December 6, 2019 at 11:22 pm

تحریر: محمد امنان

خبریت کا معیار جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بدل رہا ہے اور نکھر بھی رہا ہے عوام کو معلومات تک رسائی کے لئے اب سوشل میڈیا بھی میسر ہے اور لوگ اچھے برے کی تمیز کرنے کے ساتھ ساتھ کھل کے آوازیں بھی اٹھانے لگے ہیں پرانے دور میں (جب صرف اخبارات ہوا کرتے تھے) صحافیوں کو معاشرے کا حقیقی آئینہ سمجھا جاتا تھا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا کیونکہ تب صحافی صرف سچ کہتا تھا جس کی مہر اکثر اوقات اسکی پیٹھ پہ پڑتے کوڑوں کی صورت لگائی جاتی تھی

معلومات اور حقائق کو روکنے کا کام کئی صدیوں سے چلتا آرہا ہے اور انفارمیشن کے استعمال کو مفادات کی ڈھال پہنانا بھی پرانے دور سے چلتا آرہا ہے البتہ مملکت خداد میں صحافت اب پرانے فیشن سے نکل کر نئے دور میں کہیں اور نکل گئی ہے بے شمار ٹی وی چینل ہیں جن کی مفادات کےحساب سے بولیاں بھی مختلف ہیں ہزارہا اخبارات ہیں جو مالکان کی مرضی کے مطابق اور بوقت ضرورت چھاپے جاتے ہیں کئی پرانے اخبارات اور ٹی وی چینلز اور صحیح والے صحافی (صحافیوں کی وہ قسم جو آج بھی کوڑے یا جدید دور کے مطابق گولی کھانے کو تیار ہیں) یا تو منظر عام سے غائب ہو گئے ہیں اگر منظر پہ ہیں بھی تو قدغنوں کے خلاف کسی نہ کسی صورت آوازیں اٹھا ہی رہے ہیں لیکن ان آوازوں کو اب کوئی نہیں سنتا

کیونکہ اب صحافت میں آوازیں اور چہرے بدلنے والے فنکار کہانی کاروں کی جانب سے لا کر بٹھائے گئے ہیں اور یہ روز بروز بڑھ رہے ہیں صحافت کے زخمائے ہوئے شہرے پہ مرہم رکھنے کو اب بھی کچھ صحافی سچ کی دوا سے اسکا علاج کرنے میں مصروف ہیں مگر نتیجہ بے سود ہے کیونکہ سچ سے ڈرنے والوں نے نظام ایسا کر رکھا ہے کہ اب ہر طرف زہریلا خود ساختہ سچ بیچا جا رہا ہے

بادشاہوں کے زمانے میں بادشاہ اور سپہ سالاروں کی جھوٹی سچی تعریف کے لئے درباروں میں نقلئیے تعینات ہوتے تھے جو بادشاہ اور سالاروں کے موڈ بہتر بنانے کی کوششوں میں ہمہ وقت کرتب دکھاتے اور قصے گھڑتے رہتے تھے یہ قسم تو اب ناپید ہو گئی ہے مگر اسکی جدید شکل آج کے دور میں پاکستانی میڈیا کے بہت سے چینلوں میں پائی جائے گی

کیونکہ بقول ایک دوست صحافی ( اعیان سندھو) کے فی زمانہ صحافت کا مطلب سیٹھ کے کاروبار کی حفاظت کرنا اور دم ہلانے والا نوکر جس کا کام صرف تاج پوشی ہے اسے صحافی کہا جائے گا (تاج پوشی کا اضافہ راقم نے کیا ہے) تو سوچئیے اور ارد گرد ڈھونڈئیے غور کیجئیے کہ صحافت کہاں ہے اور صحافی کہاں کہاں پائے جا رہے ہیں امید ہے آپکو جابجا یہ لوگ مل جائیں گے

یہ سب لکھنے لکھانے کا مطلب بالکل یہ نہیں کہ میں اپنی ہی فیلڈ پر کیچڑ اچھال رہا ہوں بلکہ میں بطور ایک طالب علم اور ادنیٰ صحافی اسی تالاب کا کیچڑ خود سے صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جس میں صحافت جیسے مقدس پیشے کو روز بروز غوطے دئیے جا رہے ہیں

کیونکہ یہ چوتھا ستون اب باقی ستونوں میں ضم ہو چکا ہے یعنی حکومت مقننہ وغیرہ وغیرہ دو دو منہ لئے اسے اپنے طریقے سے استعمال کر رہے ہیں سچ بولنے کے خلاف وزرا کی فوج ظفر موج دھڑلے سے پریس کانفرنسز میں آ کر برے انجام کے مژدے سناتی ہے

میرے ملک میں طرفہ تماشہ چل رہا ہے کہ چینل مالکان بشمول چند ایک کے سب ہی بڑے بزنس میں ہیں بزنس سے کیا ہی مزے کی بات یاد آگئی کہ چند دن پہلے ایک معروف اور بڑے بزنس مین (ایسا اکثر میڈیا چینلز نے چلایا) بہت سو ارب روپے پاکستان حکومت کو ایک تصفیے کے نتیجے میں دئیے جی ہاں ملک صاحب بحریہ ٹاون والے کا ہی ذکر ہے

عمران خان جو انصاف احتساب فلان ڈھمکانا کی گردان کرتے نہیں تھکتا یہ صاحب انکے بہت پسندیدہ ہیں اب جو کیس این سی اے( لندن کی ایک ایجنسی) میں ملک صاحب کے خلاف تھا اسکی مد میں جو رقم برطانیہ نے پاکستان کو واپس کی اسکی الگ ہی سٹوری بنا کر پی ٹی آئی کے وزرا نے میڈیا پر خوب ہڑبونگ مچائی اور اس ہڑبونگ میں ہمارا اپنا میڈیا بھی شامل رہا جبکہ شہزاد اکبر صاحب اور ملک صاحب نے بنفس نفیس الگ الگ پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنا بنایا سچ عوام کے سامنے پیش کیا

پہلے دور میں زرد صحافیوں پہ انگلیاں اٹھائی جاتی تھیں لیکن اب باقاعدہ ہاتھ اٹھائے جا رہے ہیں اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ صحافیوں کی جگہ مداریوں نے لے لی ہے اور ڈگریوں والے ہزاروں فیلڈ ورکر ریاست مدینہ میں بے روزگار ہیں اور حکمرانوں کو سوائے باہر سے آئے اربوں روپے کے کچھ نظر نہیں آرہا

ا سکے بعد ایک اخبار ہے ڈان جس کے بانی ہمارے قائد اعظم ؒ ہیں کو ڈٰ ایچ اے میں بند کر دیا گیا کیونکہ اس اخبار نے لندن بریج میں ہونے والے حملوں سے متعلق کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا تھا جس کی پاداش میں نامعلوم افراد نے نا صرف اس اخبار کے اسلام آباد آفس کا ہفتے میں دو دن گھیراو کیا بلکہ سوشل میڈیا اور عملی احتجاج میں باقاعدہ غداری کا سرٹیفیکیٹ بھی بانٹا ابھی جمعے ہی کی بات ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا بتا رہا ہے لندن حملوں میں شہریوں کو مارنے والے کی لاش پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان پہنچ چکی ہے اور اسکی تدفین پاکستان میں ہو گی جس کی تصدیق پاکستانی حکام بھی کر چکے ہیں

ماضی میں بھی قائد اعظم ؒ سے جڑی بہت ساری چیزوں، رشتوں اور افراد پہ غداری کے فتوے وسیع تر ملکی مفاد میں لگائے گئے اور اب قائد محترم کے لگائے پودے کو غیر ملکی ایجنٹ اور ناجانے کیا کچھ کہا جا رہا ہے یہ واقعات بتانے کا مقصد راقم الحروف کا صرف یہ ہے کہ میڈیا مالکان اور حکومت جھوٹ کو سچ دکھانے میں اس قدر مگن ہیں کہ ملکی صحافت کا چہرہ طاقتوروں کے ساتھ مل کر روز بروز مسخ کیا جا رہا ہے

پہلے پرائیویٹ میڈیا کے لوگوں پر قیامت ڈھائی گئی پندرہ ہزار کے قریب لوگ پورے ملک میں اس وقت بے روزگار ہیں جن میں میں بھی شامل ہونے والا ہوں میرے بہت سارے دوست شامل ہیں پھر قومی ٹی وی چینل میں بھی برطرفیوں کا ایک نیا طوفان لایا گیا

کیونکہ ملک عزیز میں صحافی جو صحیح والے ہیں وہ صحافت سوشل میڈیا پر کرتے ہیں اور دفاتر میں سیٹھ کی نوکری کرتے ہیں اگر دفاتر میں صحافت کی جائے گی تو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور نکالا جا رہا ہے

کسی قابض کی جانب سے دی جانے والی تصفیے کی رقم پر ملک میں جشن کا سماں ہوتا ہے لیکن کوئی بے روزگار صحافی اگر تنخواہ کی آس میں مر جائے تو ریاست مدینہ کے حکمرانوں کی زبانوں پر آبلے پڑ جاتے ہیں قیامت ڈھے جاتی ہے اب ہو یہ رہا ہے کہ ملک میں جو لوگ جو کچھ کروانا چاہ رہے ہیں وہ آہستہ آہستہ کھل کے سامنے بھی آرہے ہیں اور اپنی مرضی کی خبریں بھی دیکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں کیونکہ مسخرے اور مداری کے سامنے ناچنے والے بے شمار کردار انکے اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں

اب ایک اور سچ سنیں یہ سب میں اسلئیے لکھ رہا ہوں کیونکہ میں ایک غریب اور لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں بے روزگاری اور فاقوں کا ڈر بچپن سے دیکھا اور سہا ہے ڈگریاں خوب جمع کر رکھی ہیں وی جیسے جمع کی ہیں خدا دیکھ رہا ہے
لیکن یہاں تعلیم کا معیار بھی یہاں کہ حکمرانوں کی طرح بے فائدہ اور بے نتیجہ سا ہے میڈیا پہ لکھنے کی جسارت میں مجھے برا بھلا کہا جائے کیونکہ مجھ جیسے کئی ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں اور ناجانے کیا سوچ کر چپ ہیں لیکن انکی یہ چپ خطرناک ہے

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور ملک کے حکمران عادل ہیں اس بات پہ بے شمار قہقہے پھوٹ رہے ہیں میرے دل میں یہاں نہ تو حکمران عادل ہیں اور نہ ہی صحافت اصل حالت میں بس جس کا جو جی چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ملک اللہ کے آسرے کے بعد آبپارہ مارکیٹ کے تاجروں کے رحم و کرم پہ ہے

نو آمیزوں کے لئے لکھنا چاہوں گا کہ یا تو ڈگری بدل لو اگر آباو اجداد کی ڈھیر ساری جائیداد ہے تو جو چاہے کرو جو لوگ واقعی صحافی بننا چاہتے ہیں وہ قیامت تک کا انتظار کریں یا جب تک طاقتوروں کا کھیل مکمل نہیں ہو جاتا نان جویں کے لئے میری ہی طرح مزدوریاں ڈھونڈیں بوجھ ڈھوئیں اور روئیں ہاں ایک بات ہے کہ اپنے لہجے اور الفاظ میں شدت مت لانا ورنہ اٹھا دئیے جاو گے غائب کر دئیے جاو گے

بسمل عظیم آبادی کے وہ مشہور آفاق سرفروشی کی تمنا فی زمانہ خبر فروشی کی تمنا کے تحت گنگنائے ، سکھائے اور عملائے جا رہے ہیں ارد گرد دیکھئیے اور سوچ بچار کیجئیے جنہیں یہ سطریں بری لگیں وہ بھی غور کریں کہ آخر وجہ کیا ہے نوجوان کی سوچ میں مزاحمت ہے

میں ایک خبر بنانا چاہتا ہوں لیکن حقائق اور الفاظ ریت کی طرح کھسک رہے ہیں میں وہ خبر بیچنے کو نہیں صحافت کے اصل معنوں کے مطابق بنانا چاہتا ہوں شاید کوئی اخبار کوئی چینل اس خبر کو چھاپ یا دکھا سکے
وہ خبر ہے کہ
صحافت مر رہی ہے صحافی مر رہے ہیں
خدا جانے کہ یہ حکمران کیا کر رہے ہیں

Facebook Comments