December 6, 2019 at 1:21 pm

تحریر :شہزاد علی

بی بی آصفہ ڈینٹل کی طالبہ نمرتا کی 16 ستمبر کی دوپہر ہاسٹل کے
کمرہ نمبر 45 میں مردہ پائی گئی تھی روم میٹس شوبھا اور گیتا جو کہ
ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی میرپورماتھیلو کی رہائیشی ہیں انہوں
نے دروازہ کھٹکھٹایا نہ کھولنے پر کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق انہوں نے
مختصر وقت میں 13 سے زائد بار مہران ابڑو اور علیشان میمن کو فون
اور میسجز کیے اور چوکیدار کو بلوا کر دروازہ تڑوایا تو ان سمیت دیگر
ہاسٹلرز نے نمرتا کو گلے میں پھندہ بندے کمرے کے بیڈ پر ادھ مرا پایا

نمرتا کی کلاس فیلو ساکشی کے مطابق اس نے آگے بڑھ کر نمرتا کے گلے
میں بندھے پھندے تیز دھاری آلے کی مدد سے کھولا اس دوران نمرتا نبض
چل رہی تھیں کلاس فیلوز نمرتا کو فوری طور پر اسپتال لے گئیں تاہم ڈاکٹرز
نے بتایا کے نمرتا کو مردہ حالت میں لایا گیا

ذرائع کے مطابق مہران ابڑو فوری طور پر اسپتال پہنچا اور کافی دیر تک
زاروقطار روتا رہا نمرتا کی ہلاکت کی اطلاع مہران ابڑو کو نمرتا کی کلاس
روم میٹس کی جانب سے دی گئی تھی ایک طالبہ اور خاص طور پر اقلیتی
برادری سے تعلق رکھنے والی طالبہ کی ہلاکت نے کئی سوال کھڑے کر دیئے
اور دیکھتے ہی دیکھتے نمرتا ہلاکت معاملا اور بین الاقوامی سطح پر ہائی
پروفائیل کیس بن گیا

نمرتا کے جست خاکی کو چانڈکا ٹیچنگ اسپتال کے آئی سی یو میں رکھا گیا
اور ورثہ سمیت پولیس کو کالج انتظامیہ کی جانب سے مطلع کیا گیا نمرتا کے
والد والدہ اور بھائی ڈاکٹر وشال کراچی سے فلائٹ لے کر سکھر اور پھر بائے روڈ
لاڑکانہ پہنچے ان کے کئی عزیز و اقارب بھی اسپتال پہنچ چکے تھے

سب سے پہلے ورثہ کو نمرتا کی میت کے ساتھ کچھ وقت اکیلے میں دیا گیا
اس کے بعد ورثہ نے مطالبا کیا کہ انہیں جائے وقوع دکھایا جائے تب تک نمرتا
کو ہلاک ہوئے 8 گھنٹے کے قریب گزر چکے تھے ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش
خود انہیں اپنے ہمراہ ہاسٹل کے کمرہ نمبر 45 میں لے کر گئے وہاں جانے سے قبل
ڈاکٹر وشال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے نمرتا ہلاکت کو قتل قرار دے دیا تھا

نمرتا ہلاکت کے تقریبا 3 گھنٹوں تک پولیس جائے وقوع کو سیل کرچکی تھی
تاہم تقریبا 8 گھنٹوں بعد دوبارہ جائے وقوع کو نمرتا کی فیملی کیلیے کھولا گیا
جو کہ نمرتا کے گلے میں بندھے پھندے والے کپڑے سے لپٹ کر زاروقطار روتے رہے
یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاڑکانہ پولیس فیسلیٹیشن سینٹر میں فارنسک
ڈیپارٹمنٹ ہونے کے باوجود جائے وقوع سے فوری طور پر فنگر پرنٹس کیوں نہیں لیے
گئے ؟

نمرتا کے گلے میں جو دوپٹہ بندھا تھا اس کو ڈی این اے کروانے کیلیئے فوری طور
پر محفوظ کیوں نہیں کیا گیا ؟ ورثہ کی اجازت سے پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلا ہوا
تو میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر امرتا جو کے خود بھی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں
انہیں خاص طور پر ذمہ داری سونپی گئی کے وہ پوسٹ مارٹم کریں اور یونیورسٹی کی
جانب سے انہیں معاونت کیلیے ماہر اور سینئیر فارنسک، پیتھالوجسٹ اور گائیناکا
لوجسٹ فراہم کیے گئے

4 رکنی ٹیم نے نمرتا کا پوسٹ مارٹم کیا اس موقع پر نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال
نے بھی پوسٹ مارٹم کے دوران نمرتا کے بازئوں اور گلے پر موجود نشانات کا جائزہ
لیا ڈاکٹر وشال کے اصرار پر پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم نے نمرتا کے دو سیپلز لیے
ایک اپنے طور پر سرکاری ایس او پیز کے تحت روہڑی اور لمس جامشورو لیبارٹری
بھیجے گئے

جبکہ دوسرے ڈاکٹر وشال کو سونپ دیئے گئے تاکہ وہ اپنے طور پر لیب ٹیسٹ
کروا سکیں پوسٹ مارٹم کے بعد نمرتا کی میت کو آخری رسومات کیلیے رینجرز
کی سیکیورٹی میں میرپورماتھیلو بھیج دیا گیا دوسرے روز سارا میڈیا نمرتا کی
پروویزنل پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری ہونے کا انتظار کرتا رہا جو کہ عمومی طور
پر چند گھنٹوں میں جاری ہوجاتی ہے

تاہم اس رپورٹ کو عین میرپورماتھیلو میں نمرتا کے اگنی سنگسار کے بعد شام
کو سامنے لایا گیا اگنی سنگسار کے ساتھ نمرتا کے جسم سے منسلق تمام ثبوت
بھی جل کر خاک ہوگئے نمرتا کے پروویزنل پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا
کہ نمرتا کے گلے پر رسی کا نشان تھا جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات نہیں پائے
گئے رپورٹ میں واضع طور پر لکھا گیا کہ نمرتا کنواری نہیں تھی اور انتہائی
مضائقہ خیز اندار میں نجی حصوں کے خندوخال کا ذکر کیا گیا

جبکہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں صرف موت کی وجہ
کے تعین کی درخواست کی گئی تھی نمرتا کے پوسٹ مارٹم کے دوران
ڈاکٹر امرتا سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ڈاکٹر امرتا نے نمرتا کے نجی
حصوں کے نمونے حاصل کر کے ڈی این اے کے لیے تو بھجوا دیے لیکن نمرتا
کے ناخنوں کو ڈی این اے کیلیے نہیں بھجوایا گیا

ماہرین کے مطابق اگر ناخنوں کا ڈی این اے کیا جاتا تو جسم سے ملنے
والے ڈی این اے اور ناخن سے ملنے والے ڈی این اے کی مماثلت کی جاسکتی
تھی اور اگر یہ الگ الگ نتائج آتے تو بھی تحقیقات کیلیے ایک نئی سمت ہموار
ہوتی دوسری جانب پولیس نے 17 ستمبر کو کال ڈیٹا ریکارڈ میں ایک ماہ کے
دوران دونوں اطراف سے 4 ہزار سے زائد کالز اور میسجز سمیت سی سی ٹی وی
فوٹیجز سامنے آنے پر دو طالبعلم مہران ابڑو اور علی شان میمن کو زیر حراست لے
لیا اور نمرتا کے آئی فون ایکس موبائل، لیپ ٹاپ سمیت دونوں طالبعلموں کے
موبائل بھی اپنی تحویل میں لے کر ایف آئی اے کو فارنسکس کیلیے بھجوا دیے

تاہم اگلے روز تک ملک بھر کی سول سوسائیٹی نمرتا ہلاکت پر سراپا احتجاج
ہوچکی تھی اور جگہ جگہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا اور بھارتی میڈیا نے بھی
اس اشو کو پاکستان کے خلاف بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی یہ
وہ اہم وقت تھا

جب پاکستان مقبوضہ کشمیریوں کی آواز بلند کررہا تھا اور 27 ستمبر کو
اقوام متحدہ کی جنرل اسیمبلی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خطاب
کرنا تھا بھارت نے نمرتا معاملے کو اقلیتی برادری کے ساتھ ظلم کے طور پر
دنیا بھر کو پیش کیا معاملا ہائی پروفائل ہوتے ہی ورثہ کی جانب سے جوڈیشل
انکوائری کروانے کا مطالبہ سامنے آیا

تو واقع 10 روز بعد 26 ستمبر کو محکمہ داخلا سندھ نے ڈسٹرکٹ ائینڈ سیشن
جج اقبال حسین میتلو کو ہدایات انکوائری کرنے ٹرمز آف ریفرنس جاری کیے
جس کے مطابق ڈسٹرکٹ ائینڈ سیشن کو نمرتا ہلاکت قتل ہے یا خودکشی،
جو بھی ہے اس کی وجوہات اور آگئے کا لائے عمل بنانے کا کہا گیا

سیشن جج نے چند قانونی لوازمات کو پورا کرنے کیلیے سندھ ہائی کورٹ
کو مراسلہ جاری کیا جس کے بعد باقائدہ حکم ملنے پر ڈسٹرکٹ
ائینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو نے 2 اکتوبر کو انکوائری کا آغاز کیا
اور اس انکوائری کو ایک ماہ میں مکمل ہونا تھا

40 سے زائد افراد کے بیانات قلمبمد کیے گیے جس میں نمرتا کے ورثہ،
اساتذہ، کلاس فیلوز، ہاسٹل فیلوز، روم میٹس، ہاسٹل کا عملا، پرووسٹ،
ڈپٹی پرووسٹ، وائس چانسلر، رجسٹرار، پولیس افسران، ڈاکٹر امرتا
سمیت دیگر شامل تھے ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ائینڈ سیشن جج نے
جائے وقوع کا بھی دورہ کیا اور خود اس چارپائی پر چڑھ کر گلے میں رسی
نما پندھا ڈال کر حالات و واقعات اور ملنے والے بیانات کا معائینہ کیا کمرے
کی ہائیٹ دروازے کی بناوت داخلی خارجی راستے اور دیگر اس دوران نمرتا
کے پوسٹ مارٹم کا حصہ رپورٹس کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا

پہلے کیمیکل ایگزیمینیشن رپورٹ آئی جس کے مطابق نمرتا کے جسم سے
کوئی زہریلے معادے نہیں ملے دوسری رپورٹ ہسٹو پیتھالوجی سامنے آئی
جس کے مطابق نمرتا کے اندرونی اعضا دل، گردوں، پھیپھڑوں، اور جگر کو
کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا عمومی طور پر قتل کے وکٹمز میں یہ رپورٹ نارمل
نہیں آتی قتل ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں پر ببلز بن جاتے ہیں

جس سے میڈیکلی قتل ہونے کی جانب اشارے ملتے ہیں لیکن نمرتا کی
ہسٹوپیتھالوجیکل رپورٹ بلکل نارمل آئی اس دوران جج اقبال حسین میتلو
کی جانب سے پولیس کو جائے وقوع سے فنگر پرنٹس نادرہ کو شناخت کیلیے
بھیجے جانے کا حکم دیا گیا

جس پر پولیس نے 16 اکتوبرواقع کے ایک ماہ بعد 11 مختلف مقامات
سے فنگر پرنٹس بھجوائے گئے جس کے رپورٹ میں آیا کہ غیرمعیاری پرنٹ
ہونے کے باعث کسی بھی فنگر پرنٹ کی شناخت نہیں ہوسکتی جبکہ پولیس
کی جانب سے زیرحراست طلبہ کو لمس لیبارٹری جامشورو ڈی این اے
سیمپلز دینے کیلیے لے جایا گیا

جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نمرتا کے جسم اور کپڑوں سے ایک
نامعلوم شخص کا ڈی این اے ملا تاہم وہ ڈی این اے مہران ابڑو اور
علیشان میمن سے میچ نہیں ہوا جبکہ موبائل فارنکس رپورٹ میں سامنے
آیا کہ نمرتا موت کے قبل رات دیر گئے تک مہران ابڑو سے بات کرتی رہی
اور صبج بھی علیشان میمن نے میسج کرکے اسے لائیبریری میں آنے کا کہا
تاہم انکار کرتے ہوئے نمرتا نے علیشان میمن کو bye کا میسج بھی لکھا
اور اسکے بعد وہ ہلاک پائی گئی

مہران ابڑو اور علیشان میمن کے موبائل سے فحش مواد بھی ملا جبکہ
نمرتا کا موبائل پاسورڈ پروٹیکٹڈ اور آئی فون ہونے کے باعث ڈیٹا رکوری
نہیں ہوسکی وقت گزرنے کے ساتھ ڈاکٹر امرتا کی جانب سے حتمی پوسٹ
مارٹم رپورٹ بھی جوڈیشل انکوائری میں جمع کروا دی گئی جس میں حیران
کن طور پر انہوں نے لفظ STRANGULATION کا ذکر کیا جس کے معنی
گلا گھونٹنا ہیں امرتا نے اپنی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا کہ نمرتا کی
موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی

جبکہ جسم پر صرف گلے پر نشانات پائے گئے جو کہ لٹکنے یا اسٹرینگولیشن
کے باعث آ سکتے ہیں تاہم تحقیقاتی ادارے جائے وقوع سے ملنے والے شواہد
کی بنیاد پر مزید فیصلا کریں گے جبکہ تیسرے شخص کے ڈی این اے ملنے سے
نمرتا کے ساتھ جنسی عمل کی تصدیق ہوئی ڈاکٹر امرتا کی رپورٹ پر جوڈیشل
انکوائری کے جج نے انہیں اپنے چیمبر میں طلب کیا اور شدید سرزنش کی اور
پوچھا کے کیا یہ انکا اختیار ہے کہ وہ اداروں کو انکا کام بتائیں؟

یا پھر انہوں نے لفظ اسٹرینگیولیشن کا ذکر کیوں کیا جبکہ جنسی طور نمرتا
متحرک تھیں اس کا ذکر وہ پہلے ہی پروویزنل رپورٹ میں کر چکی ہیں تو
پھر جنسی عمل ہونے کی خصوصی نشاندہی کیوں کی گئی جس پر امرتا کا
کہنا تھا کہ وہ جونئیر میڈیکو لیگل افسر ہیں جس دن انکی نوکری کا آرڈر
ہوا اسی دن انہیں یہ کیس سونپ دیا گیا وہ یہ پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی
تھی جس پر جج اقبال حسین میتلو نے انہیں کہا کہ کیا ڈاکٹر امرتا نے یہ تحریری
طور پر میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو دیا کہ وہ یہ پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی؟

جس کا جواب ڈاکٹر امرتا نے نا میں دیا تب جج اقبال حسین میتلو نے انہیں
کہا کہ آپ نے کس کے کہنے پر یہ رپورٹ تیار کی اس کی تحقیقات ہونگی آپکو
شامل تفتیش کیا جائے گا اسی دوران نمرتا کے دوپٹے کی ڈی این اے رپورٹ بھی
پنجاب فارنسک لیب لاہور سے آگئی

جس میں بھی یہ ہی کہا گیا کہ دوپٹے سے کوئی ڈی این اے حاصل نہیں کیا
جاسکا ماہرین کا کہنا ہے کہ کپڑے پر اگر خون لگا ہو یا ایسا کوئی لیکوئیڈ
مواد لگا ہو جو کہ جم جائے تو کئی دنوں تک بھی ڈی این اے حاصل کیا جاسکتا ہے
تاہم جسم کے ٹشوز عمومی طور پر صرف 72 گھنٹوں تک ٹریس کیے جاسکتے ہیں
جبکہ نمرتا کے گلے میں بندھا دوپٹہ واقع کے ایک ہفتے بعد بھیجا گیا تھا
اور موقع پر کئی لوگوں کے ہاتھ بھی اسے لگ چکے تھے

جس کے باعث یہ ہی رپورٹ آنا متوقع تھی اس دوران زیرحراست دونوں
طالبعموں کے وائیواز یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پولیس کی زیر
حراست ہی لیے گئے 30 نومبر کو ڈسٹرکٹ ائینڈ سیشن جج اقبال حسین
میتلو نے 17 صفحات پر مشتمل اپنی جوڈیشل انکوائری رپورٹ ہوم سیکریٹری
سندھ عثمان چاچڑ کو بھجوائی جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں صرف کورنگ لیٹر بھجوایا
گیا

رپورٹ پر واضع طور پر لکھا گیا کہ ایس ایس پی لاڑکانہ اور وائس چانسلر
چاہیں تو ہوم ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ حاصل کرسکتے ہیں آج رپورٹ جاری
ہوئے چھٹا روز ہے اور واقع کو ڈھائی ماہ گزر چکے ہیں نہ کوئی مقدمہ درج
کیا جاسکا ہے نہ طالبعلموں کو چھوڑا گیا حکومت کی جانب سے رپورٹ پر
مشاور ت جاری ہے

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں نمرتا کے کپڑوں اور وجود سے ملنے والے
نامعلوم شخص کے ڈی این اے کے متعلق تحقیقات آگے بڑھانے کیلیے
اسٹیٹ کی جانب سے مقدمہ درج کروانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ
ہوم سیکریٹری سندھ عثمان چاچڑ کی جانب سے نمرتا معاملے پر عدالتی
رپورٹ حاصل کرنے کیلیے وائس چانسلر جامع بینظیر بھٹو میڈیکل
یونیورسٹی اور ایس ایس پی لاڑکانہ کو فلحال مراسلا لکھنے سے بھی روک
دیا گیا ہے

تاکہ رپورٹ کو میڈیا سے دور رکھا جائے ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں
نمرتا ہلاکت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نمرتا کی کلینیکل
رپورٹس سے قتل کے شواہد نہیں ملے جبکہ نمرتا کی موت کی وجہ مہران ابڑو
کے شادی سے انکار پر ذہنی دبائو کو بتایا گیا ہے

انکوائری رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹل میں نصب
کیمروں کی کم تعداد کی نشاندہی اور عملے کی لاپرواہئیوں کا بھی ذکر کیا گیا
ہے جبکہ پولیس کی جانب سے واقع کے ایک ماہ بعد جائے وقوع سے فنگر پرنٹس
حاصل کرنے اور گلے میں بندھے دوپٹے کو ڈی این اے کیلئے ایک ہفتے کی تاخیر
سے بھیجنے پر پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں

تاہم نمرتا کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر امرتا کی جاری کردہ حتمی
پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مبہم اور
پروویشنل پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متضاد قرار دیا گیا ہے انکوائری رپورٹ
میں بتایا گیا ہے کہ نمرتا کہ ورثہ مقدمہ درج کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے

دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب نمرتا کے ورثہ اس رپورٹ کو منظر
عام پر نہیں لانے دینا چاہتے جبکہ آج تک انکے اپنی جانب سے کروائے گئے
ٹیسٹ کے رزلٹس بھی سامنے نہیں آئے جوڈیشل انکوائری سے قبل پولیس کی
جانب سے انسے بار بار رابطہ کرکے انہیں مقدمہ درج کروانے کا کہا گیا

ورثہ کی جانب سے ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ اور ایس ایس پی مسعود
بنگش سے ملاقات بھی کی گئی اور اس ملاقات میں بھی انہوں نے مقدمہ درج
کروانے سے معذرت کی گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران وائس چانسلر جامع بینظیر بھٹو
میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر انیلا عطا الرحمان کو بھی کئی کٹھن مراحل سے گزرنا
پڑا پہلے سے ہی انکے خلاف لوئر اسٹاف یونین سراپا احتجاج تھی

ابھی انکے مسائل ختم ہی ہوئے تھے نمرتا کا واقعہ رونما ہوگیا اس دوران پہلے روز
جب میڈیا نے انہیں اسپتال میں گھیرا اور سوالات کیے تو انہوں نے کہا کہ بظاہر
یہ واقع خودکشی لگتا ہے جس پر انکے خلاف ڈھائی مہینے تک احتجاج چلتے رہے
کہ انہوں نے وقت سے قبل اسے خودکشی قرار کیوں دیا

جبکہ پروفیسر انیلا عطا رحمان کا کہنا تھا کہ وہ لندن سے پی ایچ ڈی ڈاکٹر
ہیں اور گزشتہ 35 سالوں سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں انہوں نے
اپنا فیصلا نہیں پوچھے جانے پر صرف سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنی رائے
کا اظہار کیا تھا

جس کی انہیں بہت بھاری قیمت چکانا پڑی سندھ حکومت کی جانب سے
انکے بیان دینے پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی تاہم پابندی سے قبل انکا
کہنا تھا کہ وہ نمرتا سے برائے راست کبھی نہیں ملیں نہ ہی نمرتا کبھی کوئی
شکایت لے کر انکے پاس آئیں اور نہ ہی کبھی موبائل پر بات ہوئی اور یہ بات
کال ڈیٹا ریکارڈ سے بھی ثابت ہوئی تاہم بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کے ٹیچر ڈاکٹر
امر لعل جو کہ نمرتا کے ٹیچر بھی تھے نے جوڈیشل انکوائری میں بیان ریکارڈ
کروایا کہ نمرتا پریشان رہتی تھی اور کئی بار وہ پریشانی کے عالم میں ڈاکٹر
امر لعل کے پاس بھی گئیں تاہم کبھی اپنا مسئلہ نہیں بتایا زیرحراست طالبعلم
علیشان میمن نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ نمرتا میں اور
مہران اچھے دوست تھے اور نمرتا مہران میں شادی کی حد تک دلچسپی رکھتی
تھی اور اس بات سے اسکے اہلخانہ واقف تھے انہوں نے نمرتا کو ہم دونوں کے
ساتھ ملنے جلنے سے بھی منع کیا ہوا تھا

تاہم وہ اپنی فیملی کو بتائے بغیر ہم سے ملتی تھی ہم اچھے دوست تھے
ذرائع کے مطابق نمرتا کے ورثہ نے جوڈیشل انکوائری جج کو بھی معاملے کو
آگے نہ بڑھانے کی استدعا کی اور اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ کچھ بھی کرنے
سے اب نمرتا کبھی نہیں لوٹے گی لہذا اس معاملے کو ہمیشہ کیلیے یہیں ختم
کردیا جائے

نمرتا واقعہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جسے روکنا یا جس کے متعلق بات
کرنے سے روکنا اب کسی کے بس میں نہیں حالیہ طلبہ یکجہتی مارچ میں
بھی نمرتا کی تصاویر اٹھا کر نوجوان طالبعلموں نے انصاف کا مطالبہ کیا
دیکھنا یہ ہے کہ اب سندھ حکومت کیسے اس معاملے کو حل کرتی ہے
اور ان دو زیرحراست طالبعموں کے نصیب میں کیا لکھا جاتا ہے، نامعلوم
ڈی این اے والے شخص کا تعاقب کیا جائے گا کہ نہیں کیوں کہ ابھی تک
کوئی بھی پولیس کے پاس خود سے پیش نہیں ہوا

آخر وہ ڈی این اے کسی ایسے شخص کا ہے جو نمرتا کے بے حد قریب
تھا کیا پتہ نمرتا اس کے باعث ذہنی دبائو کا شکار تھی یہ تمام کڑیاں صرف
تب ہی کھل سکیں گیں جب پولیس خود سے ایف آئی آر کاٹ کر بلا تفریق
تحقیقات کا آغاز کرے گی اور نمرتا کے عزیز و عقارب کو بھی تفتیش کا حصہ
بنائیں گیں اور جس طرح قصور واقع میں ڈی این اے اکٹھے کیے گئے تھے
اسی طرح ڈی این اے اکٹھے کرنے کی ضرورت ہے

عمومی طور پر ایسے کیسز میں کوئی بے حد قریب اور اپنا ہی اصل وجہ ثابت
ہوتا ہے آخر کوئی تو وجہ بنی کے ایک ہنستا مسکراتا زندگی سے بھرپور چہرہ
ہمیشہ کیلیے آنکھوں سے اوجھل ہوگیا مکمل حقائق سامنے لانے ہیں اور نمرتا
کو انصاف دینا ہے تو آزاد پولیس تحقیقات ناگزیر ہیں۔

Facebook Comments