پشاور اب تاجروں کے لیے نہ رہا

شیئر کریں:

تحریر:آفتاب مہمند

پشاور کے مشہور اورتاریخی بازاراندرشہر میں کئی سونار دیکھے جو لڈو کھیل رہے تھے
اسی آثنا اچانک نظرکئی اور سوناروں پر پڑی جوآپس میں بیٹھے گپ شپ کررہے تھے۔
پشاور کااندر شہر بازار جو سونے کے کاروبار کے حوالے سے خیبر پختونخوا کاسب سے بڑا
اور مرکزی بازار تصور کیاجاتاہے۔

چند سال قبل یہاں روزانہ کے بنیاد پرایک ارب سے زائد کاکاروبار ہوا کرتاتھا اب کروڑوں
میں بھی بمشکل نہیں ہورہا۔کئی جیولرز سے وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ آجکل سونے کے
خریدار کم اور فروخت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے ۔وہ لوگ جو گھروں کیلئے سونا
بناتے تھے یا جنہوں نے بنالیا ہے۔

معاشی حالات سے مجبور ہوکر اب وہ کم نرخوں پرفروخت کرنے لگ چکے ہیں۔
ایسے میں سونار بھی پریشان ہیں کہ اگر وہ کسی سے سونالے بھی تو اس پر کیا
کریں گے۔یہ صرف پشاوراندر شہرکی کہانی نہیں پشاور کا قصہ خوانی بازار ہو،
صدر بازار، کارخانو مارکیٹ ، پیپل منڈی ،اندرون شہر،یونیورسٹی روڈ سمیت جہاں ب
ھی جانا پڑتا ہے توکاروباری مراکز سے وابسطہ کاروباریوں کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں
ہوتاہے

کب اپنے اپنے بڑے روزگار سے جان چھوٹ کر معمولی ساکاروبار شروع کیاجائے۔
جہاں لاکھوں میں کمائی ہوتی تھی اب چونکہ صورتحال وہ نہ رہا۔اخراجات بڑھتے
جارہے ہیں، کمائی کی شرح میں 50فیصد یا اس سے بھی کم پڑ گئی ہے لہذا یہی وجہ
ہے کہ شہر کے ہزاروں تاجر ودیگر کاروباری افراد چھوڑ چکے ۔ہر جگہ دکانیں کرائے
کیلئے خالی نظر آئیں گے۔

سلسلہ ابھی تھما نہیں اگر حالات یوں رہتے ہیں تو آنے والے دنوں میں مشکلات میں
اضافہ ہوگا۔جہاں درمیانی طبقہ سے وابسطہ لوگ کاروبار کررہے ہیں یقینا بڑھتے ہوئے
اخراجات کے باعث انکے کاروبارکاپیمانہ بھی محدود ہورہ گیاہے ۔زیادہ نقصان کروڑوں ولاکھوں
روپے کے کاروباری افراد کو پہنچا ہے۔

شہر کے تمام بازارجو کئی سال پہلے بے تحاشہ رش ہوا کرتاتھا اور خرید وفروخت بھی ہوا
کرتی تھی۔ رش ابھی بھی نظر آئے گا لیکن خرید وفروخت میں پچاس فیصد سے بھی زائد کی
کمی آچکی ہے ۔پشاور جو تاریخ کے حوالے سے سلطنت کوشان کا دارالخلافہ رہاہے۔
سلطنت مغل، سکھ ، درانی سلطنت سمیت کئی ادوار میں افغانستان ، سنٹرل ایشااور
کئی ممالک کے مابین تاریخ میں ایک اہم تجارتی گزرگاہ رہاہے۔

دنیا کے سب سے اہم پراجیکٹ پاک چائنہ راہداری منصوبے کے حوالے سے بھی
پشاور کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ورلڈ بینک کی 2014کے
ایک رپورٹ کے مطابق پشاور شہر کو تجارت کیلئے ایک مفید شہر قرار دے دیاگیاتھا۔
اسی طرح 2015کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور میں پہلے فی کس آمدنی 55ہزارروپے
تھی جو اب نہ رہی۔

یقینا شہر میں کاروباری سرگرمیوں کو 9/11کے بعد فوری اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا
گزشتہ دو،تین سال میں پہنچاہے۔ کئی وجوہات ہیں ،خیبر پختونخوا حکومت کے سب
سے بڑے پراجیکٹ بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر جب کام کا آغاز ہوا تو لوگوں کی آمد ورفت
اور خرید وفروخت میں کمی واقع ہو کر تاجر برادری متاثر ہونے لگی

جیسا کہ زیادہ تر تجارتی مراکز اسی منصوبے کی گزرگاہ کے ساتھ وابسطہ یاجوڑے ہوئے ہیں۔
باقی موجودہ حالات میں رہی سہی کثر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسز میں اضافے نے پوراکیا ۔
اب پشاور میں جہاں بھی جائے تو بڑے بڑے تجارتی مراکز ،دکانیں ، مارکیٹ ، شوروم وغیرہ میں
بیٹھے کاروباری لوگ سخت پریشان نظر آرہے ہیں ۔

کسی بھی شہر میں جب بڑے اورمڈ لیول کے کاروبار گر جاتے ہیں یقینا چھوٹے چھوٹے
کاروبار بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔پشاور کے تاجر برادری کے مطابق دو،تین سال میں انکا
کھربوں میں نقصان ہوچکاہے۔اگر شہر کو سنٹرل ایشیئن ودیگر ممالک کے مابین دوبارہ
تجارتی گیٹ وے بنانا ہے تو یقینا پشاور اور آس پاس تجارت کو بحال کرنا ہوگا۔

تاجر برادری کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے شہر کو چند سال کیلئے فری ٹیکس زون قرار
دینا ہوگا۔ کئے گئے نقصان کا ازالہ بھی لازمی کرناہوگا۔سب سے اہم بات کہ یہاں کی
لاکھوں لوگوں کا اعتماد بحال کرناہوگا اور جدید دور کے تقاضے و ضرورت کے مطابق نئی
تجارتی پالیسیاں اپنانے واقدامات کرنے ہونگے اگر ایسا نہیں ہوتا تو آنے والے دن شہر کے
کاروباریوں کیلئے مزید پیچیدہ اور مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔


شیئر کریں: