December 6, 2019 at 12:21 pm

تحریر:کہکشاں بخاری

کراچی کی ایک ایسی مارکیٹ جہاں سگریٹ جلانے سے جان بھی جا سکتی ہے ۔
جی ہاں‌ماضی میں ایمپریس مارکیٹ کا حصہ رہنے والی بلدیہ شرقی میں موجود
شہاب الدین مارکیٹ کو مناسب قیمت پر خریداری کرنے والوں کے لئے ایک
آئیڈیل پلیس تصور کیا جاتا ہے ۔

بارہ سال قبل سابق مئیر سید مصطفی کمال نے کراچی دیویلپمنٹ اتھارٹی
کی زمین پر ساڑھے تین سو دکانیں الاٹ کیں ایک پرانے دکاندار کے مطابق
کچرے کے ڈھیر پر مارکیٹ کی بنیاد رکھی گئی، تین حصوں پر مشتمل اس
مارکیٹ میں دکانداروں نے اپنے کاروبارکو خوب محنت سے چمکایا ۔

دن دھاڑے چوروں ڈکیتوں سے بھی لٹے تو کھبی شدید بارشوں میں سفر
طے کرکے گھر کو راہ لی، شہاب الدین مارکیٹ نے ماضی سے لے کر آج
تک سفید پوش افراد کا بھرم رکھا لیکن آج اس مارکیٹ میں ماچس کی
تیلی اور سگریٹ جلانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مارکیٹ اور اس کے اطراف میں گیس کے ذخائر
موجود ہیں جس کے باعث نہ صرف زمین ایک فٹ دھنس چکی ہے
بلکہ کسی میں جرت نہیں کہ مارکیٹ میں ماچس جلا سکے ۔

سات سال پہلے دکانداروں نے گیس کی لیکج کو محسوس کرکے سوئی
گیس کے حکام کو خط لکھا جس کا جواب آج تک موصول نہیں ہوا ہے
لائینز ایریا پروجیکٹ دیپارٹمنٹ میں درخواستیں بھی دائر کرائی گئیں
لیکن کسی نے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے ان حضرات کی آواز پر
لبیک نہ کہا

چند دن پہلے محکمہ سوئی گیس کے کچھ افسران نے علاقے میں گیس
کے پوائنٹ ڈھونڈنے کے لئے کھدائی شروع کی اور ایل پی ڈی کے کہنے
پر مٹی ڈال کر معاملے پرہی مٹی ڈال دی اور بغیر کوئی نتیجہ دئیے روانہ
ہوگئے

دکانداروں کے مطابق گیس کی لیکج سے مارکیٹ کی ایک فٹ
زمین دھنس چکی ہے جبکہ دکانوں کی زمین پر پڑی دراڑیں خطرے
کی گھنٹی بجنے کا اعلان کررہی ہیں

گیس کے زخائر کی موجودگی سے جہاں دکانوں کو نقصان پہنچا ہے
وہیں دکانداروں کی جانوں پر بھی بن آئی ہے مارکیٹ کے اطراف میں
لگے کچرے کے انباروں کو جلایا گیا تو گیس کے زخائر کا سراغ لگانے
کے لئے کھودی گئی زمین اور مین ہولز میں آگ بھڑک اٹھی
زرائع کے مطابق ماضی میں بھی گیس کا پریشر موجود ہونے سے
لگنے والی آگ نے پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دکانداروں
نے بھاری مالیت کا نقصان اٹھایا تھا

کے ڈی اے حکام اس تمام معاملے سے بری الذمہ نظر آتے ہیں جبکہ مارکیٹ
کے صدر محمد اسلم کہتے ہیں کہ مصطفی کمال کے جاری کردہ حکم نامے پر
ماضی میں کوئی بول نہیں سکتا تھا ۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کے بارہ سال قبل بننے والی شہاب الدین مارکیٹ میں
جان ہتھیلی پر رکھ کر کاروبار کیا جارہا ہے جبکہ سیاسی مفادات کی وجہ سے
مسئلے کا حل نہیں نکل رہا ”

گیس کی موجودگی اور آگ کے خوف سے علاقہ مکین کم ہی مارکیٹ کا رخ
کرتے ہیں جس کی وجہ سے دکانداروں کے کاروبار پر فرق پڑھ رہا ہے لیکن اس
صورت حال کا ذمہ دار کون ہے اور کس کے زریعے یہ مسئلہ حل ہوسکے گا
اس سوال کا جواب کہیں سے نہیں مل پارہا ہے ۔

Facebook Comments