December 5, 2019 at 5:18 pm

تحریر: محمد احمد

عدالت عظمیٰ میں آج پاک گلف کنسٹرکشن کمپنی اور سینٹورس مال
تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی۔ مستقبل کے چیف جسٹس گلزار احمد
کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی۔ مقدمے میں
پچھلی سماعت کے تناظر میں سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔

رپورٹ پیش کرنے کی دیر تھی کہ سی ڈی اے حکام کے لیے ایک سخت ترین
امتحان کا آغاز ہوگیا یا اگر کہا جائے کہ سی ڈی اے کی سرزنش کا آغاز ہوا
تو یہ بھی غلط نہ ہوگا۔ جسٹس گلزار احمد نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے
کہ جس نے رپورٹ پیش کی ہے اس نے آرڈر نہیں پڑھا، رپورٹ میں سی ڈی اے
کی جانب سے الف لیلیٰ کی کہانی لکھی گئی ہے۔

روسٹرم پر پیش ہوئے ممبر سی ڈی اے شاہد محمود، جسٹس گلزار نے
ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ شاہد صاحب اگر کام کی سمجھ نہیں
آتی تو کام چھوڑ دیں، عدالت کے ساتھ کیا کھلنڈر پن ہورہا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کا کیا حال
بنادیا ہے، سینٹورس مال کے تجاوزات ابھی تک ویسے کے ویسے ہی ہیں،
سی ڈی اے کو کیا ضرورت ہے پارکنگ کے لیے جگہ دے، جالی ڈال کر بند
کردیا لیکن پانچ ہزار موٹرسائیکل کھڑی ہوتی ہیں۔

اس موقع پر معذرت کو اپنا آخری حربہ سمجھتے ہوئے ممبر سی ڈی اے
نے کہا کہ ” آئی ایم سوری ” لیکن یہ حربہ بھی ان کی کارکردگی کے باعث
زیر قاتل ہی ثابت ہوا۔ جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے
کہا کہ خاموش ہو جائیں سوری مت بولیں، آپ لوگ سیٹوں کو گرم کرنے کے
لیے دفتروں میں آکر بیٹھ جاتے ہیں،

اسلام آباد میں تمام روڈز پر مٹی دھول اور گڑھے نظر آتے ہیں
اور سڑکوں پر کسی درخت کا کوئی نام و نشان نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ 1960 کا ماسٹر پلان دکھائیں
اگر کچھ بھی اس سے باہر ہے تو وہ گرادیں، اللہ تعالیٰ نے اسلام آباد
کو قدرتی خوبصورتی دی ہے اور سی ڈی اے نے گندگی پھیلا کر
سب کچھ ختم کردیا ہے،

اکثر پیدل چلنے والوں کے لیے پل ہی نہیں ہیں، پورے شہر میں
بدبو اور گندگی ہے، شہراہ دستور کے علاوہ انتظامیہ کہیں کام کرنے
کی زحمت ہی نہیں کرتی، ڈی چوک اتنا بلند ہوگیا ہے کہ قومی
اسمبلی نیچے چلی گئی ہے۔

تاہم عدالت نے چیرمین سی ڈی اے، چیرمین این ایچ اے اور اٹارنی
جنرل کو فوری طلب کیا۔ چیرمین سی ڈی اے تو سر پر پیر رکھے
عدالت پہنچے تاہم باقی دونوں شخصیات نہ پہنچ سکیں۔ عدالت نے
سماعت کو کل تک ملتوی کردیا اور کل تینوں شخصیات عدالت کے
روبرو پیش ہوں گی جہاں حکام کی سخت سرزنش کے امکانات ہیں۔

Facebook Comments