چترال میں خودکشی کا رجحان کیوں؟

شیئر کریں:

(آفتاب مہمند پشاور سے)
چترال میں نوجوانوں اور خصوصاًنوعمر خواتین میں خودکشی
کا رجحان بڑھنے لگا ہے۔ اس میں گزشتہ عشرے سے خطرناک
حد تک اضافہ ہوا ہے۔ کوئی ہفتہ نہیں گزرتا جب چترال کے
کسی حصے سے خودکشی یا اقدام خود کشی کی خبر سننے کو
نہ ملے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحان سے معاشرے کے ہر طبقے میں
سراسیمگی اورپریشانی پھیل گئی ہے۔نوجوانوں کے والدین بھی
خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اکثر واقعات میں معمولی گھریلو
لڑائی جھگڑے خودکشی کا سبب بنے ہیں۔

چترال میں خودکشی کے اسباب معلوم کرنے اور اس بارے میں آگہی
پھیلانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور اسامہ وڑائچ کیریر اکیڈمی
نے مشترکہ طور پر سیمینار کا اہتمام کیا۔

سیمینار میں دانشور اور ماہرین نفسیات نے اپنے پر مغز مقالات پیش کئے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خودکشی کی قبیح فعل کے خلاف معاشرے
میں ایک حفاظتی پشتہ تعمیر کیا جائے۔

معاشرے کے ہر فرد کو ساتھ ملانا ہو گا تاکہ یہ ذیادہ سے
ذیادہ مضبوظ بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ پولیس کے مطابق
گزشتہ پانچ سالوں کے دوران خودکشیوں کی تعداد95سے بھی
زیادہ ہے۔ ان میں اکثریت نوجوان خواتین کی ہے۔

گزشتہ سال 38اور رواں سال اب تک 19 نوجوان
خودکشی کر چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد
اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود کہتے ہیں دونوں اضلاع
کی انتظامیہ اس سماجی مسئلے کی حساسیت اور اہمیت سے
باخبر ہیں۔

اس کے ممکنہ محرکات معلوم کرنے اور معاشرے میں آگہی
پھیلاکر اس میں بتدریج کمی لانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی
کی جارہی ہے۔


شیئر کریں: