکھتے ہیں، دوحہ مزاکرات کےبعدوہ افغان حکومت کےساتھ مزاکرات شروع کریں گے۔ موجودہ صورت حال میں افغان سینیٹ کا متحرک ہونا اس جانب اشارہ کر رہا ہے کہ اففان امن عمل اتنی آسانی سے قائم ہونے والا نہیں۔ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز کو بات چیت میں شامل نہیں کیا جاتا اس وقت تک بات چیت کے تمام ادوار بے سود ثابت ہوں گے۔
یاد رہے رواں سال ستمبر سے پہلے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے نو دور ہوئے اور متحدہ کا اعلان ہونا باقی تھا لیکن صدر ٹرمپ نے ایک ٹوہیٹ کے ذریعے سب کچھ ختم کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سنجیدگی کہیں بھی نہیں پائی جاتی۔


شیئر کریں: