فضائیہ اسکیم ،شہریوں کے 13 ارب ڈوب گئے

شیئر کریں:

(رپورٹ عامر حسینی)

پاکستان ائر فورس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی ‘پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم’ کے بارے میں
انکشاف ہوا ہے کہ اس نے پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے اجراء میں 6000 ہزار
شہریوں سے 13 ارب روپے کے فارم فروخت کرڈالے۔ فاؤنڈیشن کے نام کراچی میں سرے سے
کوئی زمین ہی نہیں ہے۔

پاک فضائیہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق مارچ 2015ء میں
کراچی کے اندر ایک شاہانہ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کا اعلان ہوا اور اس کے تحت
فارم کی فروخت شروع کردی گئی۔ 6 ہزار کے قریب شہریوں نے اس اسکیم میں تیرہ ارب
روپے کی سرمایہ کاری کرڈالی۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ پاک فضائیہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن
کے پاس تو سرے سے کوئی زمین ہی نہیں جہاں پر یہ ہاؤسنگ اسکیم بنائی جائے گی۔

جب پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم شروع ہوئی تو اس سلسلے میں جو اشتہارات اخبارات
میں شایع اور الیکٹرانک میڈیا میں نشر ہوئے ان میں اس اسکیم کو باقاعدہ منظور شدہ لکھا
گیا۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکمے میں بھی اس رہائشی اسکیم کے
بارے میں خاموش رہے۔

شہریوں کو پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے غیر قانونی ہونے کا انکشاف اس وقت ہوا
جب چار سال کی مدت کے بعد اینٹی کرپشن کراچی اسٹیبلشمنٹ نے 17 فروری،2019 کو
اخبارات میں ایک اشتہار دیا جس میں پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کو فراڈ اسکیم قرار دیا
اور اس میں سرمایہ کاری کرنے سے شہریوں کو باز رہنے سے کہا۔لیکن اس وقت تک 6 ہزار
شہری اس فراڈ اسکیم میں اپنے 13 ارب روپے ڈبوچکے تھے۔

اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کراچی کی جانب سے 17 فروری کو پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم
کے فراڈ ہونے کا اشتہار شایع ہونے کے بعد اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن نے ایک اشتہار
اخبارات میں شایع ہونے کو دیا جس میں بیرون ملک آباد پاکستانی شہریوں نے
وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کی کہ انہوں نے اپنا سرمایہ پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم
کراچی میں لگایا جو اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کراچی کے اشتہار میں فراڈ اسکیم قرار دے
دی گئی ہے۔ ان کا پیسہ ان کو واپس دلایا جائے۔

ڈی جی پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم نے رہائشی اسکیم میں مبینہ فراڈ کی خبریں عام ہونے پر
الیکٹرانک میڈیا سے گفتگو میں یہ بات تسلیم کرلی کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے نام کوئی زمین
نہیں ہے بلکہ جن بلڈرز کے ساتھ مل کر فاؤنڈیشن نے یہ اسکیم شروع کی وہ زمین فراہم کریں گی ۔

انگریزی روزنامہ ڈان کی اشاعت چار اپریل 2019 میں ایس حیدر ‏عباس نے ایڈیٹر کے نام خط لکھا
اور اس میں بتایا کہ وہ پاک فضائیہ ہاؤسنک اسکیم میں ڈاؤن پیمنٹ اور نو اقساط بھر چکا ہے اور
اب اسے ڈان اخبار میں چھپے اشتہار سے پتا چلا کہ یہ اسکیم فراڈ ہے اور اس میں سرمایہ کاری
نہ کی جائے۔ شہری کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اس نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ کو کئی
ای میلز کیں اور اسکیم بارے چھپے اشتہارکے بارے میں پوچھا لیکن اسے کوئی ٹھوس جواب نہیں
ملا الٹا مزید اقساط بھرنے کو کہا جارہا ہے۔

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان ائر فورس جیسے ادارے کے نام پر مبینہ فراڈ اس کے لیے
کافی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔نومبر کی 29 تاریخ ،2019ء کو اخبارات میں خبر
شایع ہوئی کہ قومی ادارہ احتساب کے کراچی دفتر نے چئیرمین نیب کی ہدایات پر پاک
فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں چھے ہزار شہریوں سے 13 ارب روپے کے مبینہ فراڈ پر
ازسر نو انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اینٹی کرپشن کراچی اسٹبلشمنٹ کو اس اسکیم کے
اجراء ہونے کے ایک سال بعد ہی درخواستیں ملنا شروع ہوگئی تھیں لیکن اس
نے پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کو فراڈ اسکیموں کی لسٹ میں شامل
کرنے میں چار سال لیے اور فروری سے اب تک پورا سال گزرنے کے باوجود وہ
اس اسکیم میں مبینہ فراڈ کا شکار ہونے والے شہریوں کے ساتھ انصاف کرنے
میں ناکام رہے۔

نیب کو پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراجی میں شہریوں سے فراڈ کا معاملہ
گزشتہ تین سالوں سے بتایا جاتا رہا ہے۔ لیکن پہلے ابتدائی انکوائریوں کو ہی
ڈراپ کیا جاتا رہا۔ اب جبکہ اس اسکیم میں لٹنے والے شہریوں نے احتجاج شروع
کیا اور ڈی جی پاک فضائیہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا گھیراؤ ہوا تو نیب نے ایک
بار پھر انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیچ ‘ پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم
فراڈ ہے’ کے نام سے موجود ہے۔اس پیج میں ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے سائٹ آفس پر کام
کرنے واے ایک ملازم کا خط موجود ہے جس میں اس نے بتایا کہ اس نے ڈی جی
پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کو دوسرے مجاز افسران سے یہ بات کرتے سنا کہ وہ
اسکیم کے لیے زمین کے حصول پر غور کررہے ہیں۔

اس سے ملازم نے یہ نتیجہ نکالا کہ پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے لیے
زمین سرے سے موجود نہیں ہے اور فاؤنڈيشن صرف فارم بیچ کر رقم اکٹھی
کررہی ہے۔

پاک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم نے چھے ہزار شہریوں کو 17 ہزار فارم فروخت
کیے جن سے اب تک اس نے 13 ارب روپے اکٹھے کرلیے۔ اس اسکیم کی مد میں
ایک گز زمین بھی فاؤنڈیشن کے پاس کراچی میں موجود نہیں ہے۔

تیرہ ارب روپے کا چھے ہزار شہریوں سے مبینہ فراڈ کرنے والی پاک فضائیہ ہاؤسنگ
فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کے خلاف اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ڈی جی پاک فضائیہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن اتنے بڑے الزام کے بعد بھی اپنے عہدے پر
کام کررہے ہیں۔

مبینہ فراڈ کے حوالے سے ڈی جی ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے شہریوں کے احتجاج کی
بہت سی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ فراڈ سے متاثر ہونے والوں نے
رابطہ کرکے ویڈیوز فراہم کی ہیں۔ کئی ایک کا کہنا ہے کہ انہیں گمنام نمبرز سے
دھمکی آمیز کالیں موصول ہورہی ہیں۔

اسکیم کے بارے میں میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرنے کی صورت میں سنگین
نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔


شیئر کریں: