علی ظفرکیس،میشا شفیع سامنے آگئیں

شیئر کریں:

میشاء شفیع حراسگی کے الزامات عائد کرنے کے 19 ماہ بعد پہلی دفعہ کسی عدالت میں پیش ہو گئی ہیں۔
میشاء شفیع کو عدالت نے بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کر رکھا تھا۔
ایڈشنل سیشن جج امجد علی شاہ کی عدالت میں میشاء شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس زیر سماعت ہے۔

میشاء شفیع نے علی ظفر پر حراسگی کا الزام 19 اپریل 2018 کو لگایا تھا۔
مئی 2018 میں علی ظفر نے میشاء شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
عدالت میں اب تک 17 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ چلنے والے کیس میں میشاء شفیع پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
علی ظفر عدالت میں چھ مرتبہ پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرا چکے ہیں۔
علی ظفر نے اپنے بیان میں میشاء شفیع کے لگائے جانے والے الزامات کو جھوٹا قرار دیے جانے سے متعلق متعدد شواہد پیش کیے۔
شواہد میں میشاء شفیع کا علی ظفر کو کیے جانے والا مسیج بھی شامل ہے۔
میشاء شفیع نے علی ظفر پر 21 دسمبر 2017 کو جیمنگ سیشن میں ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
علی ظفر/ میشاء شفیع کے 23 دسمبر کو کیے جانے والے واٹس ایپ مسیج کو بھی عدالت کے روبرو پیش کر چکے ہیں۔
واٹس ایپ مسیج میں میشاء شفیع نے لکھ رکھا ہے کہ کنسرٹ اور جیمنگ سیشن میں خوشگوار وقت گزرا۔
میشا اپنے اس وقت کے ساتھی علی ظفر کے اسٹیج پر کہے گئے الفاظ پر شکر گزار بھی رہیں۔
علی ظفر کی جانب سے 14 گواہ عدالت میں اپنے بیان قلمبند کرا چکے ہیں۔
جیمنگ سیشن میں موجود تمام افراد عدالت میں حراسگی کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
میشاء شفیع کی جانب سے ان کی والدہ صباء حمید، ادکارہ عفت عمر اور منیجر فرہان علی اپنے بیان قلمبند کرا چکے ہیں۔
والدہ میشاء شفیع کا کہنا تھا کہ میشاء نے علی ظفر کے خلاف ٹوئیٹ کرنے سے پہلے مجھ سے اصلاح لی تھی۔
عفت عمر کہہ چکی ہیں کہ میں نہیں سمجھتی کہ میشاء جھوٹ بول رہی ہے۔
میشا کے منیجر فرحان کہتے ہیں میں جیمنگ سیشن میں موجود تھا لیکن ہراسگی کا کوئی واقع اپنے آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ اندر باہر آ جا رہا تھا شاہد غور نہ کیا ہو۔
میشاء شفیع کی گواہی کے بعد علی ظفر کے وکلاء ان سے سوالات کریں گے۔
لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ کی مصروفیت کے باعث سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
میشا شفیع کے ساتھ ان کی والدہ صبا حمید بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔
عدالت نے ہفتہ کو دوبارہ میشا شفیع کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔


شیئر کریں: